غزل : طاہر شیرازی
طاہر شیرازی وہ لڑائی مری نہ تھی اورمیں لڑ پڑا خود کو نامزد کر کے
محمدجاوید انور اگر میں بوجھ بن جاوں اگر تم لوٹنا چاہو اشارے سے بتادینا ——- یہ میں نے ہی کہا تھا اور گھڑی وہ آن پہنچی ہے مگر اب یہ کھلا ہے لوٹنا آسان نہیں اتنا اگرچہ لوٹنا تو ہے مگر یہ جان لیوا ہے اگرچہ بھولنا ہوگا مگر یہ روح فرسا ہے مگر سچ […]
حیدرقریشی ڈاکٹر وزیر آغا نے جب اپنی ادبی زندگی کا آغا ز کیا اس وقت ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ ایک نو وارد ادیب کی حیثیت سے وہ اس تحریک کے مثبت پہلوؤں سے متاثر بھی ہوئے اور وہ اثرات ان کی ابتدائی نگارشات میں نظر بھی آتے ہیں۔ مثلاً ان کی پہلی […]
مقصود علی شاہ سارے سخن نواز کمالات جوڑ لوں ممکن نہیں کہ پھر بھی تری نعت جوڑ لوں تُو تو عنایتوں کی سحر ہے، عطا کی شام مَیں کیسے عرض باندھوں، سوالات جوڑ لوں لمحوں کے اتصال سے ہوتی نہیں ہے نعت کچھ ایسا التفات کہ دن رات جوڑ لوں اے کاش پھر سے کوئی […]
محمد حمید شاہد کم آمیزی میرے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔سفر کے دوران تو میں اور بھی اپنے آپ میں سمٹ جاتا ہوں۔بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ میلوں سفر کر جاتا ہوں مگر ساتھ بیٹھے مسافر سے رسمی علیک سلیک بھی نہیں ہو پاتی۔مگر وہ عجب باتونی شخص تھا کہ اس نے زورا […]
’’ کاش ! چار بیٹوں کی بجائے میری دوبیٹیاں اور ہوتیں ‘‘ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسوجاری تھے لیکن وہ اپنے دوپٹے سے انھیں صاف کرتی ہوئی جھاڑو لگائے جارہی تھی ۔ میں نے آسیہ کوپہلے کبھی بھی اتناغم زدہ نہیں دیکھاتھا۔ کئی سالوں سے وہ میرے گھر میں کام کررہی تھی لیکن بڑے […]
شازیہ مفتی نومبر کی رات میں پہلے پہر کی خنکی بہت خوشگوار لگ رہی تھی ۔ آکاس بیل سے ڈھکی چاردیواری کے ساتھ ساتھ بہت پرانے درخت پورے باغ کا احاطہ کیے تھے گھر کی دیوار میں کہیں کہیں کوئ کھڑکی روشن تھی ۔ زلیخا کے شوہر حسن کا چچازاد بھائ یوسف سالوں بعد جرمنی […]
قاضی ظفر اقبال کبھی آباد یہ مکاں تھا میاں شاذیہ مفتی سے کوئی جان پہچان نہ تھی بس حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں اسے کبھی کبھی کچھ پڑھتے سنا ۔۔۔تنقید کے لئے کبھی کوئی نظم کبھی کوئی غزل اور کبھی کوئی نثر کا ٹکڑا ۔۔۔۔سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس کی شاعری سے […]
سعید اشعرؔ چلنے لگی پھر تیز ہوا ، ایک کمینی شانوں سے ترے سرکی ردا، ایک کمینی خاموشی سے ڈوبا ہے اندھیرے میں اجالا ہم دونوں کے آگے ہے انا، ایک کمینی مٹی نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا یہاں پر اس جسم پہ رنگین قبا ، ایک کمینی میں اپنے ہی اس ذات کے […]
سید کامی شاہ کہانی شروع وہاں سے ہوئی تھی جب اس نے کتابوں کی دکان سے ایک کہانی چرانے کی کوشش کی تھی۔ اس نے جیب خرچ سے جمع کیے ہوئے چار روپے میں چند کہانیاں خریدی تھیں، بچوں والی معمولی سی سستی کہانیوں کی کتابیں دیکھتے دیکھتے اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی […]