کُچھ کھٹی میٹھی یادیں (۳۹)


از: نیلما ناہید درانی
لاہور میں دہشت گردی کا پہلا شہید۔۔آقائ صادق گنجی
انٹرنیشنل ھوٹل میں سیما پیروز کی کتاب کی تقریب تھی۔۔لاھور کے تمام معروف شاعر ادیب جمع تھے۔۔اظہر جاوید نے ایک نورانی چہرے والے نوجوان کا تعارف کرواتے ھوئے کہا ” یہ خانہ فرھنگ ایران کے ڈائرکٹر جنرل آقائ صادق گنجی ھیں ۔
ان کو دیکھ کر خوشی بھی ھوئی مگر حیرت زیادہ ۔۔۔کیونکہ میں سمجھتی تھی آقائ صادق گنجی کوئی بزرگ ھونگے۔۔۔۔وہ اپنے اخلاق اور کردار میں واقعی بزرگ تھے۔انھوں نے اھل لاھور کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔۔۔۔اس سرسری ملاقات کے بعد کافی عرصہ ان سے کوئی رابطہ نہیں ھوا۔۔۔۔پھر ایک تقریب میں سامنا ھوا تو انھوں نے نام لے کر احوال پوچھا ۔۔۔جس پر ان کی ذہانت اور یادداشت پر حیرت ھوئی۔۔جبکہ میں دل ھی دل میں شرمندہ تھی کہ ان کو پہچان نہی پائی تھی۔
     ان کا عوامی مزاج ھر ایک سے ایسے ملنا جیسے برسوں کی جان پہچان ھواور خوبصورت لہجے میں اردو بولنا اتنا دلپزیر تھا کہ وہ لاھوریوں کے دل میں اتر گئے تھے۔ ھر کوئی ان کو اپنا دوست اور عزیز ساتھی سمجھتا۔۔۔ان میں نہ تو عہدے کا غرور تھا اور نا ھی غیر ملکی ھونے کی اجنبیت۔ جب کسی تقریب میں مدعو کرنا ھوتاٹیلی فون آپریٹر کی بجائے خود فون کرتے۔
      میں ان کے مخصوص لہجے میں ھیلو سن کر کہتی۔۔”۔کیسے ھیں گنجی بھائی؟” تو ھنس کر پوچھتے” آپ نے کیسے پہچانا ؟”۔۔۔ایک روز پتہ چلا کہ وہ ایران واپس جا رھے ھیں۔۔۔وھاں ان کو کوئی بڑی ذمہ داری ملنے والی ھے۔۔۔۔۔اب ان کے اعزاز میں الوداعی تقریبات کا سلسلہ شروع ھوا۔۔۔سرفراز سید نے اپنے گھر میں الوداعی تقریب رکھی۔۔۔۔جس میں حیات احمد خان، پرویز مراد، انکی بیوی جوائس مراد(جنہوں نے بعد میں حنیف رامے سے شادی کی ) آقائی صادق گنجی ان کی بیگم خانم اعظم اور بہت سے شاعر ادیب جمع تھے۔
    میں نے اپنی دوسری کتاب۔۔” جب نہر کنارے شام ڈھلی ” ان کو دی۔۔۔ کتاب دیکھ کر شرارت سے کہا۔۔”۔آپ کی تصویر تو بلیک اینڈ وائٹ ہے۔۔اچھی نہیں ہے۔۔” میں نے کہا” شوھر اپنی بیویوں کی ایسی ھی تصویر بناتے ھیں” جس پر سب ھنسنے لگے۔ کھانے کے بعد حیات احمد خان نے ستار پر کچھ دھنیں بجائیں۔
اس طرح کی کئی تقریبات ھوئیں۔ سب سے بڑی تقریب آواری ھوٹل میں ھوئی جس میں وزیر اعلی پنجاب غلام حیدر وائیں بھی شریک ھوئے۔ حسن رضوی نظامت کر رہے تھے۔ سب شزکا نے صادق گنجی کو سرخ گلابوں کے ھار پہنائے۔ لوگ تقاریر کر رھے تھے۔ صادق گنجی کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ھال میں موجود لوگ بھی ایک دوسرے سے اپنے آنسو چھپانے کی کوششوں میں تھے۔
خانم اعظم گنجی کو خطاب کی دعوت دی گئی۔۔وہ فارسی میں تقریر کر رھی تھیں۔۔۔مترجم خاتون کو ھٹا دیا گیا۔۔کیونکہ ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ سامعین کے دلوں میں اتر رھے تھے۔ جذبوں کےلیے کسی ترجمے کی ضرورت نہی تھی۔ یہ آنسووں اور پھولوں سے مہکتی تقریب دیر تک جاری رھی مگر سامعین میں سے کوئی بھی اٹھ کر نہیں گیا۔
دوسرے روز میں خانہ فرھنگ ایران میں ان سے ملنے گئی تو آقائی صادق گنجی دفتر میں مصروف تھے۔۔ان سے کچھ باریش لوگ ملنے آئے تھے جو ان کا کسی رسالے کے لیے انٹرویو لے رھے تھے۔ میں خانم اعظم کے پاس بیٹھی رھی۔۔ان کے دونوں بچے پاس کھیل رھے تھے۔۔میں نےخانم اعظم کو سرخ دوپٹہ اوڑھایا جو میں ان کے لیے لے کر گئی تھی۔ وہ خوش تھیں کہ واپس اپنے وطن جا رھی ھیں۔۔۔
دو روز بعد یہ منحوس خبر سنی کہ آقائی صادق گنجی شہید ھو گئے ھیں۔ کانوں کو یقین نہیں آیا۔۔۔اتنے پیارے محبت اور انسانیت کے پیکر کو کون مار سکتا ھے۔ وہ جو غیر معمولی ذھانت اور قابلیت کے مالک تھے ابھی صرف چھبیس برس کے تھے۔ انھوں نے ابھی بہت سے کام کرنے تھے۔ اپنے بچوں کو بڑا ھوتے دیکھنا تھا۔ان کو ناحق خون سے نہلا دیا گیا۔
انٹرنیشنل ھوٹل میں معصوم عابدی نے کوئی تقریب رکھی تھی۔ صادق گنجی جانا نہیں چاھتے تھےکیونکہ اس تقریب میں موسیقی کا پروگرام بھی تھا۔ انھوں نے جانے سے انکار کیا مگر حسن رضوی کے اصرار پر کہ تھوڑی دیر رک کر واپس آجائیں گےوہ آمادہ ھو گئے۔ ان کی گاڑی جونہی انٹرنیشنل ھوٹل کے گیٹ میں داخل ھوئی۔
دھشت گردوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔۔۔۔ساتھ بیٹھے حسن زضوی کو خراش تک نہیں آئی کیونکہ حملہ ھوتے ھی وہ زمین پر لیٹ گئے تھے۔۔۔معصوم عابدی بھی گولیوں کی بوچھاڑ سے بچ گئے جبکہ وہ استقبال کے لیے سیڑھیوں میں کھڑے تھے۔۔۔۔ ساری گولیاں اس خوبصورت نوجوان کو لگیں۔ جس کا دل اور روح اس کے کردار کی طرح پاکیزہ اور معطر تھا۔۔ جو صرف محبت کرنا جانتا تھا۔۔۔جو لاھور اور لاھوریوں کی محبت میں آنسو بہاتا تھا۔اس کا سرخ گلابوں والا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آرھا تھا۔ابھی ایک دن پہلے ھی تو انھوں نے مجھے قرآن پاک کا تحفہ دیتے ھوئے کہا تھا۔۔۔” اب ھماری ملاقات ایران میں ھوگی “
حسن رضوی نے اپنا نام گواھوں سے خارج کروا لیاجبکہ وہ عینی شاھد تھےاور پولیس سے اپنی حفاظت کے لیے سیکیورٹی گارڈز مانگ لیے۔
آقائی صادق گنجی کو 17 دسمبر 1990 کو لاھور میں اپر مال پر واقع انٹرنیشنل ھوٹل کے گیٹ کے پاس قتل کیا گیا تھا۔
میں غازی کمپنی میں تھی۔ وھاں سے آئی جی صاحب کےحکم پر حسن رضوی کے گھر سیکیورٹی گارڈذ بھیج دیے گئے۔
اکثر سیاسی شخصیات اور صحافیوں کو پولیس کی طرف سے سیکیورٹی گارڈز مہیا کئے جاتے ھیں جو ان کے گھروں میں ذاتی ملازموں کی طرح رھتے ھیں۔ جن کا سارا خرچہ محکمہ پولیس کے ذمہ ھوتا ھے ۔تھانوں میں نفری کی کمی کی ایک وجہ۔۔۔یہ سیکیورٹی ڈیوٹی بھی ھے۔۔۔۔جو ضرورت سے زیادہ۔۔۔۔۔ ذاتی تعلقات پر فراھم کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔
حسن رضوی مجھے جب بھی ملتے یہ کہتے۔۔۔تم نے مجھے سیکیورٹی گارڈز فراھم کر کے بہن ھونے کا حق ادا کر دیا ہے۔۔۔۔۔
میں سوچتی کاش وہ بھی دوستی کا حق ادا کر کےگواہی دے دیتےتو آقائی صادق گنجی کے قاتل کو تختہ دار تک پہنچانے میں 2001 تک انتظار نہ کرنا پڑتا۔۔۔۔
(جاری ہے)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post