غزل

غزل : سید کامی شاہ

بات مرہم ہے، بات نشتر ہے
آدمی چُپ رہے تو بہتر ہے

مجھ میں اُڑتے ہیں نیلگوں بادل
اُس کی آنکھوں میں اِک سمندر ہے

جل رہا ہے چراغ پانی میں
شام ہے اور عجیب منظر ہے

ایک کے بعد دوسری گلی تھی
ایک کے بعد دوسرا گھر ہے

اصل اور نقل اور یہ شکل کا کھیل
سب سے بڑھ کر تو تیرے اندر ہے

وصل کا باب بھولتا ہے مجھے
ہجر کا قاعدہ تو از بر ہے

تُو مجھے کیا سبق پڑھائے گا
بالِ جبریل میرے سر پر ہے

اپنے ہی ضابطوں میں جکڑا ہُوا
آدمی بھی عجیب دفتر ہے

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں