سیدہ فرح شاہ کا شعری مجموعہ " قیاس "

   

تبصرہ نگار ۔  پروفیسر يوسف خالد

سیدہ فرح شاہ کا شعری مجموعہ ” قیاس ” انحراف پبلیکیشنز لاہور،اسلام آباد کے زیر اہتمام شائع ہو چکا ہے – 128 صفحوں پر محیط یہ شعری مجموعہ اردو غزل کی حالیہ تاریخ میں ایک خوبصورت اضافہ ہے
سیدہ فرح شاہ کا تعلق گجرات کے ایک سادات گھرانے سے ہے -انہوں نے تدریس کے ساتھ ساتھ بہت سے انتظامیہ عہدوں پر اپنے فرائض انجام دیے -بطور سیکریٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور بعد ازاں بطور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین اپنی ذمہ داریاں ادا کیں – اردو ادب کے ساتھ ان کا بڑا گہرا لگاؤ ہے – وہ اپنی سرکاری مصروفیات کی وجہ سے بہت کم ادبی تقریبات میں شریک ہوئیں – لیکن اب وہ ہمہ وقت اپنی تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں – فرح صاحبہ بہت عمدہ اور پختہ شاعرہ ہیں ان کے موضوعات میں تنوع ہے اوران کا اسلوب بہت توانا ہے — ان کی غزلیں پڑھتے وقت یہ مشکل پیش آتی ہے کہ کس شعر کو منتخب کیا جائے کسے چھوڑا جائے – ہر شعر اپنی جانب کھینچتا ہے -اس مجموعہ کا فلیپ جناب اختر عثمان نے لکھا ہے جب کہ بیک فلیپ محترم افتخار عارف صاحب نے تحریر کیا ہے –
چند شعر احباب کے مطالعہ کے لیے بطور نمونہ منتخب کیے ہیں

کون کہتا ہے کہ فقط وقت گزاری ہوئی ہے
میں نے یہ عمر ترے عشق میں ہاری ہوئی ہے

مجھ کو چلتے ہوئے محسوس نہیں ہوتا تھا
کیسے ہجرت مرے اعصاب پہ طاری ہوئی ہے

تیری چاہت میں سنوارا ہے غزل کو میں نے
آ ذرا دیکھ کہ کیا گوٹا کناری ہوئی ہے

میں سلگتی بھی ہوئی مروت سے
جل بجھوں تو دھواں نہیں ہوتی

میں نے دیکھا ہے اس ہوتے ہوئے
میرے منہ میں زباں نہیں ہوتی

تمہاری یاد کے معبد سے میں نہیں نکلی
خیال و خواب کو رکھا ہے با وضو اب تک

مری نگاہ سے دیدار کی ہوس نہ گئی
بھرا نہیں ہے کسی طور یہ سبو اب تک

میری خواہش تھی کہ رکھتا وہ شراکت مجھ سے
میرے حسے میں بھلے سارا خسارا ہوتا

ہار جاتا وہ مرے سامنے جیون اپنا
وہ مرے ساتھ فرح سارے کا سارا ہوتا

خیال نامہ کی جانب سے محترمہ فرح شاہ کو بہت بہت مبارک پیش کی جاتی ہے

یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post