ادب کی تعلیم کا مسئلہ

از: احمد ندیم قاسمی

ادب میں نقطۂ نظر کے اختلاف سے شاید ہی کسی کو انکار ہو، مگر جب اس اختلاف کی بنیادیں ادب کی بجائے غیر ادبی مصالح پر استوار ہوتی ہیں تو یہی تعمیری اور تخلیقی اختلاف جنگ و جدل میں بدل جاتا ہے۔ بد قسمتی سے ان دنوں اس “ادبی” جنگ و جدل کا رواج بہت عام ہو چلا ہے اور یہ طرزِ عمل ادبی مسائل کی متوازن جانچ پرکھ کے لیے سخت مضر ہے۔ بہرحال یہ ادیبوں کا مسئلہ ہے اور وہ اسے طے کرتے رہیں گے۔ لیکن اگر ادبی مسائل سے متعلق اس منفی اندازِ فکر کے سائے ادب کی تعلیم دینے والوں پر بھی پڑنے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کی ذہنی تخریب کے درپے ہیں اور اپنے بعض نہایت محدود بلکہ ذاتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ملک کے ادبی مستقبل کو داؤں پر لگا رہے ہیں۔
یہ تو یقیناً قطعی ضروری نہیں ہے کہ اگر ادب کا ایک استاد غالب کے فکر و فن کا پرستار ہے اور وہ میر و مومن کو غالب سے بڑا شاعر قرار نہیں دیتا تو اس سے جواب طلبی کی جائے کہ وہ غالب کو کیوں پسند کرتا ہے، اور میر و مومن کو کیوں اس حد تک پسند نہیں کرتا۔ البتہ اس استاد سے ہم یہ توقع ضرور رکھیں گے کہ وہ غالب کی پرستاری کے جوش میں میر و مومن کے فکر و فن کی خوبیوں کو فراموش نہیں کر دے گا۔ اور اگر کوئی اس کا طالب علم میر یا مومن کے حق میں مدلل رائے دینے کی کوشش کرے گا تو اسے سکون سے سنے گا۔ بعینہ اگر کسی استاد کی رائے میں میر سے بڑا شاعر اب تک پیدا نہیں ہوا تو وہ میر کی عظمت کا محل غالب کی کلی مذمت پر استوار نہیں کرے گا اور تاریخِ ادب کے مطالعے نے اس بتایا ہو گا کہ جن اہلِ قلم کی ناموری کے قصر دیگر اہلِ قلم سے نفرت کی بنیادوں پر اٹھائے گئے، ان سے چند برس بعد نہ صرف یہ مصنوعی ناموری چھن گئی بلکہ ناموری کو غصب کرنے کی سازش بھی بے نقاب ہو گئی۔ یقیناً ہر شخص کی پسند اور ناپسند کا ایک اپنا معیار ہوتا ہے۔ ادب کا استاد بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں ہے، لیکن استاد پر بھی یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند کو طلبا پر مسلط نہ کرے بلکہ انھیں فن کی تحسین کے بنیادی اصول سمجھانے کے بعد انھیں اپنی اپنی انفرادی افتادِ مزاج کے مطابق کسی فیصلے تک پہنچنے دے۔ طلبا کے یہ فیصلے استاد کی ذاتی پسند اور ناپسند سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں کہ فن کا تنوع اور ادب کی رنگا رنگی اسی تخلیقی اختلافِ رائے سے قائم ہے، لیکن اگر کوئی استاد طلبا کے آزادانہ فیصلوں کو اپنی ہتک پر محمول کر لیتا ہے اور خفا ہو جاتا ہے کہ اس کے شاگردوں نے اس کے ادبی معیاروں پر صاد کیوں نہیں کیا تو معاف کیجیے، وہ استاد کے منصب کے لائق نہیں ہے۔
جن دنوں ادب کسی تحریک کے نام سے بھی نا آشنا تھا، ان دنوں بھی ادب میں مختلف تحریکیں چلتی رہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں یہ تحریکیں کسی بڑی شخصیت سے کسبِ فیض کرتی تھیں اور بیسویں صدی کی ادبی تحریکوں نے شخصیتوں کی بجائے ادبی نظریوں اور مسائل زندگی کے بارے میں خاص رویوں کو اپنا رہنما بنایا۔ بہرحال ان تحریکوں سے گھبرانا یا مختلف مکاتیبِ فکر کے ہجوم میں بوکھلا جانا کسی بھی ادیب یا ادب کے استاد کو زیب نہیں دیتا۔ خاص طور سے ادب کے استاد کا تو فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ادب کی ہر تحریک کا مطالعہ غیر جانبداری سے کرے اور انتہائی “ناوابستگی” (Detachment) کے ساتھ ان کی خوبیوں اور خامیوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لے۔ اس صورت میں اسے اپنی رہنمائی اس عالمانہ وقار کے سپرد کر دینی چاہیے جسے تصویر کے دونوں رخ دیکھے بغیر چین ہی نہیں آتا۔ اندھیرے کے بغیر روشنی اور سیاہی کے بغیر سفیدی کا تصور ممکن ہی نہیں۔ انسانی ادراک کا تو یہی کمال ہے کہ وہ سوچے سمجھے اور دیکھے بھالے اور جانچے پرکھے بغیر کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتا۔ چناںچہ طلبا کے شعور و ادراک کے گرد حصار کھڑے کرنے کی بجائے ادب کے استاد کا فرض ہے کہ اگر ابتدائی تربیت نے یہ حصار کھڑے کر رکھے ہیں تو انھیں گرا دے اور نئے حصار قائم کرنے کی بجائے طلبا کو کھلی فضا کی وسعتوں کا سامنا کرائے تاکہ وہ اپنی بصیرت کو کام میں لائیں، اپنے منطقی استدلال سے اشیا کو پرکھیں اور جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے، اپنے فیصلوں تک پہنچیں۔ اب اس طرح استاد ان فیصلوں کو ذاتی معیاروں کی بجائے ادب کے مسلمہ معیاروں سے پرکھے گا۔ اور طلبا پر ان کی رسائیاں اور نارسائیاں واضح کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بہت ممکن ہے کہ اس دلچسپ بحث و تمحیص میں اس پر بعض اپنی نارسائیاں بھی واضح ہو جائیں کہ اچھا استاد تو بہرحال عمر بھر ایک طالب علم ہی رہتا ہے۔
مگر ہمارے ہاں یہ ایک عجیب سلسلہ چل پڑا ہے کہ ادب کے اساتذہ بھی اپنے آپ کو ادب کی کسی نہ کسی تحریک سے وابستہ کرنے لگے ہیں۔ یہ بھی کوئی غلط بات نہیں مگر اس وقت یقیناً غلط ہو جاتی ہے جب استاد اپنی اس وابستگی کو اپنے طلبا پر مسلط کرنے لگے۔ یوں وہ بے خیالی میں ایک ادبی آمر کا کردار ادا کر رہا ہو گا اور بھول جائے گا کہ ادیبوں کی دنیا تو قلندروں کی دنیا ہے، جہاں فن کی تحسین فنکاروں کے سماجی مرتبہ و مقام کے آئینے میں نہیں کی جاتی بلکہ فن اور محض فن کی روشنی میں کی جاتی ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں کا ہر فقیر اپنی اپنی نگری کا بادشاہ ہے۔ اس صورت میں ادب کے استاد کو طلبا کے سامنے جانے سے پہلے کسی ادبی تحریک کے ساتھ اپنے رشتوں کو اسٹاف روم میں چھوڑ آنا چاہیے۔ اس حد تک ناوابستگی شاید ممکن نہیں ہے کیوںکہ استاد کی شخصیت، اسٹاف روم یا کلاس روم میں، بہرحال ایک ہی رہتی ہے اس لئیے استاد کا فرض یہ ہونا چاہیے کہ وہ طلبا کی انفرادیتوں کو پنپنے کا موقع دے اور اپنی ادبی وابستگی کے اعلان کو اس وقت تک ملتوی رکھے جب تک طلبا مختلف ادبی تحریکوں سے متعارف ہونے کے بعد اپنا نقطۂ نظر اختیار کرنے اور استاد کے ساتھ بحث میں حصہ لینے کے قابل نہ ہو جائیں۔ بصورتِ دیگر استاد اپنی انا کو تو یقیناً تھپک لے گا لیکن وہ نئی نسل کو مسلح کئے بغیر ایک ایسی دنیا میں دھکیل دے گا جہاں قدم قدم پر اس کے یقینوں اور روایتوں اور کلیوں پر حملے ہونگے اور یہ نسل اپنی مدافعت نہیں کر سکے گی کیوںکہ اس کا ذہن تعصبات کے سنگین حصاروں میں جکڑا ہو گا، اس طرح وہ ذہنی انتشار جنم لے گا جس کی جھلکیاں آجکل ہمیں نظر آ رہی ہیں۔ یعنی ادیب کو معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور لا یعنیت ادبی فیشن میں شامل کی جانے لگی ہے اور جذبہ و خیال قابو میں نہیں آتے تو ادیب الفاظ پر غصہ نکالنے لگا ہے کہ یہ گھس گئے ہیں اور کثرتِ استعمال سے بے معنی ہو گئے ہیں۔ اس صورتِ حال کا تجزیہ کیجیے تو اصل وجہ وہی نکلے کہ نئی نسل پوری طرح مسلح نہیں ہے۔
ادب کے استاد کو ایک نظریاتی وقار بھی برقرار رکھنا چاہیے اور مرعوب تو اسے کسی صورت نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے یاد ہے، ادب کے ایک پرانے استاد نے ایک بار اردو کے نئے نقادوں پر ایک تنقیدی مقالہ لکھا، مگر ایک ایسے نئے نقاد کے نام تک کا حوالہ دینا مناسب نہ سمجھا جو استاد کے نظریات سے متفق نہیں تھا، مگر جس نے اردو تنقید میں نئی راہیں کھولی تھیں۔ کچھ عرصے کے بعد یہی نقاد ایک ادبی رسالے کا ایڈیٹر ہو گیا تو ادب کے اسی استاد نے نئے نقادوں کے بارے میں ایک اور مقالہ رقم فرمایا جس میں اس نئے نقاد کا ذکر سر فہرست آیا۔ بدقسمتی سے یہ رسالہ زیادہ دنوں نہ چل سکا اور اس کے بعد جب ہم نے ادب کے اس استاد کی ایک تقریر سنی تو نئے نقادوں کے تذکرے میں وہ اس نقاد کو پھر سے گول کر گیا۔ یہ روش عام یقیناً نہیں ہے لیکن بعض عناصر کی بے یقینی اور بے وقری کی غمازی ضرور کرتی ہے۔ کسی ادبی رسالے کی ادارت اتنا بڑا منصب نہیں تھا کہ ادب کا استاد اس سے مرعوب ہو جاتا اور کوئی ادیب کسی رسالے کا مدیر نہیں ہے تو یہ کوئی اتنی بڑی محرومی نہیں ہے کہ وہ اپنے حقوق ہی کھو بیٹھے۔ ادب کے استاد کو ادیب کے صرف ادب کو پرکھنا چاہیے اور اس چمک دمک سے اپنی آنکھوں کو خیرہ نہیں کر لینا چاہیے، جس کا ہمارے ہاں کے بعض ادبی عناصر نے اپنی شخصیتوں کے اردگرد اہتمام کر رکھا ہے، ممکن ہے اس طرح وہ اپنی بعض مصلحتوں کو پورا کر لیتا ہو مگر وہ اپنی طلبا کی گمراہی کا بھی ارتکاب کرتا ہے اور انھیں اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے کہ جو کچھ وہ مصلحت کے دباؤ کے تحت کہہ رہا ہے، وہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ادب کا استاد، ادبی مسائل اور ادبی شخصیتوں کے بارے میں مسلسل برسوں تک وہی باتیں دہراتا چلا جائے گا جو اس سے پہلے کسی نقاد نے لکھی تھیں۔ اس طرزِ عمل سے ادب میں تلاش و جستجو کا عنصر غائب ہو جاتا ہے اور پٹی ہوئی لکیر کو پیٹتے رہنے کا رجحان شروع ہوتا ہے جو ادبی تنقید کے جمود اور اس کے بعد موت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ یقیناً ماضی کی ادبی تحریریں ہم سب کی رہنمائی کرتی ہیں، مگر خدا نے ہمیں اپنے دل و دماغ بھی تو عطا کر رکھے ہیں جن سے کام لینا ہمارا فرض بھی ہے اور عبادت بھی۔ ادب کا استاد اپنے اعلٰی منصب کے ساتھ صرف اس طرح انصاف کر سکتا ہے کہ جن اہلِ قلم کے بارے میں اسے طلبا کو بتانا ہے، انکا بالاستیعاب مطالعہ کرے۔ ان کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے، اس کے بعد بے شک اپنی آراء کا مقابلہ ماضی کے نقادوں کی آراء سے کرے، مگر مرعوب ہو کر نہ کرے بلکہ اس یقین کے ساتھ کرے کہ ماضی کے نقادوں سے کوتاہیاں بھی سرزد ہو سکتی ہیں۔ اور ہر بڑا فنکار ہر دور میں نئے سرے سے دریافت کیا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت سے روگردانی کا نتیجہ یہ ہے کہ فیض اور راشد کے ساتھ، ایک ہی سانس میں مجاز اور جذبی کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے، یہ ذکر برسوں سے کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حال آںکہ مجاز اور جذبی بیسیوں دیگر شعرا کے مقابلے میں اس پائے کے شاعر نہیں ہیں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ مصروفیتیں بڑھ گئی ہیں، نئی زندگی میں تندی اور تیزی آ گئی ہے، مطالعے کا وقت تو شاید مل جاتا ہو مگر اس مطالعے سے اپنے اندازے مرتب کرنے کا وقت کسی کو نصیب نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا شاید میں نے ’’وقت‘‘ کا لفظ غلط استعمال کیا ہے اور مجھے یہاں ’’شوق‘‘ یا ’’لگن‘‘ کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا۔
(مئی ۱۹۶۹۔ تعلیم اور ادب و فن کے رشتے ۔ از : احمد ندیم قاسمی)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post