سلیم آغا قزلباش بے لفظ کہانی کا آخری وارث
شاعرہ : نجمہ منصور تم نظم کی جس کھڑکی میں بیٹھے ہو وہاں سے سارا منظر صاف نظر آتا ہے لفظوں کی رنگ برنگی تتلیوں کے ساتھ تم بچپن سے ہی کھیلتے آئے ہو اپنے بابا کی انگلی تھام کر جو تمہیں کہتے انہیں چھونا مت ورنہ ان کے رنگ "اور سارے نقش اور بیل […]









