غزل : ثمینہ سید
ثمینہ سید آٓنکھوں کی ویرانی پر حیراں ہوں حیرانی پر آنکھ سے آنسو بہتے ہیں زور نہیں کچھ پانی پر پتھر بھی رو دیتے ہیں میری درد کہانی پر دردِ جدائی لکھا ہے ہر شب کی پیشانی پر پھول کنول کے کھلتے ہیں ٹھہرے ٹھہرے پانی پر جگنو اس […]
ثمینہ سید آٓنکھوں کی ویرانی پر حیراں ہوں حیرانی پر آنکھ سے آنسو بہتے ہیں زور نہیں کچھ پانی پر پتھر بھی رو دیتے ہیں میری درد کہانی پر دردِ جدائی لکھا ہے ہر شب کی پیشانی پر پھول کنول کے کھلتے ہیں ٹھہرے ٹھہرے پانی پر جگنو اس […]
مقصودعلی شاہ آنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کر اے دلِ مضطر مدینے کا سفر تدبیر کر یا الٰہی صبحِ مدحت لکھ مری تقدیر میں رات کے ماتھے پہ لفظِ روشنی تحریر کر نعت رنگوں کی خبر ہے اور خوشبُو کا سفر اذن ہو جائے تو پھر ہر حرف کو تنویر کر صبحِ […]
ترجمہ: صفدربھٹی سورۃ الانعام آیات 14 تا 16 بسم اللّہ الرحمن الرحیم 14. پوچھیے کہ کیا میں اللّہ کے علاوہ کوئ ولی پکڑ لوں جو پیدا کرنیوالا ہے آسمانوں اور زمین کا اور وہ کہ کھلاتا ہے، اور اسے نہیں کھلایا جاتا، کہ دیجیے کہ مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے […]
آغرؔ ندیم سحر اقبالؔ اور فیضؔ کی یاد میں نومبر کا مہینہ دو شاعروں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے‘اقبالؔ اور فیض اورنومبر میں ہی نامور افسانہ نگارو شاعر احمد ندیمؔ قاسمی بھی پیدا ہوئے۔یہی وجہ ہے اس نومبر میں ہونے والی زیادہ تر تقریبات کا موضوع اقبالؔ اور فیضؔ ہوتا ہے یا پھراحمد […]
ثمینہ سید عجیب سے دن ہیں نہ پہلے والے دنوں جیسے نہ آنے والے دنوں جیسے مخمصے، الجھنیں اور غلط فہمیاں رافع کچھ کہتا مجھے کچھ اور سمجھ آتی۔ یہ سب کب سے شروع ہوا تھا میں روز اندازہ کرتی مگر کوئی بھی سرا اب تک میرے ہاتھ نہیں آ سکا تھا۔ حالانکہ ہم دونوں […]
ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی ’’خضر ِراہ‘‘ علامّہ اقبال نے انجمن حمایت ِاسلام لاہور کے ۳۷ ویں سالانہ جلسے، منعقدہ ۱۶ اپریل ۱۹۲۲ء، میں ترنم سے پڑ ھ کر سنائی ۔ یہ جلسہ اسلامیہ ہائی سکو ل شیراں والا گیٹ میں منعقد ہوا تھا۔ چودھری محمد علی بتاتے ہیں: ’’ جلسے سے چند روز قبل ان کی […]
یوسف خالد آ کر لیں کسی طور محبت کا اعادہ مدت ہوئی پہنے ہوئے خوش رنگ لبادہ آنکھوں میں اداسی نے لگارکھے ہیں ڈیرے ڈر لگتا ہے ہو جائے نہ یہ ہجر زیادہ مشکل بھی ہو گر بات تو مشکل نہیں رہتی اسلوبِ بیاں اپنا ہے سادہ سے بھی […]
سعیداشعر روزانہ رات کے تقریباً بارہ بجے کھڑکی سے آنے والا باہر کا شور جب مدہم پڑ جاتا ہے کمرے کی خاموشی نوکیلی ہونے لگتی ہے اے سی کی بوسیدہ ٹھنڈک سے پاؤں جلنے لگتے ہیں کمرے میں بکھرے کاغذ زندہ ہو کر اڑنے لگتے ہیں لفظوں کے جگنو اور آنکھوں کے تارے آپس میں […]
شاہد جان اپنے رخ پر تری سانسوں کی ہوا رکھتے تھے باغ سے دور بھی ہم بادِ صبا رکھتے تھے ذائقہ اب وہ کہاں اب وہ کہاں بات کہ جب اپنے ہونٹوں پہ ترے لب کا مزا رکھتے تھے جام کے کام کا آغاز جدائی سے ہوا ورنہ […]