غزل : نوید ملک
نوید ملک ہزاروں بار جو بنتے ہیں مِحور ٹوٹتے ہیں مرے بستر پہ سارے خواب تھک کر ٹوٹتے ہیں ۔ ٹپکتا ہے کسی تصویر سے جب لمس اُس کا مری آغوش میں آ کر سمُندر ٹوٹتے ہیں ۔ تمہارے بعد ہاتھوں پر نہیں جچتی یہ گھڑیاں الجھ کر خود سے اب لمحوں کے یاوَر ٹوٹتے […]



