غبار خاطر کی رومانیت :ڈاکٹر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹرشکیل الرحمن
مولانا ابو الکلام آزاد کی رومانی فکر و نظر ایک دلچسپ اور فکر انگیز موضوع ہے۔ غبار خاطر، ایک ایسی ادبی تخلیق ہے جو اپنی رومانیت کی وجہ سے بھی توجہ کا مرکز ہے۔ تنقید نگار ڈاکٹر سید عبد اللہ کی اس تحریر سے اردو ادبی تنقید کی آبرو ہی جاتی رہی کہ”غبار خاطر” ہی ایک ایسی کتاب ہے جو ابوالکلام کی اصلی نثر سے بہت دور ہے، اس میں ابوالکلام کی تقریر بہت مدھم اور دھیمی ہے، اس میں ابوالکلام کا قلم بیمار اور ضعیف معلوم ہوتا ہے۔ “غبار خاطر” ایک لحاظ سے بیکاری کا مشغلہ ہے، اس میں خیال نے فرضی مکتوب الیہ کے نام فرضی خط لکھوائے ہیں، ان کی اکثر بحثیں فرضی ہیں”۔
[ابو الکلام کی تکرار پر نہ جائیے] اردو کے بعض تنقید نگار جب کسی وجہ سے لاشعوری دباؤ محسوس کرتے ہیں تو ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور ایسی ہی نثر لکھتے ہیں۔ “غبار خاطر” مولانا کی “اصلی نثر سے بہت دور ہے” یہ اصلی نثر کون سی ہے؟ اسی مضمون میں بات واضح ہو جاتی ہے۔ مولانا کی اصلی نثر “الہلال” کی نثر ہے۔ “غبارِ خاطر” اس داعیہ عظیم اور جذبہ شدید سے بھی خالی ہے جس کے شعلے “الہلال” میں مشتعل ہو کر اقصائے ہند میں آگ لگا چکے تھے۔ تنقید نگار نے مولانا کی “با رعب” اور “پر جلال نثر” ہی کو ان کی اصل نثر سمجھ لیا ہے۔ “الہلال” کی صحافتی نثر اور “غبار خاطر” کے فنی اسلوب کو سمجھے بغیر اور یہ سمجھے بغیر کہ فنکاری کہاں ہے، رویہ اور میلان، مزاج اور رجحان اور موضوعات کے انتخاب کی کیفیت اور صورت کیسی ہے، وہ “غبار خاطر” میں بھی ایسی “پرجلال نثر” پانے کے متمنی تھے کہ جس میں قوت، توانائی، سخت کوشی اور دشوار پسندی ہو۔ “غبارِ خاطر” کے متعلق ڈاکٹر سید عبد اللہ کی مجموعی رائے یہی ہے “غبار خاطر” ایک جوئے نغمہ خواں ہے جو حیات کے ضعف اور ولولہ ہائے زندگی کی غنودگی کی ترجمانی کر رہی ہے۔ اس میں صد ہزار نوائے جگر خراش کا سماں پایا نہیں جاتا” … نہیں جانتا کس حد تک اسے ادبی تنقید کا انداز اور اسلوب کہا جاسکتا ہے، لیکن یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اردو کی ادبی تنقید آرٹ اور اس کے وجہر کے تئیں زیادہ بیدار نہیں ہوئی ہے۔ آرٹ کے شعور یا فنی شعور (Art Consciousness) کی کمی یقیناً محسوس ہوتی ہے۔ “لسان الصدق” اور “الوکیل” سے “الہلال”، “البلاغ” اور تذکرہ تک اور ترجمان القرآن سے غبار خاطر تک مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر نے ایک سفر کیا ہے، یہ ان کی نثر کی مختلف منزلیں ہیں کہ جن پر ان کی شخصیت کا چھاپ پڑی ہوئی ہے، ترجمان القرآن کے اسلوب کی جمالیات اور غبار خاطر کی رومانیت سے اردو نثر میں سبلائم اور جمال کا ایک عمدہ معیار قائم ہوتا ہے۔
یکسانیت سے گریز کا عمل بنیادی طور پر رومانی عمل ہے۔ “غبار خاطر” کے مضامین مجموعی طور پر یکسانیت، ماحول کی شکست و ریخت، سیاسی اتھل پتھل اور انتشار سے گریز کے عمل کے غماز ہیں، اسی عمل میں مولانا ابوالکلام آزاد کی رومانی مزاج کی پہچان ہوتی ہے، نیز اردو نثر کو ایک رومانی رجحان اور رویہ حاصل ہوتا ہے۔ رومانی مزاج خلوت میں اپنے احساس اور جذبے اور تخیل سے ایک دنیا خلق کرتا ہے، اپنے خوابوں کو سجاتا ہے، احساس حسن سے نئی تخلیق کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔
مولانا اپنی طبیعت کی افتاد کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:
ابداء ہی سے طبیعت کی افتاد کچھ ایسی واقع ہوئی تھی کہ خلوت کا خواہاں اور جلوت سے گریزاں رہتا تھا، یہ ظاہر ہے کہ زندگی کی مشغولیتوں کے تقاضے اس طبع وحشت سرشت کے ساتھ نبھائے نہیں جاسکتے، اس لیے یہ بہ تکلف خود کو انجمن آرائیوں کا خوگر بنانا پڑتا ہے، مگر دل کی طلب ہمیشہ بہانے ڈھونڈھتی ہے، جونہی ضرورت کے تقاضوں سے مہلت ملی اور وہ اپنی کامجویٹوں میں لگ گئی۔
در خرابا تم نہ دیدستی خراب
بادہ پنداری کہ پنہاں می زنم
(غبار خاطر: ساہتیہ اکارمی ص 80)
آگے تحریر فرماتے ہیں:
بارہ تیرہ برس کی عمر میں میرا یہ حال تھا کہ کتاب لے کر کسی گوشہ میں جا بیٹھتا اور کوشش کرتا کہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہوں، کلکتہ میں آپ نے ڈلہوزی اسکوائر ضرور دیکھا ہو گا، جنرل پوسٹ آفس کے سامنے واقع ہے۔ اسے عام طور پر لال ڈگی کہا کرتے تھے، اس میں درختوں کا ایک جھنڈ تھا کہ باہر سے دیکھئے تو درخت ہی درخت، اندر جائیے تو اچھی خاصی جگہ ہے اور ایک بنچ بھی بچھی ہوئی ہے، معلوم نہیں اب بھی یہ جھنڈ ہے کہ نہیں میں جب سیر کے لیے نکلتا تو کتاب ساتھ لے جاتا اور اس جھنڈ کے اندر بیٹھ کر مطالعہ میں غرق ہو جاتا۔ (ایضاً ص 80۔81)
خلوت اور تنہائی میں رومانی ذہن متحرک ہو جاتا ہے تو حسن پسندی کی پہچان ہونے لگتی ہے، تخیل بیدار ہونے لگتے ہیں، فطرت کے جلال و جمال سے ایک رشتہ قائم ہو جاتا ہے، جذبات کے رنگوں کے تاثرات ابھرنے لگتے ہیں، باطنی اور روحانی خواہش اپنی تکمیل کے لیے بے چین رہنے لگتی ہیں، “آزاداحساسات” خارجی اور باطنی مشاہدات میں بڑی کشادگی پیدا کرنے لگتے ہیں، گریز کے باوجود تہذیب، تاریخ اور انسانی رشتوں سے ذہن کا رشتہ قائم رہتا ہے، ان کے حسن و جمال سے شعوری اور غیر شعوری رشتہ غیر معمولی نوعیت کا ہوتا ہے، فنکار کا رومانی ذہن مرکزی حیثیت اختیار کر کے تاریخ و تمدن اور اپنے علم اور مشاہدوں کا آئینہ بن جاتا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:
“میں اپنے دل کو مرنے نہیں دیتا، کوئی حالت ہو، کوئی جگہ ہو، اس کی تڑپ کبھی دھیمی نہیں پڑے گی، میں جانتا ہوں کہ جہانِ زندگی کی ساری رونقیں اسی میکدہ خلوت کے دم سے ہیں، یہ اجڑا اور ساری دنیا اجڑ گئی:
از صد سخنِ پیرم یک حرف مرا یادست
عالم نہ شود ویراں تا میکدہ آبادست
باہر کے ساز و سامان عشرت مجھ سے چھن جائیں لیکن جب تک یہ نہیں چھنتا میرے عشق و طرب کی سرمستیاں کون چھین سکتا ہے؟ (غبار خاطر ص70)
مولانا کا ذہن جلوت سے گریزاں اور خلوت کا خواہاں ہے، رومانیت انجمن سے نکل کر تنہائی کی ایسی فضا چاہتی ہے، جہاں احساسات پر کسی قسم کی گرفت نہ ہو، آزاد احساسات کے تصور سے راحت ملتی ہے، شعوری اور غیر شعوری سطح پر جمالیاتی انبساط پانے کی تمنا ہی گریز کرنے پر مجبور کرتی ہے اور گریز کے عمل میں ننھے ننھے چراغ روشن کرتی ہے۔ مولانا اپنے رومانی ذہن کو عزیز جانتے ہیں اپنے “دل کو مرنے نہیں دیتے” رومانی فنکار خارجی اور داخلی یا باطنی زندگی میں ایک گہرا رشتہ پا لیتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ جہاں زندگی کا بھرم باطنی زندگی کی روشنی اور رنگ سے قائم ہے، میکدہ خلوت کی رونقیں نہ ہوں یعنی احساسات اور جذبات کے مختلف رنگ نہ ہوں، تخیل کی پرواز نہ ہو، احساسات کی آزادی نہ ہو تو جہان زندگی کا حسن بھی جاتا رہتا ہے۔ مولانا کی رومانیت تو یہ بتاتی ہے کہ میکدہ خلوت اجڑا تو پھر یہ سمجھو ساری دنیا اجڑ گئی، رومانی فنکار کو اپنے باطن کی سرمستیاں اس قدر عزیز ہیں اور وہ انہیں اس قدر عزیز جانتا ہے کہ انہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا ہے۔ رومانیت باطن کی آگہی ہے، باطن کی روشنیوں کے تئیں بیداری ہے۔ مولانا کہتے ہیں”باہر کے ساز و سامان عشرت مجھ سے چھن جائیں لیکن جب تک یہ نہیں چھنتا میرے عیش و طرب کی سرمستیاں کون چھین سکتا ہے”۔ مولانا اپنے رومانی رجحان اور رویے کو اس طرح واضح کر دیتے ہیں:
طبیعت کی اس افتاد (خلوت پسندی) نے بڑا کام یہ دیا کہ زمانے کے بہت سے حربے میرے لیے بے کار ہو گئے، لوگ اگر میری طرف سے رخ پھیر لیتے ہیں تو بجائے اس کے کہ دل گلہ مند ہو اور منت گزار ہونے لگتا ہے، کیونکہ جو ہجوم لوگوں کو خوش کرتا ہے، میرے لیے بسا اوقات ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ میں اگر عوام کا رجوع و ہجوم گوارا کرتا ہوں تو یہ میرے اختیار کی پسند نہیں ہوتی، اضطراب و تکلیف کی مجبوری ہوتی ہے۔ میں نے سیاسی زندگی کے ہنگاموں کو نہیں ڈھونڈا تھا، سیاسی زندگی کے ہنگاموں نے مجھے ڈھونڈ نکالا، میرا معاملہ سیاسی زندگی کے ساتھ وہ ہوا جو غالب کا شاعری کے ساتھ ہوا تھا۔
مابنودیم بدیں مرتبہ راضی غالب
شعر خود خواہش آں کرد کہ گرد دفن ما!
(غبار خاطر)
میں نے عرض کیا ہے کہ یکسانیت سے گریز کا عمل بنیادی طور پر رومانی عمل ہے، مولانا گریز کے عمل کو خوب جانتے پہچانتے ہیں، فرماتے ہیں:
یکسانی اگرچہ سکون و راحت کی ہو،یکسانی ہوئی اور یکسانی بجائے خود زندگی کی سب سے بڑی بے نمکی ہے۔ تبدیلی اگرچہ سکون سے اضطراب کی ہو مگر پھر تبدیلی ہے اور تبدیلی بجائے خود زندگی کی ایک بڑی لذت ہوئی۔ عربی میں کہتے ہیں”حمّضوا مجالسکم” اپنی مجلسوں کا ذائقہ بدلتے رہو، سو یہاں زندگی کا مزہ بھی انہی کو مل سکتا ہے، جو اس کی شیرینیوں کے ساتھ اس کی تلخیوں کے بھی گھونٹ لیتے رہتے ہیں اور اس طرح زندگی کا ذائقہ بدلتے رہتے ہیں، ورنہ وہ زندگی ہی کیا جو ایک ہی طرح کی صبحوں اور ایک ہی طرح کی شاموں میں بسر ہوتی ہے۔ (غبار خاطر ص 44)
آگے لکھتے ہیں:
یہاں پانے کا مزہ انہی کو مل سکتا ہے جو کھونا جانتے ہیں، جنہوں نے کچھ کھویا ہی نہیں انہیں کیا معلوم کہ پانے کے معنی کیا ہوتے ہیں۔ (غبار خاطر ص45)
مولانا کی رومانیت حرکت اور اضطراب پسند کرتی ہے، سکون کو موت سمجھتی ہے، اسے خود فراموشی اچھی لگتی ہے، یہ سمجھتی ہے کہ زندگی کے لیے بیخودی ضروری ہے۔ مولانا کا عقیدہ یہ ہے کہ راحت اور الم کا احساس ہمیں باہر سے لاکر کوئی نہیں دے دیاکرتا، یہ خود ہمارا ہی احساس ہے جو زخم لگاتا ہے، کبھی مرہم بن جاتا ہے۔ طلب و سعی کی زندگی بجائے خود زندگی کی سب سے بڑی لذت ہے بشرطیکہ کسی مطلوب کی راہ میں ہو۔ مولانا مسرتوں کے لمحوں کو عزیز جانتے ہیں، ان کی رومانیت جمالیاتی انبساط کی تلقین کرتی ہے، گریز دراصل مسرتوں کی تلاش ہے، خوش رہنے کے لیے یکسانیت سے گریز ضروری ہے، مولانا کہتے ہیں خوش رہنا محض ایک طبعی احتجاج ہی نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
گریز اور تنہائی کے تعلق سے مولانا کے رومانی انداز نظر کی پہچان واضح طور پر اس طرح ہو جاتی ہے:
جب کبھی میں قید خانے میں سنا کرتا ہوں کہ فلاں قیدی کو قید تنہائی کی سزا دی گئی تو حیران رہ جاتا ہوں کہ تنہائی آدمی کے لیے سزا کیسے ہو سکتی ہے، اگر دنیا بھی اس کو سزا سمجھتی ہے تو کاش ایسی سزائیں عمر بھر کے لیے حاصل کی جاسکیں. (غبار خاطر ص 83)
مولانا 9اگست 1942 کو سوا دو بجے قلعہ احمد نگر میں بند ہوتے ہیں، لاشعور میں یہ احساس ہے کہ تنہائی نصیب ہو رہی ہے، قلعے کے اندر پہنچتے پہنچتے رومانی فکر و نظر میں اضطراب سا پیدا ہوتا ہے۔ ذہن خارجی زندگی کے انتشار اور پیچھے چھوڑی ہوئی شکست و ریخت کی زندگی سے خود کو علیحدہ کر کے پورے وجود کو قلعہ احمد نگر کے حوالے کر دیتا ہے۔”دل حکایتوں سے لبریز تھا، مہلت کا منتظر تھا” یہ مہلت مل جاتی ہے تو رومانیت مختلف انداز سے چہکنے لگتی ہے۔ کہتے ہیں”آج قلعہ احمد نگر کے حصار تنگ میں اس کے حوصلہ فراخ کی آسودگیاں دیکھئے کہ جی چاہتا ہے دفتر کے دفتر سیاہ کر دوں.
وسعتے پیدا کن اے صحرا کی امشب درغمش
لشکرِ آہِ من ازدل خیمہ بیروں می زند
مشاہدہ اور بصیرت سے اس رومانیت میں بڑی کشادگی پیدا ہوتی ہے، تخیل اپنے عمل میں مصروف، تاریخ اپنے اور اق لیے کھڑی، ماضی کا حسن جلوہ گر اور ایک بڑی بات یہ کہ ذاتی رد عمل اور تاثرات کے ساتھ مختلف قسم کی تصویروں کے نقوش اور ڈرامائی کیفیتیں، مولانا بعض تصویروں کے نقوش اور ان کے تحرک کو پیش کرتے ہوئے کبھی فکشن اور کبھی ڈراما کا حسن نمایاں کر دیتے ہیں مثلاً:
دو بجنے والے تھے کہ ٹرین احمد نگر پہنچی، اسٹیشن میں سناٹا تھا، صرف چند فوجی افسرٹہل رہے تھے، انہی میں مقامی چھاؤنی کا کمانڈنگ آفیسر بھی تھا جس سے ہمیں ملایا گیا ہم اترے اور فوراً اسٹیشن سے روانہ ہو گئے، اسٹیشن سے قلعہ تک سیدھی سڑک چلی گئی ہے۔ راہ میں کوئی موڑ نہیں ملا، میں سوچنے لگا کہ مقاصد کے سفر کا بھی ایسا ہی حال ہے، جب قدم اٹھا دیا تو پھر کوئی موڑ نہیں ملتا، اگر مڑنا چاہیں تو صرف پیچھے ہی کی طرف مڑسکتے ہیں لیکن پیچھے مڑنے کی راہ یہاں پہلے سے بند ہو جاتی ہے۔ (غبار خاطر ص28)
مولانا گرفتار ہو کر قلعہ احمد نگر میں داخل ہوتے ہیں، حکایتوں سے لبریز دل اظہار چاہتا ہے، جیسے خارجی زندگی کی اتھل پتھل اور یکسانیت سے گریز کر کے رومانی ذہن کو آسودگی حاصل ہو گی، جمالیاتی انبساط ملے گا، اسٹیشن سے قلعہ تک رومانی ذہن کس طرح متحرک ہے غور فرمائیے:
قلعہ کا حصار پہلے کسی قدر فاصلے پر دکھائی دیا پھر یہ فاصلہ چند لمحوں میں طے ہو گیا، اب اس دنیا میں جو قلعہ سے باہر ہے اور اس میں جو قلعہ کے اندر ہے صرف ایک قدم کا فاصلہ رہ گیا تھا، چشم زدن میں یہ بھی طے ہو گیا اور ہم قلعہ کی دنیا میں داخل ہو گئے، غور کیجئے تو زندگی کی تمام مسافتوں کا یہی حال ہے خود زندگی اور موت کا باہمی فاصلہ بھی ایک قدم سے زیادہ نہیں ہوتا۔ (غبار خاطر ص28)
9اگست 1942 کو سوا دو بجے جب قلعہ احمد نگر کے حصار کا کہنہ کا نیا پھاٹک بند ہوتا ہے تو رومانی ذہن کا یہ تاثر ملتا ہے:
کل 9اگست 1942 کو سوا دو بجے قلعہ احمد نگر کے حصار کہنہ کا نیا پھاٹک میرے پیچھے بند کر دیا گیا، اس کارخانہ ہزار شیوہ و رنگ میں کتنے ہی دروازے کھولے جاتے ہیں تاکہ بند ہوں اور کتنے ہی بند کیے جاتے ہیں تاکہ کھلیں۔ (غبار خاطر ص19)
کھڑکیوں کو چن کر بند کر دیا جاتا ہے، قلعہ کی سنگی دیواروں تک ہی نگاہیں جاتی ہیں اور پھر ٹکرا کر واپس آ جاتی ہے، روشندان کے آئینے تک بند کر دیے جاتے ہیں … پھر رومانی ذہن کتاب باطن کھولتا ہے، اپنے علم کی روشنی حاصل کرتا ہے، بند کمرے میں چراغاں کرتا ہے، اپنے آزاد خیالات اور تاثرات کو سمیٹ لیتا ہے، خیالات، تاریخ اور تجربوں کی روشنی کو سمیٹ لاتے ہیں، انہیں، سنگی دیواریں ہوں یا بند روشندان اور کھڑکیاں روک نہیں سکتیں، آزادی کا ایک عجیب احساس ملتا ہے، مولانا لکھتے ہیں:
میری پچھلی زندگی مجھے قید خانے کے دروازے تک پہنچا کر واپس چلی گئی اور اب ایک دوسری ہی زندگی سے سابقہ پڑا ہے، جو زندگی کل تک اپنی حالتوں میں گم اور خوش کامیوں اور دل شگفتگیوں سے بہت کم آشنا تھی آج اچانک ایک ایسی زندگی کے قالب میں ڈھل گئی جو شگفتہ مزاجیوں اور خندہ روئیوں کے سوا اور کسی بات سے آشنا ہی نہیں۔ (غبار خاطر ص66)
یہاں رومانیت کے آہنگ کے شعور کی پہچان مشکل نہیں ہے۔ داخلیت کی آنچ بھی محسوس کی جاسکتی ہے، تصویریت اور ڈرامائیت مولانا کی رومانیت کی اہم خصوصیات ہیں۔ یہ دونوں مل کر ایک ایسے فکشن کو جنم دیتی ہیں کہ جس میں تخیلی اور جذباتی نقطہ نگاہ کے ساتھ تحریر کا انوکھا پن بھی ہے۔ مولانا فکشن میں حقیقت کو خوب پہچانتے ہیں لیکن ساتھ ہی حقیقت کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ تحلیل ہوتے بھی دیکھتے ہیں، اسلوب کی رنگینی اور فنکار کی مرصع کاری کے باوجود تجربے اور احساس کی لطافت، انداز بیان کی ندرت اور بعض جملوں کی دلآویزی غور طلب بن جاتی ہے، یہ رومانیت اپنی ماضی پسندی کوبڑی شدت سے نمایاں کرتی ہے اور اندرونی کیفیات کے ساتھ تاریخ اور تہذیب کے جلوؤں کو محسوس بناتی ہے۔
مولانا کو تنہائی اور خلوت کی وجہ سے قید خانے کی زندگی پسند آئی ہے، ان کی رومانیت نقش آرائیوں کا گوشہ چھوڑنا نہیں چاہتی، مولانا جانتے ہیں کہ ایک زندگی کے اندر کتنی ہی متحرک اور کتنی ہی مختلف زندگیاں ہیں، فرماتے ہیں:
“انسان اپنی ایک زندگی کے اندر کتنی ہی مختلف زندگیاں بسر کرتا ہے، مجھے بھی اپنی زندگی کی دو قسمیں کر دینی پڑیں، ایک قید خانے سے باہر کی، ایک اندر کی:
ہم سمندر باش و ہم ماہی کہ در اقلیم عشق
روئے دریا سلسبیل و قعر دریا آتش است
دونوں زندگیوں کے مرقعوں کی الگ الگ رنگ و روغن سے نقش آرائی ہوئی ہے، آپ شاید ایک کو دیکھ کر دوسری کو پہچان نہ سکیں:
لباسِ صورت اگر واژگوں کنم بیند
کہ خرقہ خشنم مایہ طلا باف است!
(غبار خاطر ص65)
آگے بڑھتے ہیں تو ان کی رومانی فکر و نظر اور واضح ہو جاتی ہے:
قید سے باہر کی زندگی میں اپنی طبیعت کی افتاد بدل نہیں سکتا، خود رفتگی اور خود مشغولی مزاج پر چھائی رہتی ہے، دماغ اپنی فکروں سے باہر آنا نہیں چاہتا اور دل اپنی نقش آرائیوں کا گوشہ چھوڑنا چاہتا، بزم و انجمن کے لیے بارِ خاطر نہیں ہوتا لیکن یارِ شاطر بھی بہت کم بن سکتا ہوں:
تاکے چو موجِ بحر بہر سوشتا فتن
در عینِ بحر پاے چو گرداب بند کن!
لیکن جوں ہی حالات کی رفتار قید و بند کا پیغام لاتی ہے، میں کوشش کرنے لگتا ہوں کہ اپنے آپ کو یک قلم بدل دوں، میں اپنا پچھلا دماغ سر سے نکال دیتا ہوں اور ایک نئے دماغ سے اس کی خالی جگہ بھرنی چاہتا ہوں، حریم دل کے طاقوں کو دیکھتا ہوں کہ خالی ہو گئے تو کوشش کرتا ہوں کہ نئے نئے نقش و نگار بناؤں اور انہیں پھر سے آراستہ کروں:
دقتست و گربت کدہ سازند حرم را
اس تحول صورت (Metamorphism) کے عمل میں کہاں تک مجھے کامیابی ہوتی ہے اس کا فیصلہ تو دوسروں ہی کی نگاہیں کر سکیں گی لیکن خود میرے فریب حال کے لیے اتنی کامیابی بس کرتی ہے کہ اکثر اوقات اپنی پچھلی زندگی کو بھولا رہتا ہوں اور جب تک اس کے سراغ میں نہ نکلوں اسے واپس نہیں لاسکتا۔
دل کہ جمع ست، غم از بے سروسامانی نیست
فکرِ جمعیت اگرنیست، پریشانی نیست!”
(غبار خاطر ص65۔66)
مولانا کو جب بھی تنہائی نصیب ہوتی ہے وہ حریم دل کے طاقتوں پر نئے نئے نقش و نگار ابھارنے لگتے ہیں، چھوٹے بڑے خوبصورت دئے جلانے لگتے ہیں، زندگی کی شگفتگی اور تازگی کو نئے انداز سے دیکھنے اور محسوس کرنے لگتے ہیں، انہیں لذت حاصل ہوتی ہے، جمالیاتی انبساط حاصل ہوتا ہے، اس بات کی جانب وہ خود اس طرح اشارہ کرتے ہیں:
“…میں نے قید خانے کی زندگی کو دو متضاد فلسفوں سے ترکیب دی ہے، اس میں ایک جز رواقیہ (Stoics) کا ہے، ایک لذتیہ (Epicureans) کا:
پنبہ را آشتی ایں جابہ شرار افتاد است
جہاں تک حالات کی ناگواریوں کا تعلق ہے رواقیت سے ان کے زخموں پر مرہم لگاتا ہوں اور ان کی چبھن بھول جانے کی کوشش کرتا ہوں:
ہر وقتِ بد کہ رَوے دہد آب سیل رواں
ہر نقشِ خوش کہ جلوہ کند موجِ آب گیر!
جہاں تک زندگی کی خوشگواریوں کا تعلق ہے، لذتیہ کا زاویہ نگاہ میں کام لاتا ہوں اور خوش رہتا ہوں:
ہر وقتِ خوش کہ دست دہد، مغتنم شمار
کس را وقوف نیست کہ انجام کار چیست!
(غبار خاطر 66۔67)
لذتیہ کے زاویہ نگاہ میں سے مولانا کی جمالی اور روحانی فکر و نظر کی بڑی حد تک پہچان ہو جاتی ہے۔ تخیل کی دنیا ہو یا حقیقی زندگی کے نقوش، تہذیب و تمدن کے آثار ہوں یا تاریخ اور فنون کے کردار، مولانا اپنے وجدان کی مدد سے احساسات کے رنگ ابھارتے ہیں اور ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سرمستی سی پیدا ہو جاتی ہے تو لذت اور انبساط میں گم ہو جاتے ہیں، ان کے رومانی ذہن کی پہچان ان کے اپنے اس کاک ٹیل (Cocktail) کے جام سے ہو جائے گی:
“… میں نے اپنے کاک ٹیل (Cocktail) کے جام میں دونوں بوتلیں انڈیل دیں، میرا ذوقِ بادہ آشامی بغیر اس جام مرکب کے تسکین نہیں پاسکتا تھا، اسے قدیم تعبیر میں یوں سمجھئے کہ گویا حکایتِ بادہ و تریاک میں نے تازہ کر دی ہے:
چناں افیون ساقی درے افگند
حریفاں را نہ سرما ندونہ دستار!
البتہ”کاک ٹیل” کا یہ نسخہ خاص ہر خامکار کے بس کی چیز نہیں ہے، صرف بادہ گساران کہن مشق ہی اسے کام میں لاسکتے ہیں ورموتھ (vermouth) اور جِن (Gin) کا مرکب پینے والے اس رطلِ گراں کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔ مولانا روم نے ایسے ہی معاملات کی طرف اشارہ کیا تھا:
بارہ آس در خور ہر ہوش نیست
حلقہ آں مسخرہ ہر گوش نیست
(غبار خاطرص 67)
اس سوال کا جواب کہ قید و بند کی محروم زندگی میں لذتیہ کا سروسامان کہاں میسر آسکتا ہے۔ مولانا یہ دیتے ہیں “انسان کا اصلی عیش دماغ کا عیش ہے جسم کا نہیں، میں لذتیہ سے ان کا دماغ لے لیتا ہوں جسم ان کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔” ان کا تجربہ اور عقیدہ یہ ہے کہ لذتیں اور انبساط، حسن، لذت آمیزش، عیش و مسرت سب ہم سے باہر نہیں خود ہمارے اندر ہی موجود ہیں، بڑی خوبصورتی سے یہ بات اس طرح کہی ہے:
عیش و مسرت کی جن گل شگفتگیوں کو ہم چاروں طرف ڈھونڈھتے ہیں اور نہیں پاتے وہ ہمارے نہانخانۂ دل کے چمن زاروں میں ہمیشہ کھلتے اور مرجھاتے رہتے ہیں، لیکن محرومی ساری یہ ہوتی کہ ہمیں چاروں طرف کی خبر ہے مگر خود اپنی خبر نہیں۔ (غبار خاطر ص68)
مولانا کی یہ پیاری معنی خیز بات کبھی بھول نہیں پاتا کہ جنگل کے مور کو کبھی باغ و چمن کی جستجو نہیں ہوتی، اس کا چمن خود اس کی بغل میں موجود رہتا ہے، جہاں کہیں اپنے پَر کھول دے گا ایک چمنستان باو قلموں کھل جائے گا۔
غبار خاطر پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے مولانا ابوالکلام آزاد کی رومانیت نے جنگل کے مور کی طرح اپنے پَر کھول دیے ہیں اور ایک ایسے چمن کی تخلیق ہو گئی ہے کہ جس میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوئے ہیں۔
احساس حسن، اس رومانیت کا جوہر ہے، حسن پسندی کے رجحان اور احساس حسن کی شدت سے یہ رومانیت پرکشش اور جاذب نظر بنی ہے۔ حسن پسندی اور حسن کے احساس کی وجہ سے ہی رومانیت پھیلا ہے اور اس میں لمسیت، مظاہر حسن فطرت، تخلیت، ماضی پسندی اور ماضی کا جلال و جمال، تمثیلیت، تصویریت، ڈرامائیت، جذبہ اور احساس کے مختلف رنگ سب شامل ہو گئے ہیں۔ یہ حسن پسندی اور احساس حسن ہے کہ جن کی وجہ سے مولانا کا رومانی ذہن ماضی کے جلوؤں تک پہنچ جاتا ہے، حکایت، تمثیل، فکشن اور ڈراما کی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ مولانا کی حسن پسند طبیعت ہی کا کرشمہ ہے کہ “غبار خاطر” میں مظاہرِ حسن فطرت کے دلکش اور دلفریب نمونے ملتے ہیں، احساسات کی لطافت اور رنگینی کے ساتھ فطرت کے جمال سے ایک باطنی رشتہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
داہنی طرف جھیل کی وسعت، شالامار اور نشاط باغ تک پھیلی ہوئی ہے۔ بائیں طرف نسیم باغ کے چناروں کی قطاریں دور تک چلی گئی ہیں۔ (غبار خاطر: ص6)
رات بھر کی امس بھی ختم ہو گئی تھی، اب جوار کی لہریں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں۔ (غبار خاطر:ص21)
صبح مسکرارہی تھی، سامنے دیکھا تو سمندراچھل اچھل کر ناچ رہا تھا، نسیم صبح کے جھونکے احاطہ کی روشنی میں پھرتے ہوئے ملے، یہ پھولوں کی خوشبو چُن چُن کر جمع کر رہے تھے اور سمندر کو بھیج رہے تھے کہ اپنی ٹھوکروں سے فضا میں پھیلاتا رہے. (ایضاً ص 21)
قید خانے کی چار دیواری کے اندر بھی سورج ہر روز چمکتا ہے اور چاندنی راتوں نے کبھی قیدی اور غیر قیدی میں امتیاز نہیں کیا، اندھیری راتوں میں جب آسمان کی قندیلیں روشن ہو جاتی ہیں تو وہ صرف قید خانے کے باہر ہی نہیں چمکتیں، اسیران قید و محن کو بھی اپنی جلوہ فروشیوں کا پیام بھیجتی رہتی ہیں، صبح جب طباشیر بکھیرتی ہوئی آئے گی اور شام جب شفق کی گلگوں چادر پھیلانے لگے تو صرف عشرت سراؤں کے دریچوں سے ہی ان کا نظارہ نہیں کیا جائے گا۔ قید خانے کے روزنوں سے لگی ہوئی نگاہیں بھی انہیں دیکھ لیا کریں گی، فطرت نے انسان کی طرح کبھی یہ نہیں کیا کہ کسی کو شادکام رکھے کسی کو محروم کر دے، وہ جب کبھی اپنے چہرے سے نقاب الٹتی ہے تو سب کویکساں طور پر نظارہ حسن کی دعوت دیتی ہے۔ (غبار خاطر: ص69)
اس وقت آسمان کی بے داغ نیلگونی اور سورج کی بے نقاب درخشندگی کا جی بھر کے نظارہ کروں گا اور رواق دل کا ایک ایک دریچہ کھول دوں گا، گوشہ ہائے خاطر افسردگیوں اور گرفتگیوں سے کتنے ہی غبار آلود ہوں لیکن آسمان کی کشادہ پیشانی اور سورج کی چمکتی ہوئی خندہ روئی دیکھ کر ممکن نہیں کہ اچانک روشن نہ ہو جائیں۔ (ایضاً: ص 72۔73)
یہ ماننا پڑے گا کہ… ایک فلسفی، ایک زاہد، ایک سادھو کا خشک چہرہ بنا کر ہم اس مرقع میں کھپ نہیں سکتے جو نقاش فطرت کے موقلم نے یہاں کھینچ دیا ہے، جس مرقع میں سورج کی چمکتی ہوئی پیشانی، چاند کا ہنستا ہوا چہرہ، ستاروں کی چشمک، درختوں کا رقص، پرندوں کا نغمہ، آب رواں کا ترنم اور پھولوں کی رنگین ادائیں اپنی اپنی جلوہ طرازیاں رکھتی ہوں، اس میں ہم ایک بجھے ہوئے دل اور سوکھے ہوئے چہرہ کے ساتھ جگہ پانے کے یقیناً مستحق نہیں ہو سکتے، فطرت کی اس بزم نشاط میں تو وہی زندگی سج سکتی ہے جو ایک دہکتا ہوا دل پہلو میں اور چمکتی ہوئی پیشانی چہرے پر رکھتی ہو اور جو چاندنی میں چاند کی طرح نکھر کر ستاروں کی چھاؤں میں ستاروں کی طرح چمک، پھولوں کی صف میں پھولوں کی طرح کھل کر اپنی جگہ نکال لے سکتی ہو۔ (ایضاً: ص76)
حسن آواز میں ہو یا چہرے میں، تاج محل میں ہو یا نشاط باغ میں حسن ہے اور حسن اپنا فطری مطالبہ رکھتا ہے، افسوس اس محروم ازلی پر جس کے بے حس دل نے اس مطالبہ کا جواب دینا نہ سیکھا ہو۔ (غبار خاطر: ص257)
فطرت کائنات میں ایک مکمل مثال (Pattern) کی نموداری ہے ایسی مثال جو عظیم بھی ہو اور جمالی (Aesthetics) بھی، اس کی عظمت ہمیں مرعوب کرتی ہے۔ اس کا جمال ہم میں محویت پیدا کرتا ہے۔ (ایضاً: ص113)
کائنات ساکن نہیں ہے متحرک ہے اور ایک خاص رخ پر بنتی اور سنورتی ہوئی بڑھی چلی جا رہی ہے، اس کا اندرونی تقاضہ ہر گوشہ میں تعمیر و تکمیل ہے، اگر کائنات کی اس عالمگیر ارتقائی رفتار کی کوئی مادی توضیح ہمیں نہیں ملتی تو ہم غلطی پر نہیں ہو سکتے، اگر اس معمہ کا حل روحانی حقائق میں ڈھونڈھنا چاہتے ہیں۔ (ایضاً: 128)
کوئی پھول یاقوت کا کٹورا تھا، کوئی نیلم کی پیالی تھی، کسی پھول پر گنگا جمنی کی قلم کاری کی گئی تھی، کسی پر چھینٹ کی طرح رنگ برنگے کی چھپائی ہو رہی تھی، بعض پھولوں پر رنگ کی بوندیں اس طرح پڑ گئی تھیں کہ خیال ہوتا تھا صناع قدرت کے موقلم میں رنگ زیادہ بھر گیا ہو گا، صاف کرنے کے لیے جھٹکنا پڑا اور اس کی چھینٹیں قبائے گل کے دامن پر پڑگئیں۔ (ایضاً: 197)
حسن پسند طبیعت میں سچائی یا حقیقت تحلیل ہوتی ہے تو داخلیت کی آنچ تیز ہوتی ہے۔ لیکن جذبات میں تندی پیدا نہیں ہوتی، ایک پر وقار توازن قائم رہتا ہے، فطرت کا حسن اور انسان کی تخلیقات کا حسن، دونوں فنکار کی رومانیت کو بیدار اور متحرک کئے رہتے ہیں۔ مولانا کی رومانیت کا تقاضا یہ ہے کہ علم کا دباؤ کہیں محسوس نہ ہو، حسن محسوس بنے، حسن سے ایک معصوم سا رشتہ قائم رہے، لیکن ساتھ ہی علم سے جو آگہی حاصل ہوئی ہے، حسن کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا جو وژن ملا ہے اس کا جوہر بھی موجود رہے۔ اس طرح رومانیت کی سطح بلند ہوتی ہے، حسن پسندی کا ایک معیار قائم ہوتا ہے۔ مولانا کے رومانی ذہن نے تلاش حسن کی بعد رموزِ حسن تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ “غبار خاطر” میں ہر مشاہدہ خوبصورت تجربہ بنا ہے، پھولوں پر گفتگو ہو رہی ہو یا درختوں اور پودوں پر، پرندوں پر اظہار خیال کیا جا رہا ہو یا جانوروں پر، ہر جگہ محسوس ہوتا ہے، مشاہدہ گہرا ہے اور مشاہدہ جمالیاتی تجربہ بنا ہے۔ حسن کی تلاش دراصل انبساط اور مسرت کی تلاش ہے، مسرت کی جستجو سے حسن قلب و نظر سے قریب ہو جاتا ہے تو غبار خاطر کے فنکار کے حواس کو آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ حسن کے تعلق سے جہاں بھی کوئی بات کہی گئی ہے آگہی اور وژن نے حواس کو صحت مند اور متوازن تاثرات عطا کیے ہیں۔ ذکر موسمی پھولوں کا ہو یا نازک کلیوں کا، بہار صبح کی بیلوں کا ہو یا خوبصورت نازک شاخوں کا، گل خطمی کی بات ہو رہی ہو یا پھولوں کی رنگ آمیزی کی بات، بلبلوں کا ذکر ہو یا کوئلوں کا، رومانی ذہن کی محویت متاثر کرتی ہے۔ یہ محویت انبساط اور سرور حاصل کرنے کے لیے بھی ہے اور عطا کرنے کے لیے بھی۔ حسن کے تعلق سے باتیں عام سی ہوں یا خاص، ہر جگہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے رومانیت نے کوئی انکشاف کیا ہے، انکشاف کی تازگی اور توانائی متاثر کرتی ہے۔
ماضی پسندی، رومانیت کی ایک بڑی خصوصیت ہے۔ مولانا بھی ماضی پسند ہیں، ماضی کے کھنڈروں میں اتر جاتے ہیں۔ ماضی کے جلال و جمال سے اس طرح دلچسپی لینے لگتے ہیں کہ اندرونی کیفیات اور احساسات کی بھی پہچان ہونے لگتی ہے۔ حسن پسند مزاج اور حسن کا طلسم فنکار کو ماضی کے جلوؤں تک لے جاتا ہے، ماضی کا جلوہ ہو یا ماضی کا المیہ، فنکار کا ذہن دونوں سے دلچسپی لینے لگتا ہے۔ اور اس طرح بھی غبار خاطر میں بصیرت افزائی کا سامان مہیا ہو جاتا ہے۔ احمد نگر کے قلعے میں نظر بند ہوتے ہیں تو احمد نگر اور اس کے قلعے کی تاریخ سے دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ چند تاریخی کرداروں کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ ملک احمد نظام الملک بھیری، فرشتہ، برہان نظام شاہ، چاند بی بی، عبد الرحیم خان، دولت خاں لودھی، ابوالفضل، سب کی پرچھائیاں آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگتی ہیں، اچانک ماضی کے کسی انجان اور نامعلوم ڈرامے کا ایک انتہائی دھندلا منظر سامنے آ جاتا ہے، دھند میں جیسے کوئی شکستہ قبر دکھائی دے رہی ہو:
احاطہ کے شمالی کنارہ میں ایک ٹوٹی ہوئی قبر ہے، نیم کے ایک درخت کی شاخیں اس پر سایہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتیں، قبر کے سرہانے ایک چھوٹا ساطاق ہے، طاق اب چراغ سے خالی ہے، مگر محراب کی رنگت بول رہی ہے کہ یہاں کبھی ایک دیا جلا کرتا تھا۔ (غبار خاطر: 29)
مولانا ابوالکلام آزاد موسیقی کے شیدائی ہیں، فرماتے ہیں کہ زندگی کی احتیاجوں میں سے ہر چیز کے بغیر خوش رہ سکتا ہوں لیکن موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لکھتے ہیں آواز خوش میرے لیے زندگی کا سہارا، دماغی کاوشوں کا مداوا اور جسم و دل کی ساری بیماریوں کا علاج ہے۔ موسیقی کا ذکر آ جاتا ہے تو ان کی رومانیت میں وہی اٹھان پیدا ہو جاتی ہے جو کسی کلاسیکی نغمے یا پکے گانے میں ہوتی ہے۔ موسیقی کے تعلق سے اندرونی کیفیت کی وضاحت نہیں کر پاتے تو کہتے ہیں کیا کہوں اور کس طرح کہوں کہ فریب و تخیل کے کیسے کیسے جلوے انہیں آنکھوں کے آگے گزر چکے ہیں۔ موسیقار ابو الکلام کے ہاتھوں میں ستارہے، تاج محل کی چھت پر جمنا کے رخ بیٹھے ہیں۔ جونہی چاندنی پھیلنے لگتی ہے ستار پر کوئی گیت چھیڑ دیتے ہیں اور اس میں گم ہو جاتے ہیں، رومانی ذہن کی حیثیت مرکزی ہے، رومانیت سے لبریز تصور کس طرح سامنے آرہا ہے، غور فرمائیے:
“رات کا سناٹا، ستاروں کی چھاؤں، ڈھلتی ہوئی چاندنی اور اپریل کی بھیگی ہوئی رات چاروں طرف تاج کے منارے سر اٹھائے کھڑے تھے، برجیاں دم بخود بیٹھی تھیں، بیچ میں چاندنی سے دھلا ہوا مرمریں گنبد اپنی کرسی پر بے حس و حرکت متمکن تھا، نیچے جمنا کی روپہلی جدولیں بل کھا کھا کر دوڑ رہی تھیں اور اوپر ستاروں کی انگنت نگاہیں حیرت کے عالم میں تک رہی تھیں، نور و ظلمت کی اس ملی جلی فضا میں اچانک پردہ ہائے ستارے نالہ ہائے بے حرف اٹھتے اور ہوا کی لہروں پر بے روک تیرنے لگتے، آسمان تارے جھڑ رہے تھے اور میری انگلی کے زخموں سے نغمے:
زخمہ برتا رک جاں میزنم
کس چہ داند تاچہ دستاک میزنم
کچھ دیر تک فضا تھمی رہتی گویا کان لگا کر خاموشی سے سن رہی ہے، پھر آہستہ آہستہ ہر تماشائی حرکت میں آنے لگا، چاند بڑھنے لگتا یہاں تک کہ سر پر آ کھڑا ہوتا، ستارے دیدے پھاڑ پھاڑ کر تکنے لگتے۔درختوں کی ٹہنیاں کیف میں آ کر جھومنے لگتیں، رات کے سیاہ پردوں کے اندر سے عناصر کی سرگوشیاں صاف صاف سنائی دیتیں، بارہا تاج کی برجیاں اپنی جگہ سے مل گئیں اور کتنے ہی مرتبہ ایسا ہوا کہ منارے اپنے کاندھوں کو جنبش سے نہ روک سکے۔ آپ باور کریں یا نہ کریں مگر یہ واقعہ ہے کہ اس عالم میں بارہا میں نے برجیوں سے باتیں کی ہیں اور جب کبھی نگاہ تاج کے گنبد خاموش کی طرف اٹھائی ہے تو اس کے لبوں کو ہلتا ہوا پایا ہے:
تو چندار کہ ایس قصہ ز خود میگویم
گوش نزدیک لبم آر کہ آوازے ہست
(غبار خاطر: ص259)
مولانا کا رومانی ادب کس طرح رومانی کشادگی پیدا کرتا ہے اور کس طرح سکون و راحت اور مسرت بخشتا ہے اس کا اندازہ اس اقتباس سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ آسمان، چاند اور ستاروں کا تحرک، رات کی سیاہی کے اندر سے عناصر کی سرگوشیوں کا آہنگ، درختوں اور میناروں اور گنبد تاج وغیرہ کی جنبشیں، ان سے ایک دلکش پر اسرار فضا بنتی ہے، ان تمام پیکروں کا آہنگ محسوس ہونے لگتا ہے۔جمالیاتی حس کی بیداری بھی ہے اور اندرونی وجدانی زندگی سے ابھرے ہوئے تاثرات بھی ہیں۔ مولانا نے اس سحر آمیز اور سحر آفریں فضا کی تشکیل اس لیے کی ہے کہ وہ ماضی میں اترنا چاہتے تھے۔ ماضی میں موسیقی اور اس کے حسن کو ٹٹولنا چاہتے تھے، یہ اقتباس دراصل موسیقی کی تاریخ کا ابتدائیہ ہے۔ موسیقی کی تاریخ اور ماضی میں اترتے ہوئے ہر جگہ اپنی بصیرت اور بلند نگہی کا ثبوت دیتے ہیں۔ حسن پسند رومانی ذہن ماضی کے جمال کے تئیں بیدار ہے۔ حجازیوں کا ذوق موسیقی، ہارون الرشید کی شبستانِ طرب میں اسحاق موصلی اور ابراہیم بن مہدی کے مضرابوں کا آہنگ، مصر کی مغنیہ طائرہ کی آواز، ام کلثوم کی فنکاری، ان کے ساتھ قدیم یونانیوں کا ذوق، ہندوستانی موسیقی اور ڈرامے کا فن، یونانی فن موسیقی پر عربی میں کتابوں کی تالیف، امیر خسرو اور ان کے راگ، ملتان، ایودھن، گور اور دہلی کے خانقاہوں میں موسیقی کی سحر آفریں فضائیں، خلجی اور تغلق کے درباروں میں ہندوستانی موسیقی کا ذوق، رس، تار، سازگری، ایمن، خیال، دھرپد، مالوا، بنگال اور گجرات میں راگ راگنیاں، تان سین دربار اکبری اور دربار جہانگیری کے موسیقار، شاہ جہاں کے دور میں موسیقی کی دھوم، شیخ جمالی اور شیخ گدائی۔ مولانا کی تحریر سے یہ سب افسانوی کردار کی طرح ابھرتے اور ماضی کی عظمت کے حسن کا احساس دلاتے ہیں۔ بعض کتابوں سے چند واقعات پیش کیے ہیں کہ جن سے دلچسپی بڑھ جاتی ہے، یہ نغمے کا احساس اور احساس آہنگ ہے جو مولانا کے رومانی ذہن کوموسیقی کی تاریخ تک لے جاتی ہے، کہتے ہیں”…موسیقی کا ذوق اور تاثر جو دل کے ایک ایک ریشہ میں رچ گیا تھا دل سے نکالا نہیں جاسکتا تھا اور آج تک نہیں نکلا”۔ انہوں نے موسیقی کی کوئی تاریخ بیان نہیں کی ہے، بلکہ اپنے مطالعے اور تجربے سے حاصل کی ہوئی روشنی کی کرنوں کو بکھیر دیا ہے۔”چڑیا چڑے کی کہانی” رومانی تمثیلیت کی پیاری سی مثال ہے۔ گہرے مشاہدے کی وجہ سے رومانی ذہن نے لطف، انبساط عطا کیا ہے، بے تکلفی اور بے ساختگی نے اس تمثیلی افسانے کے جاذبِ نظر بنا دیا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post