فنکار : نوشی ملک


خبر تحیر وقت سن
تو نے میرے خدوخال کے نقش سے
بجھائی
آگ اپنے شکم کی
اور میں سرد ہوں
اب کسی سرد رت کی طرح
شام کا ایک منظر
کوئی برگ زرد
چراغ آخر شب
کسی سہمے ہوئے، سلگتے منظر کی تصویر ہوں
میرے شانے بھی اب کچھ توانا نہیں
ہاتھوں میں بھی سکت پہلے جیسی نہیں
کسی پژمردہ و مسمار
عمارت کے ملبے کے جیسا ہے میرا وجود
مگر
میں اپنے فہم و ایقان سے
عشق وعرفان سے
سوچ کی نئی زمینوں کی جانب چلتی رہوں گی
شکستہ ارادوں
کی نیلی زمینوں
پہ انبار ہوتے
شکستہ سخن کو
نئے لفظ
نئے گیت، نئے ساز دوں گی
شفق فام و گل رنگ شاہکار
بناتی رہوں گی
میں دست وفا سے
صحیفے صداقت کے لکھتی رہوں گی
میرے ہر لفظ سے
ہر اک رنگ سے
ہر اک تان سے
آنے والے زمانوں کی ہر آنکھ کا
ہر احساس کا
رشتہ قائم رہے گا
آگہی کے نگر کو
نئے باب، نئے دریچے کھلیں گے
وہ شاخ ثمر
وہ سیمیں دہن
نئی روشنی کے پیمبر
میری اس کہانی سے آگے لکھیں گے
کوہ بد عقیدہ کے سارے بتوں کو
توڑ ڈالیں گے وہ
فصیل ہراس
خوف کے سب قلعے
پھلانگ ڈالیں گے وہ

You might also like
  1. Abdul Basit Zulfiqar says

    تو شکستہ ارادوں کی زنبیل لیے
    شفق کی لالی کو تیز کر کے
    علم و عرفان کے ٹمٹماتے چراغ کو
    ہوا کے تھپیڑوں سے بچاتی
    رنگ، ساز، راگ، سر، تال، کی دُھن
    اس کے کانوں میں انڈھیلتی، ارادوں
    طعنوں، برگ زرد کی چھاؤں پر
    مٹی بکھیرتی، خوف کی ہر فصیل کو پھلانگتی
    نیی روشنی کی شاخ نازک پر جو آشیانہ بناؤ گی
    زندگی کی اک نئی صبح، اس کی کتاب میں
    پھر جب نئے باب رقم کرتے۔
    کھلے دریچوں کو پار کرتے
    جو آو گی تو دیکھو گی
    ہم اک سوکھے پیڑ کی مانند
    تب بھی تیرے ساتھ کھڑے
    تیری جی داری کے اس جذبے کو
    جھک کر سلام کریں گے۔
    ❤️❤️❤️

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post