غزل : اکمل حنیف

 

باتیں تری  غلط  نہ  ترے  ضابطے  غلط

لیکن تجھے جو ملتے ہیں وہ مشورے غلط

 

اب واپسی کی راہ  بھی آتی  نہیں  نظر
عجلت میں ہم نے چن لیے تھے راستے غلط

 

آندھی  کو  دے رہا ہے جو   الزامِ  تیرگی
رکھےتھےخود ہی صحن میں اُس نے دیے غلط

کرتا رہا ہے پیار کے جو حق میں گفتگو
بیٹی ہوئی جواں تو ہوئے نظریے غلط

مانا ترے لبوں پہ ہنسی جچتی ہے بہت
وقتِ جدائی پر ترے یہ قہقہے غلط

جس کوغزل کے میں نے ہی معنی بتائےتھے
وہ مجھ سے کہہ رہا ہے ترے ، قافیے غلط

اکمل حنیف  ہار  کے بیٹھا  ہے زندگی
اِس نےکیے تھےعشق میں کچھ فیصلے غلط

 

You might also like
  1. گمنام says

    بہت بہت شکریہ سر
    سلامتی کی دعائیں

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post