" ۔۔۔ م ۔ ب شائق مرحوم۔۔۔"


از : ناصرمحموداعوان

“م ۔ ب شائق مرحوم۔۔۔۔۔۔۔” دنیا یہی کہتی تھی۔ کہ م۔ ب شائق “مرحوم” ہوگئے ہیں۔۔۔۔ بتانے والے کہتے تھے کہ ان کی قبر وادی سون کے گاوں چٹہ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھیل اوچھالی کے جنوبی کنارے پر۔۔۔ لیکن کہنے والوں کی زبان کون روک سکتا ہے۔۔۔ میں کسی کی تردید بھی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
شائق صاحب کے نام کے ساتھ ‘مرحوم’ کا لاحقہ ہر ایک کےنوک زبان تھا۔۔ اور میں کس کس کی تردید کرتا ۔۔۔۔
میری ان سے ملاقات کواگرچہ گیارہ سال ہوگئے تھے۔۔۔۔ لیکن ملاقات نہ ہونے کا مطلب مرحوم ہونا تھوڑی ہوتا ہے! کئی جاننے والوں سے آپ کی ملاقات سالوں نہیں ہوتی۔۔ اور وہ اچانک کسی روز مل جاتے ہیں۔۔ مجھے یقین تھا کہ م۔ب شائق بھی کسی روز مجھے اچانک مل جائیں گے۔۔۔ میں کئی بار ان کے گاوں چٹہ گیا ۔۔ لیکن یہ عجیب اتفاق تھا کہ میری ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔۔ لیکن یہ کوئی انہونی نہیں۔۔ پہلے بھی کئی بار ایسا ہوتا تھا ۔ میں ان کے گاوں جاتا تھا اور وہ کہیں پردیس یا کسی دوسرے گاوں گئے ہوتے تھے۔۔اس دن ہماری ملاقات نہیں ہوپاتی تھی۔۔ اگلے دن ہماری محفل جم جاتی تھی۔۔۔ 
پچھلی بار ان کے گاوں گیا تو ایک عزیز نے کہا کہ آو آپ کو شائق مرحوم کی تربت پہ لے جاوں۔۔۔ لیکن میں نے انکار کردیا۔۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ مجھے جھوٹ موٹ کی کوئی قبر دکھا دیےگا اور کہے گا کہ یہ م۔ب شائق کی قبر ہے۔۔۔۔ اس پر جھوٹ موٹ کی تختی بھی لگی ہوگی۔۔۔۔
یہ 29 مئی 2008 کی بات ہے۔۔ جب لوگوں نے م۔ ب شائق کی موت کی افواہ اڑائی تھی۔۔ یہ افواہ اتنی طاقت ور تھی کہ بڑے بڑوں نے اس پر یقین کر لیا تھا۔۔ اور تو اور ان کے بھائی جاوید صاحب نے مجھ سے تعلق مضبوط کرلیا۔ کہتے کہ م۔ ب شائق تمھارے استاد تھے۔۔۔۔ تم ان سے محبت کرتے تھے۔۔ ان کے پاس پہروں بیٹھتے تھے. . تمھیں دیکھتے ہیں تو اپنے بھائی کی محبت جاگ اٹھتی ہے۔۔ میں دل ہی دل میں جاوید صاحب کی سادہ لوحی پہ ہنس دیتا کہ یہ بھی لوگوں کی افواہوں پر اعتبار کرکے اپنے بھائی کو “مرحوم” سمجھ بیٹھے ہیں۔۔
میں وادی سون جاتا تو جاوید صاحب سے ملاقات ضرور ہوتی۔۔ وہ میرے ہاں آجاتے یا میں ان کے گھر چلا جاتا۔۔ گھنٹوں اور پہروں شائق صاحب کی باتیں ہوتیں۔۔ ان کی بذلہ سنجی اور خوش گپیوں کے قصے، ان کی شاعری ، رکھ رکھاو کی کہانیاں سنی اور سنائی جاتیں۔۔ جاوید صاحب خود اچھے شاعر تھے۔۔ اپنا کلام سناتے، شائق صاحب کے اشعار سناتے۔۔۔ مزا دو آتشہ ہو جاتا۔۔۔ شآئق صاحب کے اشعار سناتے تو جی بھر بھراتا اور ڈبڈباتی آنکھوں سے کہتے۔۔ “ہائے شائق مرحوم۔۔ “
ایک بار مجھے کال کی کہ شائق مرحوم پر نظم کہی ہے سوچا آپ کو سناوں۔۔ انھوں نے نظم سنائی۔۔ کیا دل گداز نظم تھی۔۔ لیکن مجھے لگا کہ انھوں نے یہ نظم مجھے یقین دلانے کے لیے کہی ہے کہ شائق صاحب اب “مرحوم” ہوچکے ہیں۔۔ لِیکن بھلا میں ان کے اس پھیر میں آنے والا کہاں تھا ۔۔۔۔
یہ سب ماضی کی باتیں ہیں۔۔کل کی سنیں۔۔عصر کے وقت عجیب سی بے کلی تھی۔۔ کسی پہلو آرام نہیں آرہا تھا۔۔ پتا نہیں چل رہا تھا کہ ایسا کیوں ہے۔۔ شام کے وقت گاوں سے فون آیا :”شائق مرحوم کے بھائی جاید صاحب فوت ہو گئے ہیں۔۔”
” شائق مرحوم”۔۔۔۔۔۔ کیسی جگر خراش خبر تھی۔۔ شائق مرحوم” کا لفظ سن کر سینہ پاش پاش ہو گیا۔۔ پہلی بار مجھے لگا کہ میرے استاد م۔ب شائق واقعی” مرحوم” ہو چکے ہیں۔۔
“جاوید صاحب فوت ہوگئے ہیں” تو شاید میں نے سنا ہی نہ تھا۔۔ اس طرف دھیان گیا تو کلیجہ دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔۔۔
مجھے آج پتا چلا کہ م۔ ب شائق کو جاوید صاحب نے زندہ رکھا ہوا تھا۔۔ سگے بھائی ہونے کی وجہ ان کے ناک نقشے میں بے حد مماثلت تھی۔۔ جاوید صاحب کی آنکھوں میں مجھے شائق صاحب کی آنکھیں نظر آتی تھیں اور ان کی شخصیت میں شائق مرحوم کا ہرتو دکھائی دیتا تھا۔۔ جاوید صاحب گئے تو ساتھ اپبے بھائی اور میرے استاد م۔ ب شائق کا عکس بھی لے گئے۔۔
میرا دل کراہ رہا ہے۔۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ جاوید صاحب کے چھوٹے بھائی آصف صاحب سے کس کی تعزیت کروں۔۔ ان کے بڑے بھائی شائق مرحوم کی یا ان کے منجھلے بھائی جاوید صاحب کی۔۔۔
(ناصر محمود اعوان)
Image may contain: 1 person
You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post