شکایت : یوسف خالد

اسے مجھ سے شکایت ہے کہ میں
حد سے زیاد حسن کی تعریف کرتا ہوں
مجھے کوئی بتائے
میں کسی بھیدوں بھرے، خوش رنگ، خوشبو بانٹتے

اک نرم و نازک پھول کو گر خوبصورت پھول کہتا ہوں

تو اس میں کیا برائی ہے
مجھے رنگوں سے خوشبو سے محبت ہے
تو اس میں حرج ہی کیا ہے

مجھے معلوم ہے کہ زندگی میں
ہر طرف بکھرے ہوئے دکھ درد بھی
تحریر میں لانا ضروری ہیں
مگر میں کیا کروں
کہ میری آنکھیں خوبصورت منظروں سے
ہر گھڑی ہر لمحہ
جو رعنائیاں میرے قلم کو سونپتی ہیں
میں انہیں رعنائیوں کو رقم کرتا ہوں انہیں قرطاس کی زینت بناتا ہوں
میں اتنا جانتا ہوں چار سو پھیلے ہوئے دکھ درد جتنے بھی زیادہ ہوں
انہیں ہم باہمی احساس سے کم کر بھی سکتے ہیں
اسی باعث میں خوشیاں بانٹتا ہوں
خوشبوئیں تقسیم کرتا ہوں
حسیں موسم ،سجل کھلتی ہوئی کلیاں، دھنک کے رنگ
اجلی دھوپ ،کھلتی چاندنی
اور مستقل اٹھکیلیاں کرتی ہوئی بادِ صبا
پھولوں کی نازک پتیوں پر رقص کرتے اوس قطرے
شاخساروں پر چہکتی ننھی چڑیاں
پھول سے بچوں کی آنکھوں میں دمکتے خواب
بل کھاتی ہوئی شفاف ندیاں، آبشاریں،
سبزہ و گل سے مزین کوہساروں کے حسیں موسم
یہ سب منظر مرے احساس کو مہمیز کرتے ہیں

میں کیسے چار سو پھیلی ہوئی رعنائیوں سے

اپنا رشتہ توڑ لوں
اور حسن کی تحسین سے پہلو تہی کر لوں ۔

You might also like
  1. younus khayyal says

    وااااااااہ۔۔۔۔۔۔ کیانظم ہے۔ شفاف بہتے پانی کی طرح رواں ۔جس کی تہہ میں محبت کاایک گہرااحساس رنگ بکھیررہاہے۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post