نظم

کٹاری : سعیدعباس سعید

ستارے اپنے تیرہ آسماں کے سدا پائے ہیں میں نے گردشوں میں تلاطم روزِ اول سے رہا ہے بحرِزیست کے کڑوے کسیلے پانیوں میں سماجی الجھنوں میں معاشی جھنجھٹوں میں ہمیشہ دل رہا ان وحشتوں میں تھی گو حالات کی ہر ضرب کاری مگر اک وار تھا ان سب پہ بھاری کسی کا قتل کرتا […]

بک شیلف

حامدؔ یزدانی کی ’’گہری شام کی گہری بیلیں‘‘ : ڈاکٹر خورشید رضوی

شعر وسخن سے دلچسپی حامدؔ یزدانی کو ورثے میں ملی چناں چہ شاعری میں حَُسن و قُبح کے بنیادی معیاروں کا شعور تو اُسے‘ شعوری اکتساب کے بغیر‘ صرف گھر کی فضا سے حاصل ہو گیا۔ اس کے بعد پائوں میں چکر اور سَر میں سودائے سُخن کبھی ختم نہ ہو سکا۔ خیر اِس چکر […]

غزل

غزل : سعید اشعر

دھندلا دھندلا راستہ، جلتا بجھتا دیپ بڑھنے لگا ہے فاصلہ، جلتا بجھتا دیپ چاروں جانب تیرگی، ہر سو پھیلا دشت بھٹک گیا ہے قافلہ، جلتا بجھتا دیپ سب بیٹھے تھے ایک جا، قصہ گو کے پاس ہو گیا کوئی لاپتہ، جلتا بجھتا دیپ آئی تھی کہیں دور سے، جانے کس کی چیخ تیز ہوا کا […]

ديگر

نقارہء خدا : محمد اسامہ عثمانی

  مجھے تو برانڈڈ کپڑے چاہئیں ، سن رہے نا آپ ، مجھے تو سیفائر ، گل احمد ، ماریہ بی الکرم سے نیچے کا برانڈ نہیں چاہیے اور ہاں شوز تو میں ہش پپیز ، سٹائلو یا کم از کم ای سی ایس سے ہی لوں گی ! ایک بات اور کان کھول کر […]

افسانہ

کورونائی نظریات : خاورچودھری

  دُور بیٹھا ہوا کوئی شخص یہ کیسے جان سکتا تھا،کہ چین میں کیا ہوااورہوسکتا ہے۔ شروع میں تو عام لوگوں کی طرح اُس کا بھی یہی خیال تھا، کہ نامعقولات کھانے والی اس قوم نے کچھ ایسا ضرور کھا لیا ہوگاجوچھچھوندر کی مانند ان کی زندگیوں کو محیط ہوگیا ہے۔عام آدمی تو یہ بھی […]

نعت

نعتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم : سؔبیلہ انعام صدیقی

پڑھ کے صّلِ علی شعر کہتے ہوۓ ، وقت کٹتا رہے ٫ دن گزرتے رہیں عمر بھر آپ کی نعت لکھتے ہوۓ ، وقت کٹتا رہے ،دن گزرتے رہیں . میرے کھاتے میں یہ بھی فرشتے لکھیں،بھیجتی ہوں کروڑوں دُروُد وسلام ذکر سے اُن کے لب ہوں مہکتے ہُوۓ ، وقت کٹتا رہے دن گزرتے […]

غزل

غزل : سید کامی شاہ

بات مرہم ہے، بات نشتر ہے آدمی چُپ رہے تو بہتر ہے مجھ میں اُڑتے ہیں نیلگوں بادل اُس کی آنکھوں میں اِک سمندر ہے جل رہا ہے چراغ پانی میں شام ہے اور عجیب منظر ہے ایک کے بعد دوسری گلی تھی ایک کے بعد دوسرا گھر ہے اصل اور نقل اور یہ شکل […]

کالم

ماں اور ریشمی نیلے رنگ کی واسکٹ : اقتدار جاوید

ماں ٹوپی برقع پہنتیں اور پردہ کرتیں بعد میں ہمیں پتہ چلا اس کو شٹل کاک برقع بھی کہتے ہیں مگر ہم اسے ٹوپی برقع ہی کہتے تھے۔چہرے والی جگہ پر باریک جالی لگی ہوتی تھی جس سے ان کا چہرہ نہیں دکھتا تھا وہی برقع میری بڑی بہن بھی پہنتیں۔والد قمیض پر اچکن پہنتے […]

نظم

وہ لمحہ وجدانی تھا : سعید عباس سعید

میں نے ذات صحیفے کی بسم اللہ اس وقت پڑھی تھی اور رحمن ،رحیم کا مطلب میری روح میں تب اترا تھا جب میں اٹھ کر جانے لگا تھا اور اس نے خاموشی سے میرے ہاتھ کو تھام لیا تھا وہ لمحہ وجدانی تھا لاثانی،لافانی تھا نہ ہونے سے ہونے تک کی اک بے لفظ […]

افسانہ

چھوٹی پری : تابندہ سراج

آج تین دن گزر گئے اور چھوٹی پری اسے ملنے نہیں آئی۔۔۔ آنکھیں موندے، بے حس و حرکت، مفلوج جسم لیے وہ بس اسی کے انتظار میں ہے۔ آخر وہ اسے ملنے کیوں نہیں آئی؟ اس کا اور چھوٹی پری کا ساتھ تو بہت پرانا اور گہرا تھا، جب وہ محض تین سال کی تھی۔۔۔ […]