ڈاکٹرشفیق آصف ۔۔۔ محبتوں کاشاعر
از: شاہد سٹھو
میرتقی میرؔ عشق کیا کوئی اختیار کرے وہی جی مارے جس کو پیار کرے غنچہ ہے سر پہ داغ سودا کا دیکھیں کب تک یہ گل بہارکرے آنکھیں پتھرائیں چھاتی پتھر ہے وہ ہی جانے جو انتظار کرے سہل وہ آشنا نہیں ہوتا دیر میں کوئی اس […]
از: شمع شاہین ايک بچے نے سمندر ميں اپنا جوتا کھو ديا تو بِلکتے ہوئے بچے نے سمندر کے ساحل پر لکھ ديا کہð يہ سمندر چور ہے ۔ð¦ اور کچھ ہی فاصلے پر ايک شکاری نے سمندر ميں جال پھينکا اور بہت سی مچھليوں کا شکار کيا ۔ تو خوشی کے عالم ميں اسنے […]
فرح خان اعراب، لفظ، حرف کہانی اٹھائیے جو چیز آپ نے ہے اٹھانی اٹھائیے سمجھے گا کون قصہ نئے دورکا یہاں رکیے حضور بات پرانی اٹھائیے رختِ سفر اٹھا لیا اچھا کیا مگر اب آخری، سفر کی نشانی اٹھائیے ممکن لرزتا ہاتھ بدن کو ادھیڑ دے بہتر ہے آپ شوخ جوانی اٹھائیے رہنے دیں میرے […]
پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے – اس تنزلی کا سب سے زیادہ شکار تعلیم کا میدان ہے۔نصاب برسوں پرانا رائج ہے -وہی گھسے پٹے طریقے ہیں -یہاں گریڈز اہم ہیں لہذا رٹو طوطے کامیاب ہیں -شوقیہ پڑ ھنے والوں کو کسی یونی ورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا کیونکہ وہ رٹو طوطے نہیں ہوتے۔یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کی کوئی یونی ورسٹی ورلڈ رینکنگ (بین الاقوامی یونی ورسٹیؤں کی لسٹ ) میں پہلے دس نمبروں میں اپنی جگہ نہیں بنا سکی –
شاعرہ : پروین شاکر خواب ، آنکھوں کی عبادت ہیں گئی رات کے سناٹے میں اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں خواب کے رنگ دھنگ سے بڑھ کر کبھی پلکوں پہ ستارہ ،کبھی آنکھوں میں سحاب کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب کبھی زخموں کا ،کبھی خندۂ […]
جون ایلیا ذکر بھی اس سے کیا بَھلا میرا اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا آج مجھ کو بہت بُرا کہہ کر آپ نے نام تو لیا میرا آخری بات تم سے کہنا ہے یاد رکھنا نہ تم کہا میرا وہ بھی منزل تلک پہنچ جاتا اس نے ڈھونڈا نہیں […]
احمد نواز حسرتِ دید میں یہ کام بھی کر آیا ہوں اپنی آنکھیں تری دہلیز پہ دھر آیا ہوں کر کے تجسیم تری یاد کو لگتا ہے مجھے جیسے ماضی کے دریچے میں اُتر آیا ہوں خواہشِ ہست و نمُو مجھ میں تھی بے چین بہت خاک تھا چاک پہ آتے ہی نکھر آیا ہوں […]
از: یوسف خالد ڈاکٹر وزیر آغا ہمارے عہد کی ایک کثیرالجہت ادبی شخصیت تھے – انہوں نے اردو اور پنجابی ادب کو نئے لہجے،نئی سوچ اور نئے ذائقوں سے آشنا کیا- ان کا نام جدیدیت اور تازگیء فکر سے مزین تخلیقات کی علامت بن چکا ہے – آغا صاحب نے […]
ذوالفقاراحسن آس کے دیپ بجز تیرے بُجھا بیٹھے ہیں در پہ تیرے جو لیے حرفِ دُعا بیٹھے ہیں دِل تو پہلے ہی گیا تھا تیری آواز کے ساتھ تُجھ کو دیکھا ہے تو آنکھیں بھی گنوا بیٹھے ہیں تُجھ سے معانی کا تقاضا بھی نہیں کر سکتے دِل کی شاخوں سے بھی الفاظ اُڑا بیٹھے […]