غزل

غزل


شاعر : خورشید ربانی
غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے
آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے
موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک ساتھ
اب کہیں ہوں میں کہیں اندیشہ ہے
گاہے  گاہے  دیکھتے  رہیے  اسے
دل میں جو خلوت نشیں اندیشہ ہے
اس کی آنکھیں  دیکھیے اور  سوچیے
غمزہ بھی کیا سُرمہ گیں اندیشہ  ہے
دل میں اڑتی خاک سے روشن ہوا
غم کوئی وحشی نہیں،  اندیشہ  ہے
ایک اک دھڑکن سے لگتا ہے مجھے
سر بہ سر قلبِ حزیں اندیشہ ہے
زندگی بھر  کے سفر پر یہ  کھلا
زندگی اک خواب گیں اندیشہ ہے
حادثہ ہے شاخ پہ مہکا ہوا
باغ سارا بالیقیں اندیشہ ہے

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں
Poetry غزل

غزل

  • جولائی 16, 2019
          خالدعلیم کاندھوں سے اُترکرباپ کے وہ، پہلومیں کھڑے ہوجاتے ہیں جب بچے بولنے لگ جائیں