کالم

امکان : پروفیسریوسف خالد

وطنِ عزیز کے سماجی منظر نامے پر اگر نظر دوڑائی جائے تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے – کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ملک کے ہر شعبہء زندگی میں مفاد پرست اور طاقت ورافراد کی ایک پوری نسل موجود رہی ہے جس نے بد قسمتی سے اپنے ملک سے کم […]

بک شیلف

’’ اخبارِ اُردو‘‘ میں کشمیر سے متعلق مضامین ۔۔۔ ایک تاثر : شبیر احمد قادری

"مُقتدرہ قومی زبان” کا قیام ١٩٧٣ ٕ کے آئینِ پاکستان کی شِق نمبر ٢٥١ کے تحت اکتوبر ١٩٧٩ ٕ میں عمل میں آیا ۔اِس اِدارے کے قیام کے مقاصد یہ تھے کہ قومی زبان اُردو کے بحیثیت سرکاری زبان نفاذ کے سلسلے میں مشکلات کو دُورکرکے اور اُس کے اِستعمال کو عمل میں لانے کے […]

تنقید

ادبی تھیوری اور رولاں بارت …بنیادی معروضات : محمد عامر سہیل

ادبی و تنقیدی نظریات کی مغربی تاریخ میں جن تصورات نے چونکا دیا اور تفہیم،تعبیر اور تجزیے کے نئے زاویوں سے روشناس کروایا ان میں اکثر تصورات انتہا پسندی کا شکار ہوئے۔آج ان نظریات پہ جو انفرادی یا اجتماعی اعتراض ہے وہ ان کی انتہا پسندی ہے۔یہاں انتہا پسندی سے مراد متن (بالخصوص ادبی) کی […]

غزل

غزل : جلیل عالی

ترکش تہی ہے ٹوٹ چکی ہے کمان بھی وحشی ہوا سے ڈول رہی ہے مچان بھی وہ دن بھی تھے کہ ایک زمانہ تھا ہمرکاب یکتا تھا اپنی آرزوؤں کا جہان بھی آفت میں نامِ رب جو مرے لب پہ آ گیا لاوا اگلنے لگ گئے کچھ گل زبان بھی کانوں میں گونجتا رہا گیتوں […]

نظم

ماریشیس کے ساحل پر ​لایعنیت کی شاعری کا ایک نمونہ Absurd Poetry :ڈاکٹرستیہ پال آنند

ایک لڑکا سر کے بل ایسے کھڑا ہے نرم گیلی ریت پر جیسے اسے آکاش کی اونچائی میں پانی سمندر کی اتھاہ گہرائی میں آکاش ساحل پر کھڑےلوگوں کے جمگھٹ سب کو اُلٹا دیکھنا ہے۔ آتے جاتے لوگ اس کے سامنے چادر پہ سکّے پھینکتے ہیں تو وہ ہِلتا ہی نہیں ہے ہاں، اگر اک […]

غزل

یاد پھر آنے لگا ہے سوچ سے نکلا ہوا : زہرا شاہ

عشق کا فطرت سے ہی تھا سلسلہ چلتا ہوا چاند کو دیکھا تو پانی میں بھنور پیدا ہوا کیوں الٹ چلنے لگی ہے حافظے کی یہ گھڑی یاد پھر آنے لگا ہے سوچ سے نکلا ہوا اک صدا کے لوٹ جانے سے گلی سنسان ہے کچھ دنوں سے چپ بہت ہے در وہ اک بجتا […]

کالم

سٹیفن ہاکنگ بالا دست طبقے کا ایک اور کامیاب تھیٹر : سعیدسادھو

سٹیفن چاچا کسی تعارف کا محتاج نہیں کارپوریٹ دنیا میں لبرل اسے اپنا فکری باپ مانتے ہیں اور بلاشبہ اس نے بے انتہا کام کیا ہے جو کہ بڑا معنی خیز سبق آموز اور باقی بھی بہت کچھ ہے۔ بالا دست طبقے کے مطابق اس زمین پر رہنے کا حق صرف اسی کو ہے جو […]

انتخاب

مجید امجد کی نظم ’’ منٹو ‘‘ ۔۔۔ انتخاب : اسلم ملک

میں نے اس کو دیکھا ہے اُجلی اُجلی سڑکوں پر اِک گرد بھری حیرانی میں پھیلتی پھیلتی بھیڑ کے اندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں جب وہ خالی بوتل پھینک کر کہتا ہے دنیا ! تیرا حُسن یہی بدصورتی ہے دنیا اس کو گھورتی ہے شورِ سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے انگاروں بھری آنکھوں […]

کالم

سبالٹرن مطالعات اور رنجیت گوہا : ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

برِ صغیر میں سبالٹرن مطالعات کی تاریخ میں رنجیت گو ہا کاشمار،اِس مکتبہ فکر کے نمایاں مؤرخین میں ہوتا ہے۔ان کا تعلق بنگال کی سر زمین سے ہے لیکن ۱۹۵۹ء میں وہ برطانیہ گئے اوروہاں یونیورسٹی آف سُسکس(Sussex)سے منسلک ہوئے۔کچھ عرصہ امریکہ میں بطور اقتصادی مؤرخ بھی کام کیا۔جب اُن کی ہندوستان واپسی ہوئی تو […]