آبشار : فیض محمد صاحب

فیض محمد صاحب
آبشار کے شور سے
آواز سُنائی نہیں دیتی
تمہارے لبوں پہ بکھری تبسم
منظروں میں چاشنی بھر رہی ہے
پہاڑ تمہارے بدن سے انگڑاتی خوشبو
بازوؤں میں بھر کر مخمور ہیں
دور دور تک
اُلفت کے رنگوں سے
جذبے
دلفریب ہو رہے ہیں
میری نگاہوں میں دیکھو تو!!!
زیادہ سب سے
جاناںِ جان تم
دل کو بھا رہے ہو
اس سُہانے موسم میں
دلکش نظاروں میں
غضب ڈھا رہے ہو

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post