کالم

حکمِ الہی ، سفاری پارک میں موت اور مٹِیّ شِٹیّ : اقتدار جاوید

  پیش نوشت; فرضی بھی نہیں اور خیالی بھی نہیں ہے وہ شکل کوٸی بھولنے والی بھی نہیں ہے ظفر اقبال چوہدری شجاعت حسین کا قول روٹی شوٹی کھاٶ ِمٹّی ِشٹّی پاٶ ہمارے معاشرے کا سب سے زیادہ خوب صورت، بامعنی اور قابلِ عمل مقولہ ہے۔مقولے بھی اور ضرب الامثال بھی از خود جنم نہیں […]

غزل

غزل : انیس احمد

میں نے کب چاہا تھا لیکن آئی سلوٹ ماتھے پر وقت نے اپنے ہاتھوں آج بنائی سلوٹ ماتھے پر جب جوبن تھا مجھ پر تو سب آئینے تھے میرے ساتھ آج انہی نے ہنس کر مجھے دکھائی سلوٹ ماتھے پر اس دنیا میں ساتھ رہے ہیں میرے جو خوشحالی میں اب جو ہاتھ ملایا تو […]

غزل

غزل : عبدالباسط صائم

ایسا نہیں کہ ہجر نے مارا نہیں ہوا یوں ہے کہ دشتِ غم میں گزارہ نہیں ہوا مرشد تم ایسے شخص کو کہتے ہو کس طرح اک پل بھی جس نے دل میں گزارا نہیں ہوا منزل پہ آن کر بھی ۔۔۔ مقدر تو دیکھئے کندھوں سے ہم نے بوجھ اتارا نہیں ہوا اک بات […]

غزل

غزل : عطا ا لحسن

اِدھر فسردہ ہوں میں اور اُدھر وہ روتا ہے وہی ہوا ہے محبت میں جو کہ ہوتا ہے میں اس لیے ترا احسان مند ہوں مرے دل مرے کہے پہ تُو جذبوں کا بوجھ ڈھوتا ہے بھنور میں لاتا ہے عُجلت پسند ہونا بھی وگرنہ پانی فقط ناؤ کب ڈبوتا ہے اب آ گئے ہیں […]

حبیب جالب

میں نہیں مانتا : حبیب جالب

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بےنور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی […]

تنقید

مسئلہ کشمیر اور ھمارے دانشور ادیب : پروفیسر فتح محمد ملک

صاحب طرز انشاءپرداز اشفاق احمد کے ایک افسانے کی مرکزی کردار مظلوم کشمیری لڑکی شازیہ اُردو کے نامور ادیبوں اور شاعروں کے پاس یکے بعد دیگرے جاتی ہے اور ان میں سے ہر ایک کی خدمت میں کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ پیش کرتی ہے مگر سارے کے سارے ادیب کشمیریوں […]

غزل

غزل : محمودپاشا

وقت جاتا رہا ہے کل کل کا فیصلہ آ گیا ہے عادل کا کربھی سکتا ہوں میں اسے تقسیم آخری  واسرائے  ہوں  دل  کا تو نے رکھ دی ہے میرے سینے پر کیا کروں اب بتا میں اس سل کا میں تو رہتا ہوں آستینوں میں میں کہاں سانپ ہوں کسی بل کا جو ہے […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین

پاس رہتے رہتے کیسے ہم جدا ہوتے گئے دیکھتے ہی دیکھتے پھر نا رسا ہوتے گئے آنکھ بہتے پانیوں میں اک دیا بن کر رہی بھید سارے ایک دریا سے جدا ہوتے گئے پہلے شکوہ کر رہے تھے ہر گھڑی تم سے نیا پھر ہوا ایسے کہ خود سے ہم خفا ہوتے گئے چند گھڑیوں […]

نظم

ماضی : فیض محمد صاحب

دیوار میں لگی کھڑکی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا اس کی باہوں سے سانسوں میں اترتی خوشبو میں میں تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں جاناں طویل بارشوں کےسلسلہ ہے اور پرانی تصویریں دیکھ دیکھ کر سہانے موسم کا پل پل رنگیں کر رہا ہوں اتنے برسوں کے بعد بھی میرا دل تمہاری چاہت میں دھڑکتا ہے […]

غزل

غزل : عتیق اختر افغانی

کیوں اُڑاتا ھے وہ بے پر نہیں اچھا لگتا جس میں سودا ھی نہ ھو سر نہیں اچھا لگتا در بدر کیوں تو بھٹکتا ھے تمنا کیا ھے اے میرے عشق تجھے گھر نہیں اچھا لگتا اس کو سمجھا ھی نہیں دل سے کسی نے شاید پیار کا نام ستمگر نہیں اچھا لگتا میں جو […]