غزل : ازور شیرازی

وبا کے خوف سے جاری ہے کال جینے کا
ارادہ پھر بھی رکھو اب کے سال جینے کا

میں مانتا ہوں کہ ہر سو ہے موت کا منظر
کسی طرح سے تو رستہ نکال جینے کا

یہ سوچ کر ہی غلامی کو رد کیا میں نے
کسی کے ذہن میں آئے خیال جینے کا

عذابِ جاں سے نکالے کسی طرح ہم کو
ہوا ہے جس کو بھی حاصل کمال جینے کا

میں اپنی عمرِ رواں کے طلسم سے نکلا
تو جان پایا فریبِ جمال جینے کا

فشارِ ذات سے نا آشنا نہیں پھر بھی
میں کر رہا ہوں مسلسل سوال جینے کا

You might also like
  1. Musa Kazim says

    واہ واہ واہ۔۔۔ کیا کہنے۔۔ لُطف آ گیا۔۔ ایک ایک مصرعہ الگ الگ داستان ہے۔

  2. یوسف خالد says

    عذابِ جاں سے نکالے کسی طرح ہم کو
    ہوا ہے جس کو بھی حاصل کمال جینے کا

    بہت خوب عمدہ غزل

  3. عادل says

    غزل بہت متاثر کن ہے۔ خیال کی تاذگی اور بیان کی خوش سلیقگی نے لطف بڑھا دیا ہے

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post