چَھنن چَھنن جے گھنگرو باجن دھڑن دھڑن دریا
شاعر: اقتدار جاوید اچّے تیرے محل منارے ہیٹھ وگن دریا چھنن چھنن جے گھنگرو باجن دھڑن دھڑن دریا ایس وجود دی اپنی رونق اپنی جیا جون اے اس جنگل وچ نچدا پھردا کوئی ہرن دریا ایتھے موتی سفنے اندر اوتھے […]
شاعر: اقتدار جاوید اچّے تیرے محل منارے ہیٹھ وگن دریا چھنن چھنن جے گھنگرو باجن دھڑن دھڑن دریا ایس وجود دی اپنی رونق اپنی جیا جون اے اس جنگل وچ نچدا پھردا کوئی ہرن دریا ایتھے موتی سفنے اندر اوتھے […]
ذوالفقاراحسن دِل کے تاروں کو ہلا دیتی ہے آواز تِری اِک نیا درد جگا دیتی ہے آواز تِری ایک تالاب ہوں ایسا کہ جہاں یادیں ہیں اُس میں کنکر سا گرِا دیتی ہے آواز تِری تُو ہے دریا تو کہیں دُور چلا جا مجھ سے تشنگی اور بڑھا دیتی ہے […]
شاعر: حفیظ تائب یارب! ثناء میں کعبؒ کی دلکش ادا ملے فتنوں کی دوپہر میں سکوں کی ردا ملے حسانؒ کا شکوہِ بیاں مجھ کو ہو عطا تائیدِ جبرئیلؑ بوقتِ ثناء ملے بوصیریِؒ عظیم کا ہوں میں بھی مقتدی بیماریِ الم سے مجھے […]
شاعر: خورشیدربانی پہلے منزل اور سفر کا سپنا روشن ہو جاتا ہےپھراک دیپ چمکتا ہے اورجادہ روشن ہوجاتاہے ایک مسافر چلتے چلتے کھو جاتا ہے راہ گزر میںایک مسافرکے قدموں سے رستہ روشن ہوجاتاہے تشنہ لبی ٹھکرا دیتی ہے دریا کو اور دو عالم پراک خالی مشکیزہ اور اک صحرا […]
از: نیلما ناہید درانی ذوالفقار علی بھٹو ۔۔۔ ہائی کورٹ اور میجر ضیاالحسن ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار عام آدمی کو سوچنا سکھایا تھا۔۔۔ خوشحالی کے خواب دکھائے تھے۔۔روٹی کپڑا مکان ۔۔۔۔کا نعرہ ایسا خواب تھا۔۔۔کہ محرومیت کی ماری عوام ان کی گرویدہ ہوگئی تھی۔۔۔ان کو پوجنے لگی تھی۔۔۔۔انھوں نے پہلی بار عوام کی […]
عاطف جاوید عاطف ہو گئی برباد کتنی شاد کتنی رہ گئی دیکھنا ہے زندگی آباد کتنی رہ گئی اور باقی رہ گئی اب سانس کی کتنی رسد کاسہ ءِ دل یہ بتا امداد کتنی رہ گئی چار دن کا عہد تھا سو کب تلک ہوگا وفا ٹھیک سے گِن کر بتا معیاد کتنی […]
تحریر : سلمیٰ جیلانی موسم گرم اور خشک ہو چلا تھا – وہ ایک مجذوبانہ خاموشی کے ساتھ جھیل کے اطراف دائرہ بنائے بیٹھے تھے ، میلوں پر پھیلی ہوئ جھیل جو اب گدلے پانی کے وسیع و عریض جوہڑ کی مانند دکھائی دیتی تھی ان کی موجودگی […]
شاعر: محمد جاویدانور درد آ لیتا ہے چُپکے سے سر شام مُجھے جُگنٗوں سی کوئی لو اُٹھ کے مری رُوح تلک قریہ جاں کو ادُھورا سا اُجالا دے کر یاس و اُمید کی اک اور فسُوں نگری میں ایسے بہلا کے یُوں پھُسلا کے لیے جاتی ہے جیسے سب در نہ کبھی یاد کے وا […]
از: یوسف خالد جذبے کی حواس خمسہ سے حاصل شدہ توانائی تخلیقی عمل میں صرف ہوتی ہے تو فن تشکیل پاتا ہے-یوں فن پارے کے تار و پود میں تخلیق کار کا حسی تجربہ شامل ہو جاتا ہے جو قاری کے نظام فکر اور مزاج سے ہم رشتہ ہو کر […]
شاعر: نوید فدا ستی جاں بہ جاں دل بہ دل حسین کے ہیں اور ہم مستقل حسین کے ہیں اب بھی رِستا ہے اُن سے تازہ لہو زخم کب مندمل حسین کے ہیں دیکھتا ہے یزید حیرت سے حوصلے معتدل […]