خودی ۔۔۔ شاعر: کاظم علی

      کاظم علی

خودی  پرغور  کرنے  کا  بہانہ بھی وہی دے گا
خدا نے چونچ بخشی ہے تو دانہ بھی وہی دے گا

کسی سنسان وادی میں کھڑا کیا  سوچتا  ہے  تو
دیا ترکش تجھے جس نے، نشانہ بھی وہی دے گا

تری مایوسیاں تجھ کو کہیں منکر نہ ٹھہرا دیں
ترے  بے رنگ  جیون  کو فسانہ بھی وہی دے گا

ترے دل میں دبی باتیں چھپی باتیں سمجھتا ہے
ترے  خاموش  ہونٹوں کو ترانہ بھی وہی دے گا

کٹھن راہیں ہیں الفت کی کہ تھک کر گر نہیں جانا
کٹھن راہوں میں ہی اک دن ٹھکانہ بھی وہی دے گا

کاظم علیؔ

You might also like
  1. فرح خان says

    کیاکہنے.. عمدہ کلام

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post