افسانہ

کونپل کا قتل : خاورچودھری

  مہذب اور باشعور لوگوں کا شیوہ جوہوا کرتا ہے اور جس روش پر اُن کی زندگی کا انحصار ہوتا ہے؛وہ اُس سے خوب شناساتھی۔ یُوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا ،کہ تہذیب و شائستگی اور ذہانت و فطانت کی مٹی میں گوندھ کراُس کاوجودبنایاگیا تھا۔ جس ماحول میں وہ پروان چڑھی تھی، وہاں بلند آواز […]

غزل

غزل : کاظم علی

ہر ساتھ گزری رات کو ہلکا لیا گیا سارے معاملات کو ہلکا لیا گیا نا آشنا نہ تھے مرے حالات سے مگر پھر بھی مری بسات کو ہلکا لیا گیا کچھ سوچ کر ہی آیا تھا دہلیز پر تری محفل میں جس کی بات کو ہلکا لیا گیا کل تک بہت لگاؤ تھا ناچیز سے […]

نظم

خطا طراز بدن سے خطاب : ڈاکٹرستیہ پال آنند

تو کبھی بدلے گا بھی اس جسم سے باہر نکل کر؟ ایک پنجرے میں مقید جسم کے سب آٹھ سوراخواں کے کشکولوں میں اپنی کم بقا محرومیوں کی دکھشنا بھرتا ہوا تو آج بھی یہ چاہتا ہے سارے کشکولوں کو بھر لے گیروا چولا پہن کر ، کان پھڑوائے (کہ یہ آدیش تھا سب جوگیوں […]

تنقید

نوید ملک کی طویل نظم منقوش۔۔۔ایک تاثر : ڈاکٹر مظہر عباس رضوی

ذہنی حبس کے اس دور میں جب احتساب صر ف غریب ،کمزور ، نادار اور لاچار کا ہی ہو سکتا ہے،جب شرافت کو کمزوری اور خلوص و دیانت داری کو بے وقوفی سمجھا جاتا ہو، جب مذہبی، سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور سیاسی گروہ بندیوں کو بنیاد بنا کر ترقی سے پیوستہ کیا جاتا ہو۔جب عدالت […]

کالم

سو توجیہات کی ایک توجیہ : اقتدار جاوید

اِس دفعہ بھی عید دادو کے گھر مناٸیں گے نا اب میں اس معصوم کو کیا بتاتا کہ اس انہونی نے عید کا تصور ہی تبدیل کر دیا ہے نہیں ہم عید پر یہیں ہوں گے یہ کیا بات ہوٸی اس ننھی جان نے منہ بسورتے ہوٸے پوچھا وہ دادو تو پانچ سال ہو گٸے […]

تنقید

ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۳)

جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور جز  وہم  نہیں  ہستئ اشیا  مرے آگے ۰۰۰۰۰ (اس نظم میں ایک تجربے کے طور پر دو بحور کے امتزاج کو روا رکھا گیا) (ایک) ہے مسترد ، خارج شدہ میرے لیے وہ شے جو قطع نظر ‘نام’ کے متشکل نہیں ہے جس کا بناؤ، جس کی بُنت، […]

ديگر

اُداس شامیں : فریدہ غلام محمد

ایک وقت تھا جب شامیں اداس نہیں لگتی تھیں ۔۔۔۔مجھے خبط تھا گھر کے سارے بلب جلا دوں اور میں بھاگتی پھرتی ۔۔۔بلب روشن کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔ارے دیکھیں دادی ۔۔۔۔وہی منظر ھے نا ۔۔میں دادی جان کے پاس آ کر کہتی ۔۔۔۔۔۔ان کی آنکھوں میں نمی سی آ جاتی ۔۔۔۔۔۔رونا نہیں پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔میں بابا سے […]

نظم

وبا کے ختم ہونے تک : فیض محمد صاحب

چلو صاحب چلیں جنگل میں جہاں شہر کے غُل سے بہت بہت دور اک پرسکوں گھر ہو اُس میں صرف تنہا میں اور تمہاری یادیں ہوں پہاڑ چوٹیوں تک درختوں کے سائے سے ڈھکا ہو جہاں چرند پرند اپنی آوازوں سے امن کے گیت گنگنائیں سامنے بہتی ندی ہو اور اس میں بہتی ہوئی پر […]

غزل

بچا لیتی ہے آگے بڑھ کے مجھ کو عاجزی میری : یوسف خالد

انوکھا درد ہے سب سے جدا ہے سرخوشی میری ہوئی ہے ایک ایسی زندگی سے دوستی میری مری گفتار سے کھلتا نہیں ہے مدعا میرا مرے عیب و ہنر کی ترجماں ہے خامشی میری تعجب کیا جو مجھ میں باغیانہ سوچ پلتی ہے مری مٹی میں ہی گوندھی گئی تھی سرکشی میری مثالِ بیج ہیں […]

غزل

ہُنر میں اُس کی عطا بھی بہت ضروری ہے : جلیل عالی

ہُنر میں اُس کی عطا بھی بہت ضروری ہے دوا کے ساتھ دعا بھی بہت ضروری ہے حدِ زمان و مکاں کو عبورنے کے لیے رضا و اذنِ خدا بھی بہت ضروری ہے کرو خلاؤں کو زیرِ نگیں پہ یاد رہے زمیں کے ساتھ وفا بھی بہت ضروری ہے تمہارے حکم سے انکار بھی نہیں […]