نظم

موت زدہ ( طویل نظم ) : فرحت عباس شاہ

1997 میں گوراپبلشرز سے شاٸع ہونے والی ، 28 ابواب پر مشتمل یہ طویل نظم ایک شعر سے شروع ہوتی ہے ، پھر ایک قطعہ ہے اور پھری نثری نظم کا ایک ٹکڑا ہے ۔ اس پہ باب اول کا اختتام ہوتا ہے ۔ باب دوم آزاد نظم کی ہٸیت لیے ہوٸے ہوے ہے اور […]

کالم

لاہور کا آوارہ خیال …ڈاکٹر یونس خیال : منیرفراز

ڈاکٹر یونس خیال سے دو تین برس پرانی یاد اللہ ہے ۔ اگرچہ کہ اُن سے بالمشافہ ملاقات کبھی نہیں ہوئی لیکن اِس کے باوجود میں اُن کے ہاتھوں کے لمس سے آشنا ہوں ۔ سوچئے کہ جو ہاتھ روشنی، خوشبو، پھول، محبت اور امن کے شعر تخلیق کرتے ہوں اور معاشرے کے نباض بھی […]

کالم

برسبیل ِتذکرہ : اقتدار جاوید

” برسبیل ِتذکرہ” کے عنوان تلے سابق وفاقی سیکرٹری حکومت پاکستان توقیر احمد فائق کی خود نوشت حال ہی منصہ ِشہود پر آئی ہے۔آپ بیتی یا سوانح عمری پڑھتے ہوئے مجھے دو لوگ ہمیشہ یاد آتے ہیں ایک مرزا اسداللہ خان یعنی غالب اور دوسرے ابوالمنصور تیمور یعنی تیمور گورگانی۔غالب نے اپنی سرگزشت کے بارے […]

تنقید

فریم کے اندر رہ کر لکھنے والی دعا عظیمی: منیرفراز

کب، کہاں اور کیسے دعا عظیمی سے ادبی رابطہ ہوا، یہ یاد نہیں، لیکن نصف دہائی کا قصہ ضرور ہے، گمان ہے کہ موسمِ بہار ہوگا کہ ایسے ادبی شگوفے بہار میں ہی کِھلتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک سنجیدہ اور شوخی کا مرکب مزاج لکھنے والی اپنی بات درمیان سے بات شروع کرتی […]

تنقید

بڑے موضوع پر بڑی نظمیں تخلیق کرنے والا یونس خیالؔ : فرحت عباس شاہ

” بستی سے جب نکلے تھے جانے کتنا روئے تھے کالی رات ، سفر اور میں “ شاعری کی اب تک اَن گنت تعریفیں بیان کی گئی ہیں ۔ خود میں نے اسے کئی طرح سے بیان کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے ۔ ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ ” شاعری جذبات […]

کالم

تصور ِ شعر : اقتدار جاوید

تصور ِ شعر میں بنیادی اہمیت اس تصور کی ہے جو ایک تصویر کا حامل ہے۔ اسے امیج سازی کہنا بہتر ہے۔امیج یا تصویر کا تصور وہ بنیادی خاکہ ہے جس پر شعر نے تعمیر ہونا ہے۔امیج واضح ، غیر مہمل ، کنکریٹ اور Tangible ہونے کے اوصاف رکھنے کی وجہ سے شعر کی ساخت […]

تحقیق

عزیزؔ بارہ بنکوی ۔۔۔ امینِ دولتِ غم : اختر جمال عثمانی

(07مئی یومِ وفات کے موقع پر خصوصی تحریر ) ضلع بارہ بنکی اتر پردیش کی راج دھانی لکھنئو کے قرب میں واقع ہے اس ضلع کی ہمیشہ اپنی ایک الگ شناخت رہی ہے اس ضلع نے ہر شعبہ حیات میں ایسی نابغہ روزگار شخصیتوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنے فن و کمال سے […]

افسانہ

حشرکامیدان : فریدہ غلام محمد

آج اس نے بڑی لگن سے اپنے چھوٹے سے صحن میں جھاڑو ماری تھی ۔ہلکا ہلکا پانی کا ترکاو کیا۔کمرے کو صاف کیا ۔ایک بڑا پلنگ ،چھوٹا شیشہ اور ایک صندوق کے سوا کیا رکھاتھا مگر انھیں بھی خوب صاف کیا ۔گھڑے کو بھر کے رکھا ۔پو پھٹنے ہی والی تھی ۔چودرائن سے لسی بھی […]

افسانہ

ہاہویا : ع ع عالم

"موت کے علاؤہ ‘کینسر’ کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ” ڈاکٹر نے درجہ چہارم کی ملازمہ سے کہا جو اپنی کینسر میں مبتلا ساتھ میں کام کرنے والی مریضہ کی سفارش لے کر آئی تھی۔ "ڈاکٹر صاحبہ! خدارا آپ ہی کچھ کردیں۔ بے چاری بہت دکھیاری ہے۔ اس کی عمر رسیدہ بیٹیاں ابھی گھر میں […]

Uncategorized

’’دانہ ہائے ریختہ ‘‘ از ڈاکٹر محمد نواز کنول : ڈاکٹر سمیرا اکبر

’’دانہ ہائے ریختہ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز کنول کی حالیہ تصنیف ہے جو 2022 میں مثال پبلشرز فیصل آباد سے شائع ہوئی۔یہ کتاب اردو کے نابغہ روزگار، ہفت زبان اور مشکل پسند شاعرو نثار عبدالعزیز خالد کی سادہ گوئی کے انتخاب پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر محمد نواز کنول اردو تحقیق ،تنقید اور تدریس کا ایک […]