کالم

کبھی سوچا تم نے : ڈاکٹر اسد مصطفیٰ

پاکستان میں جاگیرداری نظام جتنا پرانا ہے،اس طبقے کے ہاتھوں غریبوں اور ہاریوں پر ظلم اوران کااستحصال بھی اتنا ہی پرانا ہے۔ پی ٹی وی پر امجداسلام امجد کا ڈرامہ وارث وہ پہلا رجحان ساز ڈرامہ تھا جس نے جاگیرداری نظام کی بدصورتیوں کو کچھ اس انداز سے نمایاں کیا کہ پی ٹی وی کے […]

غزل

غزل : طاہر حنفی

جو میسر تھی وہ ہر گھڑی ہار دی اک جواری نے کل زندگی ہار دی جو بڑی چاہ سے میں نے بیٹی کو دیں بالیاں ہار دیں وہ کڑی ہار دی عشق کرنا مجھے آخر آ ہی گیا عاشقی کے لیے عاشقی ہار دی ہم بھی دنیا کی رو میں رواں ہو گئے ایسا فیشن […]

قرآن

Al_Quran(القرآن)

ترجمہ : صفدربھٹی سورۃ الکھف آیت 102 بسم اللّہ الرحمن الرحیم کیا وہ لوگ جو منکر ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کارساز بنا لیں گے، یقیناً ہم نے ایسے منکروں کی ضیافت کیلیے جہنم تیار کر رکھی ہے. Surah Al-Kahf 18 verse 102 In the […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

میرے آنسو وہ پونچھتا ہی نہیں دل کے در کو وہ کھولتا ہی نہیں عشق نے دی ہے روز قربانی یہ تو کٹنے سے چوکتا ہی نہیں آگ سے میں نے دوستی کرلی اور دریا کہ روکتا ہی نہیں میرے ضدی کی ضد مجھے مارے میں جو روٹھوں تو پوچھتا ہی نہیں جب سے پتھر […]

کالم

یوسف خالد، سموسہ پٹی اور جواز جعفری کی نظم : یونس خیال

کسی کویہ بتانے کے لیے کہ پروفیسریوسف خالدؔسے میراتعلق کتناپُرانا ہے ،ایک بارنہیں کئی بارسوچناپڑتاہے۔ وہ اِس تعلق کو جتنی اہمیت دیتاہے میں بھی اُسی قدراُسے اپنے لیے اہم سمجھتاہوں۔اِ س سے زیادہ اس نہیں کہ ایسا سوچنے سے ہم دونوں ہی ایک دوسرے کےلیے غیراہم ہوجائیں گےاورمیرے نزدیک’’ غیراہم ‘‘تعلق کی بجائے زندگی میں […]

نظم

جو مجھ کو عورت بنایا ہوتا مرے خدا نے : ڈاکٹرستیہ پال آنند

  میں کیسے اس بات کو سمجھتا کہ اپنے مذہب کی رو سے میں نصف شخصیت ہوں مرا حلف نامہ قاضی ٔ وقت کے لیے معتبر نہیں ہے کہ صرف آدھا گواہ ہوں میں ۰۰۰۰۰میں کیسے اپنی شکست کا اعتراف کرتا اگر مجھے اس حقیقت ِ ناروا کی بابت بتا یا جاتا کہ جسم و […]

نظم

ہمارا المیہ یہ ہے : یوسف خالد

ہمارا المیہ یہ ہے ہم اک ایسے خطِ تقسیم پر محو سفر ہیں جس کے اک جانب گھنے برگد تھے کچے راستے تھے کچے گھر تھے ہوا میں کچی کلیوں کی مہک تھی دور تک پھیلی ہوئی سرسوں تھی چرواہے تھے ریوڑ تھے پرندوں کی حسیں ڈاریں تھیں ڈیرے داریاں تھیں ڈھولے ماہیے تھے بہر […]

نعت

کافی ہے مُجھ کو نقشِ کفِ پا حُضور کا : پروفیسر بشیر احمد قادری

جنّ و بشَر  کے لب پہ  ہے نغمہ حُضور کا ہر گُل میں،ہر شجَر میں ہے جلوہ حُضور کا اے کاش ! خاکِ کوۓ مدینہ ہو آنکھ میں دیکھوں یہیں پہ بیٹھ کے روضہ حُضور کا کیسے سماییں آنکھ میں جنّت کے کاخ و کُو دیکھا ہے جب سے گنبدِ خضریٰ حُضور کا شاہِد ہے […]

تنقید

” فردوسِ بریں ” اور اس کے کردار ۔۔۔ایک تاثر : شبیر احمد قادری

  داستانیں ہوں یا ناول اور افسانہ کردار اساسی حیثیت رکھتا ہے۔کردار جس قدر توانا اور مضبوط ہو گا ، کہانی اسی قدر جان دار پختہ اور دلچسپ ہو گی۔ڈاکٹر میمونہ انصاری کی اس راۓ کی تائید میں کوٸ امر مانع نہیں کہ انیسویں صدی کے ناولوں میں غالب رجحان کردار نگاری کا ہے اور […]

نظم

چاندنی : محمود پاشا

جب تلک ناچیں نہ لہریں بحر پر ہو چکوری پر نہ طاری بے خودی روپ دلہن کا نہ دھارے دشت گر مَور نی بولے نہ آدھی رات کو مہ جبینوں کے نہ دل دھڑکیں اگر عاشقوں پر گر نہ اترے اضطراب اور فضا منظر نہ دے اک خواب کا چاند تیری چاندنی بیکار ہے محمودپاشا