غزل : اعظم شاہد
کبھی مقتل کومیں سوچوں کبھی زنداں دیکھوں جانے والے کے لئے خود کو پریشاں دیکھوں زخم تو زخم ہے بڑھتا ہی چلا جائے گا کاش ہاتھوں میں ترے آج نمکداں دیکھوں پیچھے دیکھوں تو فقط تُو ہی نظر آتا ہے اپنے آگے تو میں تنہائی کا میداں دیکھوں مجھے معلوم ہے تُو […]









