نظم

جو مجھ کو عورت بنایا ہوتا مرے خدا نے : ڈاکٹرستیہ پال آنند

  میں کیسے اس بات کو سمجھتا کہ اپنے مذہب کی رو سے میں نصف شخصیت ہوں مرا حلف نامہ قاضی ٔ وقت کے لیے معتبر نہیں ہے کہ صرف آدھا گواہ ہوں میں ۰۰۰۰۰میں کیسے اپنی شکست کا اعتراف کرتا اگر مجھے اس حقیقت ِ ناروا کی بابت بتا یا جاتا کہ جسم و […]

نظم

ہمارا المیہ یہ ہے : یوسف خالد

ہمارا المیہ یہ ہے ہم اک ایسے خطِ تقسیم پر محو سفر ہیں جس کے اک جانب گھنے برگد تھے کچے راستے تھے کچے گھر تھے ہوا میں کچی کلیوں کی مہک تھی دور تک پھیلی ہوئی سرسوں تھی چرواہے تھے ریوڑ تھے پرندوں کی حسیں ڈاریں تھیں ڈیرے داریاں تھیں ڈھولے ماہیے تھے بہر […]

نعت

کافی ہے مُجھ کو نقشِ کفِ پا حُضور کا : پروفیسر بشیر احمد قادری

جنّ و بشَر  کے لب پہ  ہے نغمہ حُضور کا ہر گُل میں،ہر شجَر میں ہے جلوہ حُضور کا اے کاش ! خاکِ کوۓ مدینہ ہو آنکھ میں دیکھوں یہیں پہ بیٹھ کے روضہ حُضور کا کیسے سماییں آنکھ میں جنّت کے کاخ و کُو دیکھا ہے جب سے گنبدِ خضریٰ حُضور کا شاہِد ہے […]

تنقید

” فردوسِ بریں ” اور اس کے کردار ۔۔۔ایک تاثر : شبیر احمد قادری

  داستانیں ہوں یا ناول اور افسانہ کردار اساسی حیثیت رکھتا ہے۔کردار جس قدر توانا اور مضبوط ہو گا ، کہانی اسی قدر جان دار پختہ اور دلچسپ ہو گی۔ڈاکٹر میمونہ انصاری کی اس راۓ کی تائید میں کوٸ امر مانع نہیں کہ انیسویں صدی کے ناولوں میں غالب رجحان کردار نگاری کا ہے اور […]

نظم

چاندنی : محمود پاشا

جب تلک ناچیں نہ لہریں بحر پر ہو چکوری پر نہ طاری بے خودی روپ دلہن کا نہ دھارے دشت گر مَور نی بولے نہ آدھی رات کو مہ جبینوں کے نہ دل دھڑکیں اگر عاشقوں پر گر نہ اترے اضطراب اور فضا منظر نہ دے اک خواب کا چاند تیری چاندنی بیکار ہے محمودپاشا

نعت

نعت : سعید عباس سعید

راحت جان ذکر ان کا ہے دین و ایمان ذکر ان کا ہے ان کی توصیف میں ہے ہر سورہ سارا قرآن ذکر ان کا ہے آج رم جھم ہے نور کی گھر میں آج مہمان ذکر ان کا ہے میری پونجی قفط ہے نعت ان کی میرا سامان ذکر ان کا ہے میرا دل […]

کالم

بابامَنّاں اورلاک ڈاون : یونس خیال

عجیب موسم ہے ساری بستی کا۔کسی کو کسی کی کوئی خبرنہیں۔خوف مرنے کا بھی اورجینے کا بھی۔سوشل میڈیامیں چھُپنے کی کوشش اور زیادہ خوف کی سَمت لے جاتی ہے۔نظمیں ،غزلیں ،افسانے اورتبصرے سب خوف میں لپٹےہوئے۔کوئی ایسا کردارکہاں جوبے دھیانی میں گھومتاہواگلیوں میں آنکلے اور دستک دے دروازے پر۔سوچ رہاہوں کاش میں آج اُسی بستی […]

تعليم

کرونا اور تعلیمی انجماد : ڈاکٹر اسد مصطفیٰ

زندگی کا کوئی بھی شعبہ یا طبقہ ایسا نہیں ہے جو کرونا سے متاثر نہ ہوا ہو مگر مجھے سب سے زیادہ فکر اپنی نوجوان نسل کی ہے جس سے اس موزی وائرس نے اس کا قیمتی وقت چھین لیا ہے۔جب کرونا پھیلنے کے خدشہ کے تحت سکول،کالج اور یونیورسٹیاں بند کی گئیں تو اس […]

ديگر

کُچھ دوھے : خاور چودھری

انتر باہر وارتا ، ہر جذبہ لے بھانپ سارے پوت کپوت دے ، ماٹی میّا ڈھانپ O توری جھولی چھیکلا ، پگ پگ تو پھیلائے لوبھی بھکشو دھیرتا ، دھیرج ہی کام آئے O چھوڑ سمے کی بات رے ، یہ مٹھی کی دھول اوگن اپنے یاد رکھ ، گُن سارے تو بھول O تُمری […]

ديگر

ِِ’’ غزل ‘‘ اور ’’شدیدغزل‘‘ کی آمد : سعید سادھو

نوجوان شاعر اکثر راتوں کو غزل کہا کرتے تھے. موٹر سائیکل کسی کسی کے پاس تھا سو بائیک پہ ہوا کھاتے ہوئے غزل کم کم کو نصیب ہوتی تھی. بلکہ ایک شاعر کے پاس موٹر بائیک موجود تھا جسے وہ ہفتہ وار حلقہ جاتی اجلاس میں گھر سے کوئی دو تین بلکہ چار پانچ کلو […]