طے ہو گیا اک وصلِ سفر اور مکمل : حیدرقریشی
حیدرقریشی طے ہو گیا اک وصل سفر اور مکمل یہ چوٹی بھی اب ہو گئی سَر اور مکمل خِیرہ ہوئی تھیں آنکھیں ، خزانے کی دَمک سے جب کھل گئے اُس حُسن کے دَر اور مکمل آسیب بنے بیٹھے تھے مدت سے جو دل میں خود اُس نے نکالے وہی ڈر اور مکمل تردیدِ شبِ […]
