ہوا پیغام بر ہے : یوسف خالد


وہ جذبوں کی معطر سیج پر
اک خوبصورت پَل کو آنکھوں میں
ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کی ریاضت میں لگی ہے
ہوا اس کے بدن سے خوشبوئیں لے کر
کسی اَن دیکھی بستی کی طرف محوِ سفر ہے
عجب منظر ہے
اجلی چاندنی ہے
ہر طرف ہر شے پہ اک نشّہ سا طاری ہے
ہوا اس دودھیا ماحول میں
سرشاریاں تقسیم کرتی
جنگلوں میں،وادیوں میں،بستیوں میں
گیت گاتی پھر رہی ہے
کہیں کوئی ہوا کا منتظر ہے
دودھ ایسی چاندنی میں
سر تا پا سرشار ہے بھیگا ہوا ہے
ہوا پیغام بر ہے
اپنے دامن میں کسی کی منتظر آنکھوں کی بے تابی
کسی کے عارض و لب پر مچلتی پیاس
کا احساس لائی ہے
مسلسل دستکیں دیتی ہے
در کھلتا ہے
بستی کے مکیں کو دیکھتی ہے چومتی ہے
اور چپکے سے
جو اپنے ساتھ لائی ہے
وہ خوشبو دان کرتی ہے
ہوا سندیسے دیتی ہے
بہت سی ان کہی باتوں کی تصویریں بنا کر پیش کرتی ہے
ذرا سی دیر رک کر پھر ہوا واپس پلٹتی ہے
تو بستی کے مکیں کے خواب لے کر
پھراسی چوکھٹ پہ آتی ہے
ادب سے حاضری دیتی ہے
بستی کے مکیں کے دل کی حالت کو بیاں کرتی ہے
آگے بڑھ کے پھولوں سے مزیّن سیج پر بیٹھی ہوئی
اک مہ جبیں کے ہاتھ میں
پیغام دیتی ہے
کسی گزرے ہوئے پل کی کہانی چھوڑ جاتی ہے
محبت کرنے والوں کی خوشی محسوس کرتی ہے
ہوا پیغام بر ہے مہرباں ہے
زندگی کو رنگ،خوشبو، ذائقوں سے آشنا کرتی ہے
تصویریں بناتی ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post