شاعر: باقی احمدپوری اتنا بھی خوش نہ ہو کہ عدو قید ہو گیا دنیا سمجھ رہی ہے کہ تُو قید ہو گیا یہ انقلاب آیا ہے اب کے بہار میں شاخ ِ شجر میں ذوق ِ نمو قید ہو گیا نشتر لگا رہا ہوں کہ آزاد پِھر سکے دل کی رگوں میں میرا لہو قید […]
شاعر: ظہورنظر دیپک راگ ہے چاہت اپنی، کاہے سنائیں تمھیں ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں، کیوں سُلگائیں تمھیں ترکِ محبت ، ترکِ تمنّا کر چُکنے کے بعد ہم پہ یہ مُشکل آن پڑی ہے کیسے بُھلائیں تمھیں دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے روح کے زخموں کی گہرائی کیسے […]
شاعر: شہزاداحمد گزرنے ہی نہ دی وہ رات مَیں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہات میں نے فلک کی روک دی تھی مَیں نے گردش بدل ڈالے تھے سب حالات مَیں نے ذرا سی رہ گئی ہے عمر باقی نبھانا ہے کسی کا ساتھ مَیں نے میں اُس کی ذات میں گم ہو گیا […]
شاعرہ: سبینہ سحر صنم سے زخمِ تازہ کی شکایت بھی نہیں جاتی اسی بے رحم ظالم سے محبت بھی نہیں جاتی محبت کا مری کرتا تو ہے دعویٰ بہت لیکن ہراک کو دیکھنے کی اس کی عادت بھی نہیں جاتی نہ ملنے کی اسے میں نے قسم کھائی تو ہے لیکن اسی کو دیکھتے رہنے […]
نظم : غلام جیلانی اصغر تجزیہ : یوسف خالد جیلانی صاحب کی نظم "تکرار” ان کے مخصوص ذہنی و فکری رویے کی آئینہ دار ہے -جیلانی صاحب نے اپنی ذات اور کائینات کی گہری غواصی اور مشاہدےسے جو کچھ اخذ کیا،اس نظم کے مصرعوں میں ان محسوسات اس طرح منتقل کیا ہے کہ نظم کی […]
شاعر: توصیف تبسم دل سا کوئی دوست کہاں تھا، جاں د ینے میں فرد بہت سو وہ پہلے کام آیا، تھا اُس کو زعمِ نبرد بہت پچھلی شب جب یاد میں تیری آنکھ سے آنسو ٹپکا تھا تارے بھی جھلمل کرتے تھے، چاند بھی تھا کچھ زرد بہت پہلا لفظ محبت تھا جو ہم […]
مضمون نگار: سید حامد یزدانی بات یہ ہے کہ شروع ہی سے رنگ میری کمزوری رہے ہیں، تصویریں میری محبت اوراظہار میری مجبوری رہاہے۔ نصابی اور غیر نصانی کتابوں، مُلکی اور غیر مُلکی رسالوں میں ورق ورق چمکتی تصویروں اور ان کے رنگوں کی دل کشی کب تصویری فن پاروں کی نمائشوں کی سیر کے […]
شاعر: زبیرقیصر غلط پڑھا ہے، غلط لکھا ہے، غلط سنا ہے ہمارے بارے میں جو سنا ہے غلط سنا ہے غلط سنا ہے کہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے یہاں کوئی خود سے سوچتا ہے ؟ غلط سنا ہے مجھے سکھایا ہے میری ماں نے بھلائی کرنا عدو کو میں نے برا کہا ہے ؟ […]
شاعر: عطاالحسن ہماری عُمروں سے رائگانی کوکھا گئی ہے فضا محبت کی بدگُمانی کو کھا گئی ہے بِچھڑنے والے پلٹ کے آیا تُو کن دِنوں میں کہ جب جُدائی مری جوانی کو کھا گئی ہے یہ روزوشب اپنے زیست سے خالی کٹ رہے ہیں مُعاش کی فکر زندگانی کو کھا گئی ہے وہ چاہتا تھا […]