غزل

غزل : سعید سادھو

بے طلب بے سبب پڑے ہوئے ہیں
کیسی مشکل میں سب پڑے ہوئے ہیں

اب  ہواؤں  پہ  آئے  ہے   بوسہ
گو رسائی میں لب پڑے ہوئے ہیں

جن سوالوں سے آگ پھیلنا تھی
وہ ابھی زیر لب پڑے ہوئے ہیں

میرے پیچھے سگانِ کوچہءِ جہل
تب پڑے تھے اور اب پڑے ہوئے ہیں

جانور اور پرند عیش میں ہیں
وہ جو تھے منتخب، پڑے ہوئے ہیں

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں