سلام … شاعر: غلام محمد قاصر
غلام محمد قاصر یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے حسین اس میں خط کربلا بناتا ہے یزید موسم عصیاں کا لا علاج مرض حسین خاک سے خاک شفا بناتا ہے یزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیاد حسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہے یزید تیز ہواؤں سے جوڑ […]
غلام محمد قاصر یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے حسین اس میں خط کربلا بناتا ہے یزید موسم عصیاں کا لا علاج مرض حسین خاک سے خاک شفا بناتا ہے یزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیاد حسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہے یزید تیز ہواؤں سے جوڑ […]
تبصرہ نگار: یوسف خالد سعید اشعر کا اردو شاعری کے اہم شعرا میں شمار ہوتا ہے – ان کے اب تک 6 شعری مجموعے چھپ چکے ہیں – ان کی غزلوں کا چوتھا شعری مجموعہ حال ہی میں ” میں اور میں ” کے نام سے انحراف پبلیکیشنز سے شائع کیا ہے – […]
کالم : محمدجاویدانور مُجھے بھارت کا خلائی تجربہ ناکام ہونے سے نہ خُوشی ہُوئی ہے نہ غم ۔ I am least bothered مُجھے یہ مشورہ بھی نہیں دینا کہ بھارت پہلے اپنی آدھی آبادی کو ٹٹی خانے بنا کر دے جنہیں میں اپنی آنکھوں سے دہلی جیسے شہر میں بھی کوڑے کے ڈھیروں پر سوروں […]
شبلی نعمانی تیس دن کے لیے ترک مے و ساقی کر لوں واعظ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوں پھینک دینے کی کوئی چیز نہیں فضل و کمال ورنہ حاسد تری خاطر سے میں یہ بھی کر لوں اے نکیرین قیامت […]
نیلما ناہید درانی تجھ سے بچھڑ کے حادثہ عجیب ھوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پنجاب بھر میں خواتین کے گھر کے چولہے سے جلنے کے واقعات عام ہو چکے تھے۔۔۔لیکن ان کو انصاف نہیں مل رھا تھا۔۔۔۔عاصمہ جہانگیر اور سوشل ایکٹوسٹ خواتین کا ایک جلوس آئی جی پنجاب کے دفتر پہنچا۔۔۔اور انھوں نے آئی جی پنجاب کا گھیراو کر […]
فراق گورکھپوری آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا پھر ترا غم وہی رسوائے جہاں ہے کہ جوتھا پھر فسانہ بحدیثِ دگراں ہے کہ جو تھا منزلیں گرد کے مانند اُڑی جاتی ہیں وہی انداز […]
شاعر: خمار میرزادہ ہر عہدِ ظلمت کا رُخِ مذموم واضح ہو گیا جب کربلا کا معنی و مفہوم واضح ہو گیا حُر لشکرِ شب سے نکل کر صبحِ رحمت سے ملا مرحوم کی پہچاں ہوئی محروم واضح ہو گیا تُو طالبِ جاہ وجنوں مَیں شائقِ خاک و […]
از: نیلما ناہید درانی جب نہر کنارے شام ڈھلی۔۔۔۔اور انتظار قربان لائنز کینٹ اور گلبرگ کے درمیان۔۔۔۔شیرپاو پل اور مال روڈ کے میاں میر پل کے درمیان واقع ہے۔۔۔۔یہاں ٹیلی کمیونیکیشن ، ٹریفک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، غازی کمپنی ، اصطبل ، مسجد، ھسپتال اور کئی دفاتر کے علاوہ سرکاری رھائش گاہیں بھی تھیں۔۔۔۔ […]