سلام بہ کربلا : خالد علیم

اے فلکِ کربلا ، تشنہ لب و تشنہ کام
دیکھ سرِ دشت ہے سبطِ رسولِ انامؐ
قافلۂ صدق کا شاہ سوارِ عظیم
راحلۂ صبر کا راہ برِ خوش خرام
دیکھ تری خاک پر کس کا گرا ہے لہو
کس نے لٹایا ہے گھر، کس کے جلے ہیں خیام
اے نگہِ دشتِ شام! دیکھ ذرا غور سے
اپنے شہیدوں کا خوں، اپنے اسیروں کی شام
کس نے بتایا تجھے، کس نے دکھایا تجھے
کذب بیانوں پہ ہے کارِ شجاعت حرام
سبطِؓ نبی ؐ کے سوا، ابنِ علیؓ کے سوا
کون ہوا سرخ رُو، کس کو ملا ہے دوام
تیرے کفِ گِل پہ ہے لمسِ قدومِ حسینؓ
رہ گزرِ کربلا! تجھ پہ ہزاروں سلام

You might also like
  1. گمنام says

    سبحان اللہ. اپنے مخصوص انداز فکر اور اسلوب کا حامل یہ سلام خاصے کی چیز ہے.

  2. نوید صادق says

    سبحان اللہ. اپنے مخصوص انداز فکر اور اسلوب کا حامل یہ سلام خاصے کی چیز ہے.

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post