مرزا غالب کا داستانی مزاج : ڈاکٹرشکیل الرحمان

ڈاکٹرشکیل الرحمن

ڈاکٹرشکیل الرحمان
     مرزا غالب ایک تہذیب کی طرح پھیلے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایک بڑی تہذیب کی علامت کے طور پر زندہ ہیں۔ وہ صدیوں کے جمالیاتی اقدار کے سفر کی داستان پیش کرتے ہیں، ان کے ذریعہ ایک بڑی تہذیب کا جمالیاتی شعور حاصل ہوتا ہے، ایک ایسی علامت ہیں کہ جن کی مدد سے ایک بڑی تہذیب اور ہندوستان کی مٹی پر دو بڑی تہذیبوں کی خوبصورت ترین آمیزشوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ غالب ایک بڑی سچائی کا نام ہے، ایک ہمہ گیر تہذیب کی ایک بڑی علامتی سچائی! ان کے ساتھ تو وہ تہذیب ہی رخصت ہو گئی کہ جس نے ایک ہمہ گیر نظام جمال کی تشکیل کی تھی، ہندوستانی جمالیات کے تسلسل کو قائم رکھا تھا اور جمالیاتی تجربوں کی خوبصورت آمیزش سے تہذیب کی اعلیٰ اور افضل ترین اقدار کو دیکھنے کے لیے ایک “نگاہ” بخش دی تھی۔

مرزا غالب کے جمالیاتی شعور اور ان کے “وژن” میں وسط ایشیا اور اسلامی ملکوں کی تہذیبی قدروں کی آمیزش کے جمالیاتی تجربوں کے تاریخی سفر اور تہذیبی مرکزوں کے جمالیاتی تجربوں، ہندوستانی تہذیب اور اسلامی تہذیب کی آمیزش اور اس کے تہذیبی جلوؤں، ہند مغل جمالیات کی مصوری، نقاشی، صورت گری، موسیقی، رقص اور فن تعمیر کی جمالیاتی جہتوں، مابعد الطبیعیاتی سطح تک لے جانے والے عوامی نغمہ نگاروں اور فنکاروں کے تجربوں اور مغل شعری اسالیب کی جمالیاتی اور سبک ہندی کی سحر انگیزی یعنی نظیریؔ، عرفیؔ، ظہوریؔ، خسروؔ اور بیدلؔ، صائبؔ اور حزیں ؔ وغیرہ کے اسالیب کی جہتوں کی جو اہمیت ہے اس سے کم ہند مغل جمالیات کے داستانی طلسمات اور قدیم قصوں، حکایتوں، فسانوں اور داستانوں کے ذخائر اور سحر انگیزیوں کی نہیں ہے۔ مرزا غالب کے شعور اور لاشعور میں “داستان” ایک مستقل روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی شاعری اور نثری تخلیقات میں داستان کی روایت حد درجہ متحرک ہے۔

“ہند مغل جمالیات” میں داستانی فضا، داستانی رومانیت اور داستانی سحر آفریں واقعات و کردار کی جو اہمیت ہے، ہمیں معلوم ہے۔ سنسکرت اور پراکرتوں کی کہانیاں اور عربی اور فارسی حکایتیں اور داستانیں اپنی بے پناہ رومانیت کے ساتھ اس جمالیات کے پس منظر میں موجود ہیں۔ ہند مغل جمالیات نے شاعری، مصوری، صورت گری، مجسمہ سازی، فن تعمیر اور عوامی گیتوں اور نغموں میں دستانیت کو شدت سے جذب کیا ہے، شعری روایات میں داستانی کردار اور ان سے وابستہ حکایات و واقعات ملتے ہیں۔ ہند مغل مصوری نے اکبر کے عہد میں ہندی اور عجمی داستانوں کے واقعات نقش کیے اور “داستانیت” ہند مغل مصوری کی روح میں جذب ہو گئی۔ غالبؔ جو ان روشن روایتوں کی علامت تھے، شعوری طور پر بھی ان سے بے خبر نہ تھے۔ انھوں نے جہاں محلوں کی آرائش و زیبائش دیکھی تھی، وہاں قلعوں کی اندرونی دیواروں کی تصویریں بھی دیکھی تھیں۔ جہاں صورت گری اور مجسمہ سازی کے نمونے دیکھے تھے، وہاں مثنویوں اور رزمیہ نظموں میں مصوروں کی تصویر کاری کے شاہکار بھی دیکھے تھے۔ جہاں تخیلی قصوں اور داستانوں کو پڑھا تھا، وہاں مذہبی اور اخلاقی حکایتوں اور میدان کربلا کے واقعات اور قصص الانبیا، قصص القرآن اور دوسرے مذاہب کی تمثیلوں اور حکایتوں سے بھی واقف تھے۔ ان عظیم روایات سے ان کا رشتہ تخلیقی نوعیت کا ہے۔ اس تخلیقی رشتے کی بہتر پہچان ان کی تہذیبی شخصیت کی بھی پہچان ہو گی۔

ہندوستان بھی قصوں، کہانیوں اور داستانوں کا ایک قدیم ملک ہے۔ ہندوستانی ذہن نے اساطیری ماحول میں نت نئی کہانیاں اور حکایتیں خلق کی ہیں، جس نے کتنے اساطیری کرداروں کو تراشا ہے۔ ہندوستانی حکایتوں اور قصوں میں جہاں انسان کی بنیادی جبلتوں کا اظہار ہے، وہاں زندگی میں تنظیم پیدا کرنے اور زندگی کے حسن سے لطف اندوز ہونے اور مختلف ذہنی سطحوں پر جمالیاتی آسودگی حاصل کرنے کی آرزو بھی ہے۔ جذبات کی عجیب و غریب دنیا ملتی ہے، جہاں رموز و اسرار، تحیر، دہشت، محبت اور جنس اور مابعد الطبیعیاتی اور دینی تجربوں کی انگنت جہتیں ہیں۔ اسی طرح عرب اور ایران بھی قصوں اور کہانیوں کے بڑے ممالک رہے ہیں۔ ان علاقوں میں بھی قصوں اور کہانیوں کی روایات ماضی کے اندھیروں میں ہیں۔ عربی ذہن اور عجمی شعور دونوں قصوں کہانیوں کے معاملے میں ہمیشہ شاداب رہے ہیں۔ عرب اور ایران کی کہانیوں اور داستانوں کی زندہ روایتوں کا طویل سلسلہ رہا ہے۔ عربوں اور ایرانیوں نے ہندوستانی قصوں، کہانیوں اور حکایتوں کو بھی اپنے ذہنوں و شعور اور اپنی روایات سے اس طرح جذب کیا ہے کہ ان کی صورتیں بدل گئی ہیں۔ عرب میں داستان گوئی ایک فن کی صورت زندہ رہی ہے۔ ایرانیوں کا فوق الفطری اور رومانی ذہن بڑا شاداب تھا۔ 550ء کے لگ بھگ “پنج تنتر” کے ترجمے ایران میں بے حد مقبول ہوئے اور انوار سہیلی اور عیار دانش نے ساری دنیا میں مقبولیت حاصل کی۔ شاہنامہ فردوسی کے کرداروں اور بعض افسانوی قصائص نے بے حد متاثر کیا۔ “اخلاق محسنی،گلستاں، چہار درویش، سیر حاتم، گل بکاؤلی، گل صنوبر اور داستان امیر حمزہ نے داستان نگاری کا ایک بڑا دبستان قائم کر دیا۔ عربی اور فارسی کی مشہور داستانوں، قصوں اور حکایتوں کے ترجمے اردو زبان میں ہوئے اور انہیں پورے ملک میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ “الف لیلیٰ” نے داستانی خصوصیات کو لوگوں کے احساس اور جذبات سے ہم آہنگ کر دیا اور داستانِ امیر حمزہ نے داستان کی ایک عمدہ روایت قائم کر دی۔ عربی اور فارسی داستانیں، قصے اور حکایتیں تہذیبی آمیزش کے دور میں بے حد مقبول رہی ہیں اور دو بڑی تہذیبوں کی خوبصورت آمیزش میں پر اسرار طور پر شریک بھی رہی ہیں۔ ہندوستانی ذہن نے انہیں فوراً قبول کر لیا اور انہیں بازاروں اور گھروں میں مقبول بنایا۔ ہمیں اس حقیقت کا علم ہے کہ عربی اور فارسی داستانیں گھروں اور بازاروں میں کس حد تک پسند کی جاتی تھیں۔ اردو نے اس ہمہ گیر تہذیبی آمیزش میں اس طور پر بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کہ ان کے ترجمے ہوئے اور اردو زبان کے ذریعہ یہ قصے مقبول ہوئے۔ اردو داستان نگاروں اور کہانی نویسوں نے انہیں پیش کرتے ہوئے اپنے فن کا بھی شدت سے مظاہرہ کیا۔ بعض قصوں کو تہذیبی مزاج کے مطابق ڈھالا۔ ان میں اضافے کیے۔ کرداروں سے دوسرے کئی واقعات اور حادثات وابستہ کر دیے۔ ترمیم و تنسیخ اور اضافوں کا ایک طویل سلسلہ رہا۔ اردو زبان نے اس سلسلے میں بھی بلا شبہ ایک بڑی تہذیبی خدمت انجام دی ہے۔ تہذیبی شعور کی تشکیل اور اس کی آبیاری میں اس نے نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ یہ زبان نہ ہوتی تو داستانوں کا اتنا بڑا سرمایہ ہندوستان میں حاصل نہ ہوتا اور تہذیبی آمیزش کا ایک بڑا پہلو تشنہ رہ جاتا۔

“داستانی طلسمات اور قصوں، فسانوں اور داستانوں کی سحر انگیزی “ہند مغل جمالیات” کا ایک مستقل موضوع ہے۔ہندوستان میں ان کی طویل داستان ہے اور مختلف ملکوں کی تہذیبی آمیزش سے ان میں انگنت جمالیاتی جہتیں پیدا ہوئی ہیں۔ داستانیت نے اس ملک کے تخلیقی فنکاروں کے شعور اور لاشعور کو ہمیشہ کسی نہ کسی سطح پر اپنی گرفت میں رکھا ہے۔ علامتوں، استعاروں، تشبیہوں اور اشاروں اور تمثیلوں کی تخلیق میں پُر اسرار حصہ لیا ہے۔ عوامی شعراء کے مزاج کو متاثر کیا ہے۔ مابعد الطبیعیاتی اور رومانی تصورات میں تازگی پیدا کی ہے۔

مرزا غالبؔ کے عہد تک داستانوں کا ایک بڑا طویل سلسلہ رہا ہے۔ ان کی روایات نے تہذیبی آمیزش میں نمایاں حصہ لیا ہے۔ ہندوستانی روایات میں داستانوں، قصوں اور کہانیوں کی روایات نے تہذیبی آمیزشوں کے ساتھ پُراسرار سفر کیا ہے۔ اعلیٰ فنون میں “روایت” نہیں، روایات کام کرتی ہیں۔ ظاہری روایت اور روایات کی جتنی بھی پہچان ہو جائے، روایات کے باطن میں، انتہائی گہرائیوں میں گزرتی ہوئی روایتوں کی روشنیوں کی پہچان آسان نہیں ہوتی۔ اندر ہی اندر ان کا رشتہ جانے کتنی خوبصورت اور دلآویز لہروں اور کیفیتوں سے قائم ہو جاتا ہے۔ غالبؔ ایک بڑے شاعر تھے۔ ایک بڑے خلاق ذہن کے مالک۔ شعوری اور لاشعوری طور پر انہوں نے بر صغیر کی جانے کتنی روایتوں اور ان کے باطن میں گزرنے والی روشن لہروں سے رشتہ قائم رکھا تھا۔ قصوں، فسانوں اور داستانوں کی عظیم تر روایتوں سے ان کا رشتہ تخلیقی نوعیت کا ہے اور مطالعہ غالب میں اس تخلیقی رشتے کو نظر انداز کر کے غالب کے خلاق ذہن اور ان کے ہمہ گیر “وژن” کی دریافت نہیں ہو سکتی۔

غالبؔ کے عہد میں داستانیں بے حد مقبول رہی ہیں۔ عربی اور فارسی کی داستانیں گھروں میں پڑھی جاتی تھیں۔ اردو کی بعض مختصر داستانیں اور داستان امیر حمزہ، الف لیلہ اور بوستاں خیال وغیرہ خواص و عوام میں مقبول تھیں۔ منثور اور منظوم قصوں اور مثنویوں کو پسند کیا جاتا تھا۔ قدیم شعراء کی مثنویاں اور نثر نگاروں کی کئی تمثیلیں اور داستانیں لوگ شوق سے پڑھتے۔ شاہنامہ فردوسی، الف لیلہ، داستان امیر حمزہ وغیرہ کے نسخوں کی مسوری کی بھی دھوم تھی اور ساتھ ہی ان تصویروں کے چربے بھی اتارے جاتے۔ ان تصویروں نے داستانی رجحان کی تشکیل میں اپنے طور پر بھی ایک نمایاں حصل لیا ہے۔ غدر سے پہلے اور غدر کے بعد دہلی، لکھنؤ، رام پور، حیدرآباد اور بناس وغیرہ میں داستان سنانے والے چھوٹے بڑے درباروں سے وابستہ تھے، اور بعض داستان گویوں کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ شہروں میں ساتان گوئی کی مجلسیں منعقد ہوا کرتی تھی۔ داستان گوئی ایک رنگین اور لطیف فن بن گئی تھی۔ رامائن اور مہابھارت کے قصے، طوطا کہانی، شکنتلا، بیتال پچیسی، سنگھاسن بتیسی، آرائش محفل، گل صنوبر، کلیلہ و دمنہ کی بعض کہانیاں، نوطرز مرصع، باغ و بہار، الف لیلہ، بوستان خیال، لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، جام جمشید، فسانہ عجائب، گلزار سرور، شگوفۂ محبت، حاتم طائی کے سات سفر کی کہانیاں، الٰہ دین کا چراغ، سند باد جہازی، خلیفہ ہارون رشید، سیف الملوک و بدیع الجمال، سند باد نامے، کل کا گھوڑا، راجہ اندر اور پریاں پری بانو، بغداد کا سوداگر، گل بکاؤلی اور جانے کتنی کہانیاں اور داستانیں مقبول تھیں۔ باورچی خانے کی دیوار کا پھٹنا اور نکلنا ایک عورت کا، شہر بغداد کے مزدور کی کہانی، یک چشم قلندر، شہزادی کا عقاب بن جانا، پہاڑ پر پیتل کا گنبد، سند باد جہازی کا سفر، مردم خور سردار، کبڑا دولھا،چین کی شہزادی، شاہ جنات کی کہانی، سوتے جاگتے کا قصہ، علی بابا اور مرجینا، عمر و عیار اور ان کی زنبیل، ملکہ مہر نگار، امیر حمزہ کو لے جانا کوہ قاف میں اور وہاں پُراسرار تجربوں سے دوچار ہونا وغیرہ ایسے داستانی واقعات تھے جن سے لوگ واقف تھے۔ عام گفتگو میں بھی ان کے حوالوں اور اشاروں سے کام لیتے تھے۔ بار بار سنی ہوئی کہانیوں کو بھی دوسروں سے بخوشی اور لگن کے ساتھ سنتے اور مسرور ہوتے۔ عام بول چال میں داستانی محاوروں اور ترکیبوں کا استعمال ہوتا۔داستانیت اس دور کے تہذیبی مزاج کا ایک تابناک پہلو بنی ہوئی تھی۔ اس عہد کے تہذیبی مزاج و شعور کا مطالعہ کرتے ہوئے اس تابناک پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

مرزا غالب کا فعال شعور ان عظیم روایات اور ان کے تحرک سے ایک مستحکم باطنی رشتہ قائم کرتا ہے۔ داستانوں، قصوں اور کہانیوں اور ان کی تصویروں سے فنکار کا شعوری اور غیر شعوری رشتہ غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ غالبؔ جو اس تہذیب کی علامت تھے، اپنے تہذیبی شعور کو اس تابناک حیثیت کے ساتھ بھی نمایاں کرتے ہیں۔

فارسی شعراء کے مصور دواوین اور قلمی نسخوں اور ایران اور وسط ایشیا کے فنکاروں کے داستانی رجحان سے ان کا رشتہ تخلیقی نوعیت کا تھا۔ انہوں نے اس عظیم سرمائے کارس حاصل کیا تھا۔ ہند مغل فنکاروں کی تصویروں میں ان داستانوں کے حسن کے جلوے دیکھے تھے۔ داستانوں اور قصوں کے عاشق تھے، لہٰذا ان روایات سے بھی ان کا ایک غیر معمولی تخلیقی رشتہ قائم ہوا ہے۔ ان کے عہد میں داستان امیر حمزہ، الف لیلہ اور بوستان خیال وغیرہ مقبول تھیں اور یہ داستانیں غالب کے زیر مطالعہ رہی ہیں۔

“ذکر غالب” میں جناب مالک رام نے تحریر فرمایا ہے:

انہیں قصے کہانی کی کتاب سے بھی دلچسپی تھی، جن دنوں داستان امیر حمزہ اور بوستان خیال، ان کے مطالعے میں تھیں، بہت خوش تھے۔ (261)

سید وقار عظیم نے لکھا ہے:

داستان سے غالب کی جو گہری دلچسپی تھی، اس کا اظہار اول تو گلزار سرور اور “بوستان خیال” کے دیباچوں سے ہوتا ہے اور دوسرے اس مزیدار خط سے جو انہوں نے میر مہدی مجروح کو لکھا تھا۔ (ہماری داستانیں: ص19)

غالبؔ، میر مہدی مجروح کو لکھتے ہیں:

مولانا غالب علیہ الرحمہ ان دنوں میں بہت خوش ہیں۔ پچاس ساٹھ جزو کی کتاب “امیر حمزہ کی داستان” کی اور اسی قدر حجم کی ایک جلد “بوستان خیال” کی آ گئی ہے۔ سترہ بوتلیں بادۂ ناب کی توشک خانے میں موجود ہیں۔ دن بھر کتاب دیکھا کرتے ہیں، رات بھر شراب پیا کرتے ہیں:

کسے کیں مرادش میسر بود
اگر جم نہ باشد سکند بود (اردوئے معلیٰ، ص 124،1861ء)

حدایق انظار کے دیباچے میں یہ جملے توجہ طلب ہیں:

افسانہ و داستان میں وہ کچھ سنو کہ کبھی کسی نے نہ دیکھا ہو نہ سنا ہو!

داستان طرازی، من جملہ فنون سخن ہے، سچ یہ ہے کہ دل بہلانے کے لیے اچھا فن ہے۔

ہر چند خرد مند بیدار مغز تواریخ کی طرف بالطبع مائل ہوں گے لیکن قصہ کہانی ذوق بخشی و نشاط انگیزی کے بھی دل سے قائل ہوں گے۔ (عود ہندی ص 182۔183)

جناب مالک رام تحریر فرماتے ہیں:

“…یہ شوق اس حد تک تھا کہ کبھی کبھی وہ گھر پر داستان گوئی کا سلسلہ بھی شروع کروا دیتے تھے۔ ان دنوں دوست احباب کا مجمع رہتا، یوں ان کا شوق بھی پورا ہو جاتا اور گھڑی دو گھڑی دوستوں کے جمع ہو جانے سے رونق بھی ہو جاتی۔ اسی طرح کی داستان گوئی کسی زمانے میں جمعرات اور جمعہ کو، ہفتے میں دو دن ان کے مکان پر ہوتی تھی۔ اس کی اطلاع سالکؔ کو ایک خط میں دیتے ہیں:

“گھر میں تمہارے سب طرح خیر و عافیت ہے، محمد مرزا پنج شنبہ اور جمعہ کو داستان کے وقت آ جاتا ہے، میں نے ان سے بھی فیض پایا ہے۔ بہت سے اشارات، تلمیحات اور کردار و واقعات کو داستان نگاروں نے اپنا لیا ہے اور انہیں داستانی رنگوں میں پیش کیا ہے۔ مذہبی جنگوں میں حصہ لینے والے جانے کتنے سورماؤں کے واقعات کو داستانی صورت دے کر انہیں یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ مذاہب کی تمثیلوں اور حکایتوں کی روشنی لی ہے۔ اشاروں، علامتوں، تلمیحوں، نیم تاریخی اور فرضی کرداروں اور شخصیتوں سے غالب کی ذہنی وابستگی ایک بڑے رومانی فنکار کی وابستگی ہے۔ روایات اور داستانوں سے انہوں نے کہاں کیا حاصل کیا، یہ بتانا ناممکن ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مختلف مذاہب کی تمثیلوں، تلمیحوں اور روایتی واقعات سے رشتہ قائم ہونے کا ایک بڑا ذریعہ داستانیں بھی ہیں۔ غالب کے فعال لاشعور اور شعور اور ان کی صناعی نے ایک ایسی عظیم روایت کا جوہر عطا کیا ہے، جس نے تہذیبی شعور کی تشکیل میں حصہ لیا تھا اور جس کی وجہ سے خود غالب کے ذہن کا ایک دریچہ کھلا تھا۔ انہوں نے اپنے خلاقانہ ذہن سے اپنی تخلیق میں اس روایت کی روشنی حاصل کی تھی اور خود اس بڑے تہذیبی شعور کی علامت بن گئے تھے، ہم ان کے ذریعہ بھی اس روایت کی اعلیٰ ترین روشنی اور اس کے دور رس اثرات تک پہنچتے ہیں۔

“مکاتیب غالب” میں ایک ایسے داستان گو کا ذہن ملتا ہے، جس کی اپنی امتیازی خصوصیات ہیں۔ “داستانیت” کا حسن ایک نئے انداز سے متاثر کرتا ہے۔ مکاتیب غالب ایک اہم ترین داستان گو اور داستان نگار ہے۔ ان کا افسانوی رجحان فوراً توجہ طلب بن جاتا ہے۔ دنیا جہان کی باتیں سنانے والا ایک داستان نگار یا داستان گو، توجہ کا مرکز بنتا ہے اور ہم اس کے اسلوب میں داستانی لب ولہجہ کو پاتے ہوئے ان کے افسانوی رجحان کو پالیتے ہیں۔ داستانی روایات کے گہرے اثرات قبول کرتے ہوئے غالب اپنے مکاتیب میں اپنے عہد کے ایک ایسے ممتاز داستان نگار کی صورت میں بھی ملتے ہیں، جو تفصیل اور اختصار، منظر کشی اور جزئیات نگاری کے ساتھ نکتہ آفرینی کو بھی اہم سمجھتا ہے۔ اس داستان نگار کی نکتہ آفرینی کی غفلت، واقعات کے آفاقی پہلوؤں میں نمایاں ہے۔ غالب نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا کہ مراسلہ کو داستانی خصوصیتیں بھی عطا کر دیں او رایسے مکالمے تحریر کیے کہ ہم داستانی فضاؤں کو محسوس کرنے لگے۔ ہجر میں وصال کے مزے اس طرح بھی ملے ہیں۔

ایک منظر اس طرح پیش ہوا ہے:

21؍واں دن ہے، آفتاب اس طرح نظر آتا ہے، جس طرح بجلی چمک جاتی ہے، رات کو اگر کبھی کبھی تارے دکھائی دیتے ہیں تو لوگ ان کو جگنو سمجھنے لگتے ہیں، اندھیری راتوں میں چوروں کی بن آئی ہے، کوئی دن نہیں کہ دو چار گھر کی چوری کا حال نہ سنا جائے، مبالغہ نہ سمجھنا، ہزارہا مکانات گر گئے، سیکڑوں آدمی جا بجا دب کر مر گئے، گلی گلی ندی بہہ رہی ہے۔ پانی نہ برسا، اناج نہ پیدا ہوا۔

دوسرا منظر دیکھئے:

خود کالے میاں صاحب مغفور کا گھر اس طرح تباہ ہ وا کہ جیسے جھاڑو پھیر دی۔ کاغذ کا پرزہ، سونے کا تار، پشمینہ کا بال باقی نہ رہا، شیخ کلیم اللہ جہان آبادی کا مقبرہ اجڑ گیا، ایک اچھے گاؤں کی آبادی تھی، ان کی اولاد کے لوگ تمام اس موضع میں سکونت پذیر تھے، اب ایک جنگل ہے اور میدان میں قبر، اس کے سوا کچھ باقی نہیں، وہاں کے رہنے والے اگر گولی سے بچے ہوں گے تو خدا ہی جانتا ہو گا کہ کہاں ہیں۔

ایک المناک منظر یہ بھی ہے:

پانچ لشکر کا حملہ پے در پے اس شہر پر ہوا، پہلا باغیوں کا لشکر، اس میں شہر کا اعتبار لٹا، دوسرا خاکیوں کا، اس میں جان و مال و ناموس و مکان و مکیں و آسمان و زمیں و آثار ہستی سراسر لٹ گئے، تیسرا لشکر کمال کا، اس میں ہزارہا آدمی بھوکے مرے، چوتھا لشکر ہیضے کا، اس میں ہزارہا آدمی پیٹ بھر مرے، پانچواں لشکر تپ کا اس میں تاب و طاقت نہ پائی، اب تک اس لشکر نے شہر سے کوچ نہیں کیا۔

یہ غالب کا منفرد داستانی انداز اور لب و لہجہ ہے۔ داستان اس طرح سناتے ہیں اور زندگی کی المناکی کو محسوس بناتے ہیں۔ نئی داستانیت کے موجود کا اندازہ ملاحظہ فرمائیے:

قاری کا کنواں بند ہو گیا۔ لال ڈگی کے کنویں یک قلم کھاری ہو گئے، خیر کھاری ہی پانی پیتے، گرم پانی نکلتا ہے، پرسوں میں سوار ہو کر کنویں کا حال دریافت کرنے گیا تھا، مسجد جامع سے راج گھاٹ دروازے تک بے مبالغہ ایک صحرائے لق و دق ہے، اینٹوں کے ڈھیر جو پڑے ہیں اگر اٹھ جائیں تو ہُو کا مکان ہو جائے۔ مرزا گوہر کے باغیچے کے اس طرح کو کئی بانس نشیب تھا، اب وہ باغیچہ کے صحن کے برابر ہو گیا یہاں تک کہ راج گھاٹ کا دروازہ بند ہو گیا، فصیل کے کنگورے کھلے رہے ہیں، باقی سب لٹ گیا ہے۔ کشمیری دروازے کا حال تم دیکھ گئے ہو، اب آہنی سڑک کے واسطے کلکتہ دروازے سے کابلی دروازے تک میدان ہو گیا۔ پنجابی کٹرہ، دھوبی کٹرہ، رامجی گنج، سعادت خاں کا کٹرہ، جرنیل کی بیوی کی حویلی، رامجی داس گودام رضوان ہر شب کو آتا ہے. (اردوئے معلیٰ 237)

“یہ اسی مطالعے اور شوق کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے نواب کلب علی خاں کی مدح میں ایک قصیدہ لکھا جس کی تشبیب اور مدح میں حمزہ اور اس کی اولاد اور اس کے دوسرے افراد کا ذکر کیا ہے”۔ (ذکر غالب ص 262)

بنارس کے مہاراجہ کی فرمائش پر مرزا رجب علی بیگ سرور نے ملا رضی کے”حقائق العشاق” (فارسی) کو گلزار سرور کے نام سے اردو میں پیش کیا تو غالبؔ نے اپنی تقریظ میں سرور کے اسلوب بیان کی تعریف کرتے ہوئے داستانی رنگ پیدا کر دیا ہے۔ اس تقریظ کو لکھتے ہوئے خود ان کا اپنا ذہن ایک داستان نگار کا نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ داستانیت میں جذب ہو گئے ہیں۔

ہمیں اس کی بھی خبر ہے کہ مرزا کے بھتیجے خواجہ امان دہلوی نے”بوستان خیال” کے چھ حصوں کا ترجمہ”حدائق انظار” کے نام سے کیا تھا اور غالب نے دیباچہ لکھا تھا۔ تیسری اور چوتھی جلد کا ترجمہ پہلے کیا اور پھر باقی جلدوں کے ترجمے کیے، آخری حصے کا ترجمہ کر رہے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا اور ان کے بیٹے قمر الدین خاں راقم نے اسے مکمل کیا۔ منشی نول کشور نے”بوستان خیال” کا ترجمہ کرا کر علاحدہ شائع کیا تھا۔ غالب کے اس دیباچے سے بھی داستانوں سے ان کی گہری دلچسپی اور وابستگی کا پتہ چلتا ہے۔

“بوستان خیال” سے غالب کو طلسمات کی ایک کائنات حاصل ہوئی تھی، جو ان کے مزاج سے قریب تھی۔ طلسمی روح، طلسمی خط، اور شاہنامۂ خورشیدی، وغیرہ سے ان کا ذہن جتنا متاثر ہوا ہو گا اس کا اندازہ ہم لفظ “طلسم” اور “طلسم” سے وابستہ تصورات اور خیالات اور تراکیب سے بخوبی کر سکتے ہیں۔ اسی طرح “داستان امیر حمزہ” نے غالب کے ذہن و شعور کو متاثر کیا ہے۔ غالب نے اس طویل داستان میں جلوۂ صد رنگ اور طلسمات کی ایک کائنات دیکھی ہو گی۔ انہوں نے داستانوں سے جتنا بھی دل بہلایا ہو، حقیقت یہ ہے کہ داستانیت ان کے مزاج کا ایک حصہ بنی ہے۔ انہوں نے اپنی “فینتاسی” اور اپنے شعری تجربوں میں داستانیت کو شعوری اور لاشعوری طور پر جذب کیا ہے۔ غالبیات میں داستانیت ایک مستقل زندہ متحرک رومانی اور جمالیاتی روایت بھی ہے اور ایک منفرد مزاج بھی۔

غالب کے دور میں “قصص القرآن” اور “قصص الانبیا” وغیرہ بھی بہت مقبول تھے۔ داستانوں والے کے مکانات، صاحب رام کا باغ اور حویلی، ان میں کسی کا پتہ نہیں چلتا۔ قصہ مختصر شہر ایک صحرا ہو گیا آبجو کنویں جاتے رہے اور پانی گوہر نایاب ہو گیا تو یہ صحرا، صحرائے کربلا ہو جائے گا۔

ڈرامائی منظر نگاری، داستانوں کی ایک بڑی خصوصیت رہی ہے۔ مکاتیب غالب میں جو داستانی مزاج ملتا ہے، وہ ڈرامائی منظر نگاری پسند کرتا ہے اور ڈرامائی مناظر کو حد درجہ محسوس بنا دیتا ہے۔ واقعات المیہ ہوں اور کردار ٹریجڈی سے دوچار ہوں تو داستانیت کا جوہر اور توجہ طلب بن جاتا ہے۔ مثلاً:

بڑے زور کی آندھی آئی، پھر خوب مینھ برسا، وہ جاڑہ پڑا کہ شہر کرۂ زم ہریر بن گیا۔ بڑے دریبہ کا دروازہ ڈھا گیا، قابل عطار کے کوچے کا بقیہ مٹا گیا، کشمیری کٹرے کی مسجد زمین کا پیوند ہو گئی، سڑک کی وسعت دو چند ہو گئی۔ (26؍ مئی 1865)

یا

عالم بیگ خان کے کٹرے کی طرف کا دروازہ گر گیا، مسجد کی طرف کے دالان کو جاتے ہوئے جو دروازہ تھا گر گیا، سیڑھیاں گرا چاہتی ہیں، صبح کے بیٹھنے کا حجرہ جھک رہا ہے، چھتیں چھلنی ہو گئی ہیں، مینھ گھڑی بھربرسے تو چھت گھنٹہ بھر بسے۔ (16؍ستمبر 1864)

یہ کسی داستان سے وابستہ کوئی تصویر یا تفصیل کا کوئی حصہ لگتا ہے۔ عالم بیگ خان جیسے اس قصے کا کوئی کردار ہو اور کہانی میں اس کے دروازے کا گرنا غیر معمولی بات نظر آئے۔ پوری فضا شدید بارش سے متاثر ہوئی ہے۔ چھت کے ٹوٹنے کا امکان دل میں وسوسے پیدا کرنے لگتا ہے۔ کسی غریب مفلوک الحال کردار کا مکان کہیں گر نہ جائے، کہانی سننے والے کی ساری ہمدردی اس شخص سے وابستہ ہو جاتی ہے۔ مرزا غالب اپنے ایک خط میں جہاں یہ کہتے ہیں:

سون عالم دو ہیں، ایک عالم ارواح اور ایک عالم آب و گل۔ حاکم ان دونوں عالموں کا وہ ایک ہے… ہر چند قاعدہ عام یہ ہے کہ عالم آب و گل کے مجرم عالم ارواح میں سزا پاتے ہیں، لیکن یوں بھی ہوا ہے کہ عالم ارواح کے گنہ گار کو دنیا میں بھیج کر سزا دیتے ہیں۔

تو لگتا ہے جیسے یہ کسی داستان کی ابتداء ہے جس سے نفس داستان کے اشارے مل رہے ہیں۔

جون 1861ء کا ایک مشہور خط ہے:

تیرہ برس حوالات میں رہا… میرے واسطے حکم دوام حبس صادر ہوا۔ ایک بیڑی میرے پاؤں میں ڈال دی اور دلّی شہر کو زنداں مقرر کیا اور مجھے زنداں میں ڈال دیا… برسوں کے بعد جیل میں خانہ سے بھاگا۔ تین برس بلاد شرقیہ پھرتا رہا۔ پایان کار مجھے کلکتہ سے پکڑ لائے اور پھر اسی مجلس میں بیٹھا دیا۔ جب دیکھا کہ یہ قیدی گریز پا ہے، دو ہتھکڑیاں اور بڑھا دیں۔ پاؤں بیڑی سے فگار، ہاتھ ہتھکڑیوں سے زخم دار، مشقت مقرری اور مشکل ہو گئی۔ طاقت یک قلم زائل ہو گئی…سال گزشتہ بیڑی کو زاویۂ زندانی میں چھوڑ کر مع دو ہتھکڑیوں کے بھاگا۔ میرٹھ، مراد آباد ہوتا ہوا رام پور پہنچا۔ کچھ دن دو مہینے وہاں رہا تھا کہ پھر پکڑ آیا۔ اب عہد کیا کہ پھر نہ بھاگوں گا۔ بھاگوں کیا، بھاگنے کی طاقت بھی تو نہ رہی ہے۔ حکم رہائی دیکھئے کب صادر ہو… بہرتقدیر بعد رہائی کے تو آدمی سوائے اپنے گھر کے اور کہیں مل جاتا، میں بھی بعد نجات سیدھا عالم ارواح کو چلا جاؤں گا۔

غالب کو تھوڑی دیر کے لیے علاحدہ کر دیجئے اور جن حالات کا ذکر ہے، انہیں نظر انداز کر دیجئے تو محسوس ہوتا ہے کہ داستان کا کوئی اہم کردار دشمنوں کے ہاتھوں اپنی گرفتاری، اپنے فرار ہونے اور پھر اپنی گرفتاری کے واقعات سنارہا ہے۔ دشمنوں کے نرغے میں تین بار پھنسا اور دو بار فرار ہوا، اور اب اتنا نحیف اور کمزور ہو گیا ہے اور بار بار کی گرفتاری سے اتنا ٹوٹ گیا ہے کہ موت ہی میں راہ نجات نظر آ رہی ہے۔ ایک خوبصورت فارسی شعر:

فراخ آں روز کہ از خانہ زنداں بردم
سوی شہر ازیں داری، ویران بردم

غالب نے اس فارسی سے اپنی موجودہ ذہنی کیفیت کو اس طرح واضح کر کے سکون پایا ہے کہ وہ دن کتنا مبارک ہو گا، جب میں زنداں سے نکل جاؤں گا اور ویران وادی سے اپنے شہر کی طرف روانہ ہو جاؤں گا۔

ایک ڈرامائی منظر کو اگر ہم اس طرح دیکھیں، سلطان وقت کے خلاف بغاوت ہوئی ہے۔ بادشاہ نظر بند ہے، سارے شہر میں بے چینی سی ہے۔ باغیوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ ایک ہوشیار اور چالاک باغی نے بغاوت میں شریک ہونے کے باوجود خود کو بچائے رکھا ہے۔ رات کے اندھیرے میں اپنے گھر میں دبکا بیٹھا ہے اور اپنے کسی ساتھی سے سرگوشیاں کر رہا ہے۔

“…میرا شہر میں ہونا حکام کو معلوم ہے مگر چونکہ میری طرف بادشاہی دفتر میں سے یا مخبروں کے بیان سے کوئی بات نہیں پائی گئی لہٰذا طلبی نہیں ہوئی ورنہ بڑے بڑے جاگیردار بلائے ہوئے یا پکڑے ہوئے آتے ہیں، میری کیا حقیقت تھی۔ غرض اپنے مکان میں بیٹھا ہوں، دروازے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ سوار ہونا اور کہیں جانا تو بہت بڑی بات ہے، رہا یہ کہ کوئی پاس آوے، شہر میں ہے کون؟ گھر کے گھر بے چراغ پڑے ہیں۔ مجرم سیاست پاتے ہیں جرنیلی بندوبست”۔ (5؍ستمبر 1857ء)

غالب نے اپنی زندگی اور اپنے تجربوں سے مکاتیب میں جن چند اہم باتوں کا ذکر کیا ہے، انہیں میں نے اپنی کتاب”مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات” میں سند باد جہازی اور ایک ضعیف شخص کے مکالموں میں پیش کیا ہے۔ غالب کا ہر بیان داستان کا ایک حصہ نظر آنے لگا ہے۔ سند باد جہازی کے کردار کے ساتھ جزیرے پر پڑے ایک ضعیف نڈھال شخص کی باتیں سند باد کے سفر کی داستانوں کا حصہ بن گئی ہیں۔ مثلاً وہ ضعیف شخص سند باد سے گویا ہوتا ہے:

آدمی ہوں، دیو نہیں، بھوت نہیں، ان رنجوں کا تحمل کیونکر کروں ؟ بڑھاپا، ضعیف قویٰ اب بولو دیکھو تو جانو میرا کیا رنگ ہے، شاید کوئی دو چار گھڑی بیٹھتا ہوں ورنہ پڑا رہتا ہوں، گویا صاحب فراش ہوں، نہ کہیں جانے کا ٹھکانا، نہ کوئی میرے پاس آنے والا، وہ عرق جو بقدر طاقت بنائے رکھتا تھا، اب میسر نہیں۔ (28؍نومبر 1859)

برس دن میں اوجاع (دکھ تکلیف) سہتے سہتے روح تحلیل ہو گئی۔ نشست و برخواست کی طاقت نہ رہی اور پھوڑے تو خیر، مگر دونوں پنڈلیوں میں ہڈیوں کے قریب دو پھوڑے ہیں۔ کھڑا ہوا اور ہڈیاں چرچرانے لگیں اور رگیں پھٹنے لگیں۔ بائیں پانو پر کیفِ پا سے جہاں پھوڑا ہے، پنڈلی تک ورم ہے، رات دن پڑا رہتا ہوں۔ (1862)

جب سند باد پوچھا کہ کیا تم اٹھ نہیں سکتے تو جواب ملا:

ناتواں دست ہوں، حواس کھو بیٹھا، حافظہ کو رو بیٹھا، اگر اٹھتا ہوں تو اتنی دیر میں اٹھتا ہوں کہ جتنی دیر میں قد آدم دیوار اٹھے۔ (15؍فروری 1864ء)

سند باد اس شخص کو غور سے دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کتنا خوبصورت شخص ہو گا یہ شخص اپنی جوانی میں ؟ وہ ضعیف دل کی کیفیت بھانپ کر بولا:

تمہارا حلیہ دیکھ کر تمہارے کشیدہ قامت ہونے پر مجھ کو رشک نہ آیا۔ کس واسطے کہ میرا قد بھی درازی میں انگشت نما ہے۔ تمہارے گندمی رنگ پر رشک نہ آیا، کس واسطے کہ جب میں جیتا تھا تو میرا رنگ چمپئی تھا اور دیدہ ور لوگ اس کی ستائش کیا کرتے تھے، اب جب کبھی مجھ کو وہ اپنا رنگ یاد آتا ہے تو چھاتی پر سانپ سا پھر جاتا ہے۔ (1859ء)

1857ء کے واقعات اور تجربات… اور خود ان کی اپنی زندگی اور ان کی ذات، مکاتیب کے بنیادی موضوعات کہے جاسکتے ہیں اور یہ کم نہ تھے، واقعات کا مشاہدہ کرنے والے وہ خود تھے، اس لیے وہ خود اس کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کی نئی داستانیت نے ان مشاہدوں کو ایک ہمہ گیر اور تہہ دار شخصیت کے ساتھ جذب کیا ہے۔ جمالیاتی داستانی رجحان کے لیے یہ موضوعات بڑے اہم تھے، چونکہ داستان نگار خود اس داستان کا مرکزی کردار تھا اور ذات اور سماجی واقعات کی ایک وحدت قائم تھی، اس لیے یہ نئی داستان اور زیادہ جاذب نظر بن گئی۔

1857ء کے واقعات کے تعلق سے جو خط ہیں، وہ نئی داستانیت کے مختلف پہلو ہیں۔ الفاظ، احساسِ غم و اندوہ سے پھوٹے ہیں اور ساتھ ہی اس احساس کے مرہم بن گئے ہیں۔ ہر بیان میں درد گہرا ہے۔ اظہار کا انوکھا پن درد کی گہرائی کا احساس دیتا جاتا ہے۔ ہر نقش عہد کی تلخیوں کو لیے ہوئے ہے۔ رزم و بزم کے معرکے نہیں ہیں، ایسے عبرتناک اور حیرت انگیز مرقعے ہیں کہ جن کا تصور اس دور میں نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کوئی خضر ہے اور نہ دستگیر، کوئی اس اعظم ہے نہ کوئی تعویذ، زمانے کی شکست و ریخت میں ایک داستاں گو اپنی ذات اور اپنے عہد کے تجربوں کو لیے سحر و تسخیر کی ایک ایسی داستان سنا رہا ہے، جو نہ کبھی سنی گئی اور نہ لکھی گئی۔ یہ طلسمات کی نئی سیر ہے، نئے جادوگر اور دیو پسِ پردہ عمل کر رہے ہیں اور مظلوم اسی طرح مٹ رہے ہیں، جیسے پھر کبھی ان کا کوئی نقش نہیں ابھرے گا۔ زخموں کا چراغ ہے جو ذات سے معاشرے تک روشن ہے اور یہ اسی چراغ کی داستان ہے۔ “حلقۂ یک بزم” کا ماتم تاریخی اور تہذیبی اقدار کے المیے کی معنویت طرح طرح سے ابھارتا ہے۔ “حیرت تپیدن ہا” اور “خوں بہائے دیدن ہا” سے یہ داستان نئی داستان بنی ہے۔ عالم طلسم شہر خموشاں کے یہ نئے مناظر فنکار غالب کے کرشمے ہیں۔ یہ داستانی استعارے ہیں جو خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں واقعات کی جانب اشارے کر رہے ہیں۔ لفظوں کا تاثر ان کے آہنگ میں پوشیدہ ہے۔ چہروں کی دھندلی پرچھائیاں سرگوشیاں کرتی ہیں۔ ایک المناک لمحے میں کئی المناک لمحے بہ یک وقت یکجا ہو گئے ہیں، کوئی بڑا آئینہ ٹوٹا ہے اور اس کے ٹکڑے بکھر گئے ہیں، انہیں جوڑ دیجئے تو عہد کی داستان ایک ساتھ جانے کتنے عکس کوایک دوسرے میں پیوست کرے گی۔ داستان نگار کا وجود پھیلتا ہے اور ایک وسیع تر وجود کا احساس عطا کرنے لگتا ہے۔ تجربے اور خاموشی دونوں کے آہنگ سے یہ آواز جنم لیتی ہے جو قاری کے حواس پر چھانے لگتی ہے۔

غالب کی دیو مالا میں فینتاسی (Fantasy) کو نمایاں حیثیت حامل ہے۔ اس “فینتاسی” کی آبیاری میں داستانیت اور داستانی مزاج نے یقیناً بہت بڑا حصہ لیا ہے۔ “امیجری” کی ایسی تخلیقی صورتیں بر صغیر کے کسی فنکار کے آرٹ میں موجود نہیں ہیں۔ پیکر اور “امیجری” کی یہ کائنات نفسی تجربوں کی دین ہے۔ سائیکک فینومینا (Psychic Phenomena) کی صورت جمالیاتی بن گئی ہے۔ غالب کی داستانیت کلاسیکی رموز اور آہنگ سے متاثر کرتی ہے۔ ان کی تہذیبی شخصیت کی تشکیل میں تہذیب کی داستانیت نے نمایاں حصہ لیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان تخلیقی پیکروں کے پس پردہ اساطیری داستانی رجحان بھی حد درجہ متحرک ہے اور تخلیقی عمل سے حسّی تجربے بے حد درجہ جمالیاتی بن گئے ہیں، یہ پیکر فنکار کے تخلیقی وجدان، اس کے عرفان اور اس کی آگہی کے خوبصورت ترین آئینے ہیں۔ داستانیت نے تغزل میں جان پرور کیفیتیں پیدا کی ہیں۔ شعری اسلوب کو پُر وقار اور دلنشیں بنایا ہے۔ فضا آفرینی کو طلسمات سے آشنا کیا ہے۔ محبوب کے ذکر سے اس کے خوبصورت لب شراب کے پیالے پر اُبھرتے ہیں۔ مہندی لگے ہاتھ دیکھ کر گل، پروانے کی طرح رقص کرنے لگتا ہے۔ آگ دست چنار میں حنا نظر آتی ہے، دھوئیں کی طرح نگاہیں حلقۂ زلف میں جمع ہوتی ہیں۔ شام خیالِ زلف سے صبح طلوع ہوتی ہے، دشت کا ہر بگولہ شراب کا پیالہ بن جاتا ہے۔

شیریں کی سیہ زلف کو سانپ کہہ دینا کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن جادوگری یہ ہے کہ اس کا مارا ہوا دفن ہو جاتا ہے تو پورا پہاڑ سبز ے کی شدت سے سبز ہو جاتا ہے اور زمرد کا مزار بن جاتا ہے۔ حلقۂ زنجیر میں نگاہیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ آسمان عقد ثریا کا آئینہ توڑتا ہے، ساری دنیا طلسم شہر خموشاں بن جاتی ہے، حلقۂ گرداب شعلۂ جوالہ بن جاتا ہے، داغوں کا سلسلہ چراغوں کا سلسلہ بن جاتا ہے، محبوب کی خوبصورت کلائیوں کو دیکھ کر شاخِ گل جلنے لگتی ہے، ایک نقش پا کے اندر پورا صحرا سماجاتا ہے، آنسو کا ہر قطرہ حلقۂ زنجیر بن جاتا ہے، عکس رُخ یار سے آئینہ پگھلنے لگتا ہے، آبلوں میں آنکھیں پیدا ہو جاتی ہیں، آگ شعلوں کے پیکروں کے سہارے اڑتی ہے اور پروانے کی طرح جل کر راکھ ہو جاتی ہے۔ سمندر شعلوں کا سمندر بن جاتا ہے، تیزی رفتار سے گھبرا کر صحرا کی زمین صحرا چھوڑ کر بھاگتی ہے، چاند، آفتاب کے ہاتھ میں کاسۂ گدائی نظر آتا ہے، شرر و شعلہ کے بغیر انسان جلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

ایسی سیکڑوں مثالیں ہیں۔ یہ غالب کی دیو مالا ہے۔ “امیجری” کی وہ کائنات جو داستانیت کے تحیر اور اس کی “فینتاسی” سے تخلیقی رشتہ رکھتی ہے۔ تجربوں کو معنی خیز اور تہہ دار اور شعری اسلوب کو پُر وقار اور دلنشیں بنانے میں داستانی مزاج نے بہت بڑا حصہ لیا ہے۔ غالب نے دنیا اور پوری زندگی کو “داستانوں کے طلسم” کی طرح محسوس کیا ہے۔

عالم طلسم شہر خموشاں ہے سر بہ سر
یا میں غریب کشور بود و نبود تھا

داستانوں کے طلسمی شہروں میں جس طرح باغ، پہاڑ، پُر اسرار قلعے اور لعل و گوہر سے چمکتی ہوئی دیواریں دیکھتے ہی دیکھتے گم ہو جاتی ہیں اور اچانک محسوس ہوتا ہے جیسے طلسمی شہر گم ہو گیا ہے، اچانک ایک شہر خموشاں نگاہوں کے سامنے ہے، اسی طرح اس عالم میں دیکھتے ہی دیکھتے اشیاء و عناصر گم ہو جاتے ہیں۔ اس فریب افسوں اور فریب تماشا کو کیا کیجئے کہ یہ پتہ نہیں چلتا یہ سب کہاں چلے جاتے ہیں، ابھی جلوہ تمثال ہوتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے گم ہو جاتا ہے۔ انسان صحرائے تحیر میں حیرت آئینہ بن جاتا ہے۔ ایسی طلسمی کیفیتوں کا نتیجہ صرف مایوسی اور حسرت۔ جلوۂ گل کو جب سمیٹ لیا جاتا ہے اور تمام اشیاء و عناصر گم ہو جاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے، ابھی ابھی ان سے جو رشتہ تھا اب نہیں ہے، ذہن اس سوال سے پریشان ہو جاتا ہے کہ واقعی ان سے کوئی رشتہ تھا؟ داستانی رجحان سے ایک جمالیاتی تجربہ خلق ہوا ہے، جس سے نقشہائے دلفریب اور “طلسم دہر” کے ساتھ “فضائے حیرت آباد تمنا” کے جمالیاتی تاثرات حاصل ہوتے ہیں۔

فوق الفطری کرداروں میں غالب نے “پری” کو پسند کیا ہے۔ محبوب بھی پری کی طرح پُر اسرار ہے لہٰذا وہ پری بھی ہے۔ پری کا حسن محبوب میں نظر آتا ہے۔ ابتدائی شاعری میں داستانی رجحان لیے حسن کو اس پیکر میں زیادہ محسوس کیا ہے اور اسے محبوبانہ طلسمی ادائیں عطا کی ہیں۔ یہ طلسمی ادائیں رفتہ رفتہ تجریدی بن گئی ہے۔ پری جمال کا پیکر ہے، اس کے پروں کے رنگ دلکش اور انوکھے ہیں، اس میں فوق الفطری طلسمی کیفیتیں ہیں۔ پری کو دیکھنے کا شوق بڑھتا ہے اور جب وہ سامنے آ جاتی ہے تو حیرت کی انتہا نہیں رہتی۔ دیکھنے والا دم بخود ہو جاتا ہے:

حیرت، حدِ اقلیم تمنائے پری ہے
آئینے پہ آئین گلستان ارم باندھ

“پرستان” (گلستانِ ارم) بھی ہے اور پری بھی اور پُر اسراریت کی شدت کا نتیجہ “حیرت” بھی ہے! پرستان کو بہشت کا گلستان کہا ہے۔ حیرت کی تعریف یہ کی ہے کہ محبوب کی تمنا حد سے بڑھ جاتی ہے تو تمنا حیرت بن جاتی ہے۔ پرستان تک پہنچنے کے واقعات داستانوں میں سنتے ہوئے اسے دیکھنے کی تمنا بڑھتی ہے اور جب داستان نگار پرستان پہنچا دیتا ہے تو یہ تمنا حیرت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہاں بھی کم و بیش وہی کیفیت ہے۔ کسی پری کو چاہنے، دیکھنے اور محسوس کرنے کی تمنا جب انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو وہ حیرت کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور حیرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ جلد سامنے آ جائے۔ غالب نے حیرت اور پرستان کو ایک دوسرے سے بہت قریب دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ آئینہ حیرت کی علامت ہے، وہ اس پر آئین گلستان ارم کو باندھ دینا چاہتے ہیں تاکہ حقیقی مادی دنیا اور پرستان ایک دوسرے سے مل جائیں۔ دوسرے مصرعے کے انداز اور اس کی ردیف سے تعویذ باندھنے کا سا تاثر پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ہی پُر اسرار کشش کا احساس ملتا ہے۔ غالب نے حیرت کو “حد اقلیم تمنائے پری” اور آئینے کو حیرت کا استعارہ بنا کر اس شعر کا حسن بڑھا دیا ہے۔ داستانی اسرار سے شعر کی فضا میں ایک طلسمی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ اردو کے بعض کلاسیکی اور روایتی شعراء نے بھی “پری” کے لفظ کو استعمال کیا ہے، لیکن محبوب کے ظاہری حسن اور اس کے چند اشاروں سے بات آگے نہیں بڑھی ہے۔ غالب تو پوری فضا کی جانب لپکتے ہیں۔ جلوۂ محبوب کو پھیلا کر دیکھنے کا بنیادی جمالیاتی رویہ موجود ہے۔ “حیرت” اور گلستان ارم میں رشتہ قائم کر کے جلوۂ محبوب کو ایک وسیع تر “کینوس” پر دیکھنے کی خواہش توجہ طلب ہے۔

غالب نے اپنے تجربوں کے اظہار کے لیے داستانی رجحان کو کبھی کبھی بڑی شدت سے نمایاں کیا ہے اور پُر اسرار کیفیتوں میں اپنی انفرادیت کا احساس دلایا ہے:

آئینہ دام کو سبزے میں چھپاتا ہے عبث
کہ پری زاد نظر، قابل تسخیر نہیں

شعر پڑھتے ہوئے نگاہوں کے سامنے ایسے مرتبان، بوتل اور شیشے کے صندوق ابھرنے لگتے ہیں جن میں “پری” اور “جن” اور دوسرے فوق الفطری پیکر اور عناصر بند ہیں۔ اس داستانی روایت سے بلاشبہ غالب کے ذہن کا ایک تعلق ہے۔ پری زاد اور تسخیر کے لفظوں سے کام لیتے ہوئے اور آئینے کو شیشے کی صورت دیتے ہوئے غالب نے کچھ اور ہی لطف پیدا کر دیا ہے۔ آئینہ اور نظر ایسے پیکر ہیں جو شیشے کے مرتبان اور پری زاد، پری، دیو، یا جن سے گہرا معنوی رشتہ رکھتے ہیں، بلکہ یہ ان ہی کے واضح اشارے ہیں۔ شیشے میں پری زاد کو بند کرنے کی کوشش کے عمل کے لمحوں کی پُر اسراریت نے اس شعر کی فضا کو متاثر کیا ہے۔ یہاں “جو ہر سبز” وہ عمل ہے جو پری زاد کو شیشے میں اتارنے کی قوت یا پُر اسرار طاقت کا نتیجہ ہے۔ آئینے کا “جو ہر سبز” نظر کو دام بنا کر کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غالب یہ کہنا چاہے ہے کہ نظر جب تک آئینے کے سامنے ہوتی ہے ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس شیشے میں گرفتار ہو گئی ہے۔ جب ہٹ جاتی ہے تو محسوس ہوتا ہے اسے تسخیر کرنا ممکن نہیں۔ آئینہ پری زاد نظر کو خود میں اتار نہیں سکتا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے داستانی رجحان کو شدت سے نمایاں کیا ہے۔ پری زاد نظر سے نظر کی پھسلتی اور گم ہوتی پُر اسرار کیفیت کا جو تاثر دیا ہے، اس کی داد کس طرح دی جائے! جوہر آئینہ یا جوہر سبز کو دام کی صورت میں پیش کرنا غالب ہی کا کارنامہ ہے۔

غالبیات میں کہیں پری شیشے میں اتری نظر آتی ہے، کہیں پری کا سایہ پڑتے ہی دیوانگی طاری ہو جاتی ہے، کہیں محبوب کی آنکھیں پری کی آنکھوں کی مانند خوبصورت اور پُر اسرار ہیں اور خیالات کو پریشان کرتی ہیں، کہیں پری کی آنکھوں کے عکس سے آئینے کا حسن بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ عشق جنون سے پہچانا جاتا ہے اور جب تک پری کا سایہ نہ پڑے جنون پیدا نہیں ہوتا اور کہیں یہ سرگوشی ہے کہ پری کے سائے سے محفوظ رہنے کے لیے آئینے کے پیچھے موم تعویذ بن گیا ہے۔ محبوب کی آرائش اسے پری کی صورت جلوہ گر کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ آئینہ دیوانہ ہو جائے گا۔ وہ تعویذ بازو کی وجہ سے محفوظ ہے۔ کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ محبوب کی بوجھل پلکیں شہد کی مکھی کی طرح آئینے پر ڈنک مار رہی ہیں۔ اس جادو کا اثر آئینے کے موم پر یہ ہوتا ہے کہ وہ خود جادو کاطلسم بن جاتا ہے اور کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ وحشت جنون بہار کے تصور سے پری کے پروں کے سائے کا تصور پیدا ہوتا ہے، افسونِ خواب وہ جادو ہے جسے پڑھنے سے دشمن کو نیند آ جاتی ہے۔ کہیں چشم پری رموز و اسرار کی کائنات بن گئی ہے اور کہیں زلف پری کا سلسلہ دراز ہے۔ پھر پری کا طلسم غالب کے محبوب کے تصور میں جذب ہو گیا تو اردو شعریات کے اعلیٰ ترین جمالیاتی تجربے سامنے آنے لگے:

بسکہ آئینے نے پایا گرمیِ رخ سے گداز
دامنِ تمثال مثلِ برگِ گل تر ہو گیا
دیکھ اس کے ساعد سیمیں و دست پُر نگار
شاخِ گل جلتی تھی مثلِ شمع، گل پروانہ تھا

محبوب کے اعلیٰ ترین اور ارفع ترین شعری تجربوں میں “پری” کے طلسمی تاثرات جذب ہوتے گئے۔ محبوب کے تعلق سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پری اپنے تمام طلسمات کو جمالیاتی تجربوں میں جذب کر کے آہستہ آہستہ اڑتی گئی ہے۔ اس کے بعد غالب کا محبوب اپنے جلوؤں اور طلسمی کیفیتوں کے ساتھ اس طرح ابھرا ہے کہ کسی پری یا کسی طلسمی (داستان) پیکر کی ضرورت ہی نہ رہے۔

غالب کے کلام میں جہاں “پری” کی اہمیت ہے وہاں کالے جادو، روحوں کو بلانے کے نقش، جادوگر، پہاڑ کی آواز اور اس کی بازگشت، تعویذ، افسونِ ربط (یعنی کسی شئے پر جادو کرنا اور اس کا اثر دوسرے پر ہونا) صحرا کے چھوٹے ہو جانے کے عمل، پُر اسرار وحشت اور اس وحشت کی پرواز، تحیر کی پُر اسرار فضا، وسیع تر صحرا کو ایک ہی جنبش میں طے کرنے کے عمل، طلسمی تجربوں، قیس، فرہاد، سد سکندر، حضر، زلیخا، شیریں، صور اسرافیل، بت خانۂ آزر، تخت سلیمان، دست موسیٰ، لقا کی داڑھی، عمر کی زنبیل، فرعون، عنقا وغیرہ کی بھی کم اہمیت نہیں ہے۔ ان سب کا رشتہ اسطور، مذاہب، قصص اور داستانوں سے ہے۔ غالب کی بصیرت اور ان کی صورت گری ہندوستان کی صدیوں کی روایات اور اس ملک کی مٹی اور فضا کی دین ہے۔

غالب کی داستانی مزاج نے طلسم، تحیر، دام، فسوں، حلقۂ حصار، صحرا، بیاباں، جادو، دشت، وحشت، سراب، صدا اور سراغ وغیرہ کو شدت سے قریب کیا ہے۔ یہ سب صورت گر فنکار کی تخلیق کے محرک بھی ہیں اور تکنیک اور اظہار کے ذرائع بھی۔ ان سے متحرک ہو کر تجربے اپنی صورتیں بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ اشارات و اعلامات کی صورت میں بھی ابھرتے ہیں اور آئینے کی طرح چمکتے ہوئے ارتفاعی پیکر بھی بن جاتے ہیں۔ ان سے تخلیق ابہام کا فن متاثر ہوتا ہے۔ آزاد تلازموں کی تخلیق میں بھی فنکار کا ذہن ان کی روشنی حاصل کرتا ہے۔ مثلاً”طلسمِ شہر خموشاں، طلسم رنگ، طلسم خاک، طلسم آئینہ، طلسم موم جادو، طلسم قفل ایجد، طلسم پیچ و تاب، حیرت تماشائی، حیرت کش یک جلوہ، معنی، حیرت، جلوہ، حیرت نظارہ، حیرت گلزار، حیرت کاغذِ آتش زدہ، حیرتِ نقش پا، حیرتِ نگاہ، سرمۂ حیرت، حیرت رم، صحرائے تحیر، حیرت زدہ جلوۂ نیرنگِ خیال، دامِ ہر کاغذِ آتش زدہ، دام تہِ سبز، دام تمنا، دام نشاط، دام رغبت نظارہ، دام رگ گل، دام جوہر آئینہ، قفس گرم، فسون اثر، فسونِ نشاط، فسون خواب، افسون آگاہی، حلقۂ صد کام، حلقۂ دام تماشا، حلقۂ دام بلا، حلقۂ پُرسش آزر، حلقۂ دام خیال، حلقۂ یک بزم ماتم، حصارِ شعلۂ جوالہ، صحرائے تحیر، صحرائے طلب، صحرائے محشر، بیابان خراب، بیابان تمنا، جادۂ صحرائے جنون، جادو صحرائے آگاہی، خاک دشتِ مجنوں، جنون شوق، وحشت چشم پری، وحشت اندیشہ، وحشت جنون با ہار، وحشت سراغ، وحشت شور تماشا، دیباچۂ وحشت، وحشت تسخیر، سراب یک تپش، سراب حسن، موج سراب، موج سراب صحرا، صید زبوں، صید وحشت طاؤس، صید دیوانگی” وغیرہ۔

جانے کتنے داستانی روح اور جوہر لیے”لفظوں” جانے کتنی افسانوی رنگ لیے ترکیبوں اور پیکروں کے ذریعے غالب کے تخلیقی تخیل کا اظہار ہوا ہے۔ شاعر کے تخیل نے اپنی تہذیب اور اپنے عہد کی قدروں سے ایک گہرا رشتہ پیدا کر کے اپنے تخلیقی تجربوں کو تابناکی بخشی ہے اور ساتھ ہی ماضی کے جلال و جمال کے رس کی لذت سے آشنا کیا ہے۔ آزاد تخیل، اسطورمذاہب، قصص اور داستانوں کے نقوش، واقعات و کردار کے تئیں حسِ بیداری بھی پیدا کرتا ہے اور ان کے ذریعہ تخلیقی تجربوں کا اظہاربھی کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فنکار کے تخیل نے تہذیب کے ایک بہت بڑے سرچشمے کو اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ قدیم اور جدید پیکروں کو اپنے نئے تجربوں سے ہم آہنگ کر کے جہاں امتزاجی رنگوں کی تخلیق میں مصروف رہا ہے، وہاں ان سے اپنے جذباتی اور حسی پیکروں اور تمثالوں کی ایک بڑی دنیا خلق کر دی ہے۔

اردو ادب میں ایسی تخلیقی فکر نہیں ملتی کہ جس میں علم، تخیل، جذبہ اور تاثر سب ایک دوسرے میں جذب ہوں۔ ایسے اجتماعی اور نسلی شعور کی مثال نہیں ملتی جو صدیوں کے تجربوں کی روشنی اور رنگوں کی آمیزش سے رمز و ایما اور علامات و تماثیل سے ایسی کائنات خلق کردے کہ کلام کی تاثیر اپنی جگہ قائم رہے اور ذہن صدیوں کے تخیلات سے رشتہ قائم کرے۔ غالب کی فکر کی توانائی اور ان کے تخیل کی بلندی کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تہذیب کی بے پناہ گہرائیوں میں جڑیں پھیلائے ہوئے ہیں۔ اردو ادب میں اتنا بڑا صورت گر پیدا نہیں ہوا۔ لفظوں میں کسمساتے ہوئے پیکروں کی تخلیق کا فن وہی ہے جو ہندوستان کے بت تراشوں اور صورت گروں کا رہا ہے۔ مذاہب، اسطور اور قصص کی طویل پُر اسرار روایتوں سے تخلیقی رشتے کی پہچان دراصل غالب کی تہذیبی شخصیت کے ایک اہم ترین پہلو کی پہچان ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post