غزل : سعید اشعر

کسی صحرا میں اک دریا رواں ہے
کبھی  تیرا ، کبھی  میرا گماں ہے

ترے بارے میں، میں واضح نہیں ہوں
مری آنکھوں میں فرقت کا دھواں ہے

کسے  معلوم  کشتی  کا  ہوا کیا
ہوا کے ہاتھ میں اک بادباں ہے

اچانک یوں نہیں ہوتا اندھیرا
کوئی سورج ہمارے درمیاں ہے

وہ جو اک لفظ تجھ سے کہہ نہ پایا
صدا کے سلسلوں سے بد گماں ہے

جو میرے عکس کا حصہ بنی تھی
وہ آئینے کے باہر اب کہاں ہے

کوئی تصویر تھی شاید کسی کی
یہاں دیوارِ دل پر اک نشاں ہے

کوئی کھڑکی نہیں روشن گلی کی
کسی کا تیرگی میں امتحاں ہے

کوئی جلتے ہوئے سورج کا ایندھن
کسی کی انگلیوں میں آسماں ہے

مجھے مردہ حوالوں سے بچاؤ
مرا کردار پانی کا گماں ہے

ترے بارے میں جملے جو لکھے تھے
وہ پریوں کی مکمل داستاں ہے

مرے نزدیک مت آنا ابھی تم
شہر سارا تمھارا رازداں ہے

مجھے ڈر ہے کوئی آفت نہ آئے
کسی کی والدہ نوحہ کناں ہے

نجانے کس گھڑی خاموش ہوگی
تری آنکھوں سے چسپاں اک زباں ہے

ابھی محفوظ ہے ظلمت کے شر سے
ابھی جنگل میں میرا کارواں ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post