غزل
لیاقت علی عاصم کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا مجھے اپنا ہاتھ بھی چھو گیا تو خیال تیری طرف گیا کوئی آ کے جیسے چلا گیا، کوئی جا کے جیسے گیا نہیں مجھے اپنا گھر کبھی گھر لگا تو خیال تیری طرف گیا مری بے کلی تھی شگفتنی سو بہار مجھ […]
مجید امجد کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے کتابچے لئے ہوئے کھڑی ہیں منتظر….. حسین لڑکیاں ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر، حسین لڑکیاں! مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے ابل پڑے الجھتے بازوؤں، چٹختی پسلیوں کے پُر ہراس قافلے گرے، بڑھے، مُڑے بھنور ہجوم کے کھڑی ہیں یہ بھی، راستے پہ، اک طرف […]
تبصرہ : یونس خیال ’’روشنی دونوں طرف‘‘ ظہورچوہان کاچوتھاشعری مجموعہ ہے۔ اکانوے غزلوں اور۱۴۴صفحات پرمشتمل اس عمدہ شعری مجموعے کو ’’ الکتاب گرافکس ‘‘ ملتان نے اہتمام کے ساتھ چھاپاہے ۔اس مجموعہ کی میری طرف سے رسیدمیں دیری کی وجہ میری مصروفیت رہی ہے ،اس بات پران سے دلی معذرت ۔ ظہورچوہان کی غزل کی […]
مجھے ٹھیك سے یادنہیں كہ میں پہلی باركب رویاتھالیكن آنسووں كے ذائقےسے آشنائی دسمبر1971ء میں ہوئی۔عجیب لمحہ تھاایك بینڈ كے ریڈیوكے سامنے گھركے سب افرادجمع تھے اورشایدگلی محلے كہ كچھ لوگ بھی۔ یہ وہی ریڈیوتھاجسے پیرصاحب (والدِ گرامی)1965ء میں خرید كرلائے تھے اورخودمحاذِجنگ پر چلے گئے۔ان دنوں دادامرحوم گھركے سامنے گلی میں چارپائی ڈالےریڈیو اورحقے […]
از: صائمہ نسیم بانو رات نےانگڑائی لی جگراتےلوری سنارہےتھے نیند جاگ رہی تھی رات تاریکی کاغازہ ملتی رہی جگراتے بانہوں کےحلقے میں اسےتھپتھپاتے رہے نیند جاگتی رہی درد نے ہر دیوار کو رنگ دیا مکان سسکنے لگا کھڑکی کےپٹ ضبط سے منجمد تھے گھٹن رقص کررہی تھی اس کے پیر زخمی تھے ہوانےجَھریوں سے جھانکا […]
تبصرہ : خورشیدربانی بقول معروف شاعر اور محقق خالد مصطفیٰ،ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کوپاکستان میں وفیات نگاری کے امام کا درجہ حاصل ہے۔ان کا تحقیقی کام مفصّل اور عمدہ ہے، کئی کتب منظر عام پر لاچکے ہیں۔تازہ کتاب”وفیات ِمشاہیرخیبرپختونخوا“کے نام سے شائع ہو ئی ہے جس میں مذکورشخصیات کے کوائف درج کرتے ہوئے،انھوں نے اس […]
صرف دیوارکورستے کی رکاوٹ نہ سمجھ پسِ دیوار کہیں سایہ ٗ دیوار بھی ہے تو نہیں جانتا غالب کے طرف داروں کو جوسُخن فہم ہے غالب کا طرف داربھی ہے ( حمایت علی شاعر)
ڈاکٹرخورشید رضوی دل کو پیہم وہی اندوہ شماری کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ آنکھیں نہیں ملتیں کہ جنھیں آتا تھاخاک سے دل جو اَٹے ہوں، انھیں جاری کرنا موت کی ایک علامت ہے، اگر دیکھا جائےروح کا چار عناصر پہ سواری کرنا تُو کہاں، مرغِ چمن ! فکرِ […]