غزل : سیدہ ہماؔ شاہ
سیدہ ہماؔ شاہ جس نے خود سے مجھے جدا رکھا میں نے اس شخص کو خدا رکھا رات پہروں میں بانٹ دی لیکن ہر پہر آنکھ سے جڑا رکھا میں نے چاہا کہ چھوڑ دوں دنیا کتنا طوفان ہے مچا رکھا آنکھ میں راکھ ہوتے اشکوں کو صبر […]
سیدہ ہماؔ شاہ جس نے خود سے مجھے جدا رکھا میں نے اس شخص کو خدا رکھا رات پہروں میں بانٹ دی لیکن ہر پہر آنکھ سے جڑا رکھا میں نے چاہا کہ چھوڑ دوں دنیا کتنا طوفان ہے مچا رکھا آنکھ میں راکھ ہوتے اشکوں کو صبر […]
نیلما ناہید درانی چار دوست جو گھر سے نکلے۔۔۔۔آگئے سب لاہور حیدر آباد کی چوڑیاں، حیدرآباد کی مہندی۔۔۔۔اور حیدر آباد کی ساوتری۔۔۔۔تینوں سے مجھے الفت رھی ہے۔۔۔۔ساوتری مجھے کیسے ملی۔۔۔۔یہ بھی ایک عجب داستان ہے۔۔۔۔خواب اور جادو بھری کہانیوں جیسی۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ۔۔۔۔کراچی میں طلبا کنوینشن کا انعقاد ھوا۔۔۔جس میں ملک بھر […]
بشکریہ: صفدر بھٹی بسم اللّہ الرحمن الرحیم القرآن الحکیم سورۃ المآئِدۃ آیات 27 تا 31 اور ان کو آدم کے دو بیٹوں کا احوال سچ سچ سنائیے’ جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ان دونوں میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی ‘ وہ بولا میں […]
سعید اشعرؔ مرے عزیز مرے مہربان بسم اللہ تو شوق سے مرا لے امتحان بسم اللہ تجھے کشادہ سمندر کی سیر کرنی ہے یہ میری ناؤ ہے، یہ بادبان بسم اللہ پلٹ کے آؤں گا اس بار بھی تری خاطر ترا خیال ، ترا یہ گمان بسم اللہ تم آنا چاہو تو سیدھا سا ایک […]
محمد خلیل الرَّحمٰن خلیلؔ یا اِلٰہی حوصلہ ہو دید کا نُور کا ہو جب سراپا سامنے زندگی میری حسیں ہے اس لیے رات دن اُنؐ کا ہے اُسوہ سامنے دور ِ ظلمت کس طرح پاتا بقا نُور تھا غار ِ حِرا کا سامنے حال اُمّت کا دکھانے کے لیے لے چلا ہوں دل شکستہ سامنے […]
اقتدار جاوید کسی کو پتہ تک نہیں تھا کہ کب پیدا ہونا ہے میں نے وہ ممتاز کی حدّت سے لبریز رہتا ھوا شیرِ مادر جسے جان کے دشمنوں نے المناک یاداشت سے بھر دیا میں نے خود کو خود اپنے ہی ساٸے پہ پھینکا کہ خود کو بچا لوں بچا لوں میں اس تیز […]
ڈاکٹرسلمان باقر ان کے خوشبو میں بسے خط جو صدیوں سے تھے گم بند درازوں سے ملے اور ان میں بہت سے سوکھے ہوئے پھول مشک و عنبر میں بسے بوسیدہ پھریرے اور کانچ کی چوڑیوں کے رنگین ٹکڑے نکلے ، ساتھ میں بہت سے خط انگلیاں کاٹ کے خون محبت سے لکھے بھی ملے […]
ناصر کاظمی کچھ یادگارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں آئے ہیں اس گلی میں توپتھرہی لے چلیں یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو تھوڑی سی خاکِ […]
خورشید ربانی پوچھوہو میرﺍ حال کیاغم کےسوا ہے اور کچھ بزم جنوں اُلٹ گئی اب تو بپا ہے اور کچھ مجھ پہ کھلا ہے ساراشہر،ایک وہ در نہیں کھلا جس پہ وہ در نہیں کھلا، اس پہ کھلا ہے اور کچھ موجِ ہوا کو دیکھ کر دل تو مچل مچل […]
نیلماناہید درانی چاہت سے اوروصال سے آگے نکل گئے دنیا کے ہر وبال سے آگے نکل گئے دوری میں وہ مزہ تھاکہ خواہش بدل گئی ہم یوں ترے خیال سے آگے نکل گئے گو صاحبانِ علم ہمیں ٹوکتے رہے ہم بے ہنر کمال سے آگے نکل گئے کچھ ساعتوں نے […]