میں پل دو پل کا شاعر ہوں : اسلم ملک

( ساحر لدھیانوی کی 40 ویں برسی پر خصوصی تحریر)

میرے یونیورسٹی کے زمانے میں شاید ہی کوئی طالب علم ہو جس نے ساحر کی ’’تلخیاں‘‘ نہ پڑھی ہو ۔ان کی مشہور و معروف نظم “تاج محل کے علاوہ”میں نہیں تو کیا”، “یہ کس کا لہو ہے”، “میرے گیت تمہارے ہیں”، “نور جہاں کے مزار پر”، “جاگیر”، “مادام”، “لہو نذر دے رہی ہے “، “آوازِ آدم”، “خوبصورت موڑ”، “لمحہ غنیمت” جیسی نظمیں نوجوانوں کو زبانی یاد ہوتی تھیں.
اس کتاب ’’تلخیاں‘‘ کے کم از کم سو سے زیادہ جائز اور ناجائز ایڈیشن چھپے ۔ لیکن اب نوجوانوں میں اس کا ذکر سننے میں نہیں آتا۔ اب نئی دلچسپیاں ہیں۔
ساحر لدھیانوی پاکستان بننے پر لاہور آگئے تھے۔ یہاں ابن انشأ،حمید اختر، اے حمید ، عارف عبدالمتین جیسے دوستوں کی صحبت میسر تھی۔ ’’سویرا‘‘ کی مجلسِ ادارت میں بھی شامل ہوگئے۔ ساحر نے میں ’’سویرا‘‘ کے دو شمارے 3 اور4 ایڈٹ کئے.
استادِ محترم سید فضیل ہاشمی کی روایت ہے کہ ساحر نے روزنامہ ’’امروز‘‘ میں بھی چند دن کام کیا۔ اتوار کو دفتر نہیں گئے۔ پیر کو گئے تو پوچھا گیا کہ آپ کل آئے نہیں، انہوں نے جواب دیا اتوار کو تو چھٹی ہوتی ہے ۔ انہیں بتایا گیا کہ اخبار تو روز نکلنا ہوتا ہے، یہاں باری باری چھٹی ہوتی ہے، کسی کی پیر، کسی کی منگل ۔ ۔ آپ بھی کسی دن کر لیجئے گا۔ ساحر نے اتوار پر اصرار کیا ، کسی اور کی چھٹی بدلے بغیر فوری طور پر ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس دن کے بعد وہ دفتر نہیں گئے.
پھر یہ ہوا کہ پاکستان امریکی کیمپ میں شامل ہو گیا، ترقی پسندوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین سمیت ان کی تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جانے لگی.
1948 کے جون کی بات ہے، حمید اختر اور سید سجاد ظہیر کراچی گئے ہوئے تھے۔ شورش کاشمیری ساحر سے ملے اور کہا حمید اختر اور سجاد ظہیر کراچی میں گرفتار ہوگئے ہیں ( حالانکہ یہ بات درست نہیں تھی ) تمہاری بھی تلاش ہورہی ہے ، تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ بھاگ جاؤ۔ شورش کی نیت پتہ نہیں کیا تھی، ساحر چپکے سے بمبئی چلے گئے۔ اور یوں ہندوستانی فلم کو ایک بڑا شاعر مل گیا.
ساحر کی فلمی شاعری اتنی مقبول ہوئی کہ ان کے فلمی گیتوں کے مجموعوں ’’گاتا جائے بنجارہ‘‘ اور ’’گیت گاتا چل‘‘ کے جتنے ایڈیشن شائع ہوئے اتنے کسی اور فلمی شاعر کے نہیں ہوئے۔
بالی وڈ میں ساحر کی جوڑی سب سے اچھی ایس ڈی برمن کے ساتھہ بنی۔ انہوں نے او پی نیر، این دتا، خیام، روی، مدن موہن، جے دیو اور کئی دوسرے موسیقاروں کے ساتھہ بھی کام کیا.
انھوں نے کم از کم دو ایسی انتہائی مشہور فلموں کے گانے لکھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ ان میں گرودت کی “پیاسا ” اور یش راج کی ” کبھی کبھی” شامل ہیں۔
ساحر کے کچھ گانے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا
کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے
میں پل دو پل کا شاعر ہوں
ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی
نیلے گگن کے تلے
چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو
میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی
میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں
دامن میں داغ لگا بیٹھے
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں
میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
رات بھی ہے کچھ بھیگی بھیگی
ساحر کے کچھ شعر
۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھہ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے
کچھہ خار کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
وہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو
اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیں
تم نے کسی کے ساتھہ محبت نبھا تو دی
چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے
پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم
ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو
کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست
سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
میں زندگی کا ساتھہ نبھاتا چلا گیا
ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
نالاں ہوں میں بیداریٔ احساس کے ہاتھوں
دنیا مرے افکار کی دنیا نہیں ہوتی
پھر نہ کیجے مری گستاخ نگاہی کا گلا
دیکھیے آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کو
تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم
تو مجھے چھوڑ کے ٹھکرا کے بھی جا سکتی ہے
تیرے ہاتھوں میں مرے ہاتھ ہیں زنجیر نہیں
ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ
میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا
ویسے تو تمہیں نے مجھے برباد کیا ہے
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ھے
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی
ساحر 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ والد نے ان کا نام عبدالحئی اس سہولت کیلئے رکھا کہ وہ اس کا نام لے کر اسی نام والے اپنے ایک ناپسندیدہ ہمسائے کو بلا خوف گالیاں دے سکیں۔ ساحر کا 25 اکتوبر 1980 کو بمبئی میں انتقال ہوا۔ چاہنے والوں نے مقبرہ بنایا لیکن جنوری 2010 میں اسے مسمار کردیا گیا، پتہ چلا کہ یہ فیصلہ خود مسلمانوں کی تنظیم نے نئی قبروں کی گنجائش نکالنے کیلئے کیا تھا۔اس کے نتیجے میں کئی اور مسلم مشاہیر کی قبروں کا بھی کوئی نشان نہیں رہا.
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے۔
آج ساحر کی 40 ویں برسی ہے🌹

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post