کُچھ کھٹی میٹھی یادیں (۲)۔ از:نیلمادرانی

از: نیلما ناھید درانی

 

پاکستان ٹیلی ویژن پر اشتہار چل رھا تھاکہ اناونسرز کی ضرورت ھے۔۔۔ تعلیم کم از کم بی اے۔۔۔عمر 18 سے 25 سال کے درمیان۔۔۔۔ میرے شوھر نے میری طرف سے درخواست لکھ کر دے دی۔۔۔
جس دن انٹرویو، آڈیشن کا لیٹر آیا اُس دن میں یونائیٹڈ کرسچن ھسپتال لاھور میں داخل تھی۔ میری بیٹی “حنا” پیدا ھوئی تھی ۔
میرے شوھر کا اصرار تھا کہ مجھے آڈیشن کے لیے جانا ھے جبکہ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ میں اجازت نہیں دے سکتی ، آپ اپنے رسک پر جا سکتے ھیں ۔ بہر حال اگلے روز ، میں حنا کوسمن آباد اپنی امی کے پاس چھوڑ کر آڈیشن کے لیے پہنچ گئی۔
پاکستان ٹیلی ویژن لاھور سنٹر میں ایک ھفتہ سے آڈیشن چل رھے تھے۔400 خواتین کے آڈیشن ھوئے، جن میں سے صرف تین خواتین سلیکٹ ھوئیں۔۔۔۔۔حمیرا رسول ، شائستہ علاوالدین اور میں۔
دوسرے روز سے ھماری ٹریننگ شروع ھوگئی ، جو ٹیلی ویژن لاھور سنٹر کے جنرل مینجر زمان خان کی بیگم رعنا سید کروا رھی تھیں۔
شائستہ علاوالدین کے والد پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور اداکار تھے۔ وہ آ کر شائستہ کو واپس لے گئے۔۔ ان دنوں علاوالدین کے زوال کا دور تھا۔۔۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہیں گے اب باپ کو کام نہیں ملتا تو اس نے بیٹی کو شوبز میں بھیج دیا ھے۔
ھم سے پہلے لاھور سنٹر پر تین خواتین اناونسرز تھیں۔۔۔ شوکیہ تھانوی ، جو اس وقت شوکیہ الطاف کہلاتی تھیں ، بندیا۔۔۔ جو اس سے پہلے اسی سنٹر سے روبینہ الخماش کے نام سے انگریزی میں خبریں پڑھا
کرتی تھیں۔۔۔۔اور فریحہ ، جو کشور ناھید کے شوھر یوسف کامران کی بھانجی تھیں۔
فریحہ بھی چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔اب ھم چار اناونسرز تھیں۔
پہلے پہل مجھے اور حمیرا رسول کو شام کو بچوں کے کارٹونوں کی اناونسمنٹ دی گئی۔۔۔اور پھر آھستہ آھستہ ٹرانسمیشن کے آغاز سے اختتام تک سارے پروگرام بتانے پڑتے۔۔۔۔ جن کو زبانی یاد کرنا لازمی تھا۔۔۔۔
حنا کو میری امی ، ڈیڈی اور بہن بھائی پال رھے تھے۔۔۔۔مجھے اس کے پاس جانے کا بہت کم وقت ملتا۔۔۔۔
اور پھرچار مہینہ بعد پولیس کی نوکری مل گئی۔
فائنل انٹرویو کے بعد بتایا گیا کہ اگلے دن۔۔۔۔پولیس لائنز قلعہ گوجر سنگھ رپورٹ کرنی ھے۔۔۔۔
اگلے روز صبح سویرے قلعہ گوجر سنگھ پولیس لائن پہنچی۔۔۔تمام افیسرز ، ریزرو انسپکٹر خان نواب خٹک کے کمرے میں موجود تھیں۔
وہ سب کو لے کر ایس پی ھیڈ کوارٹرز کے کمرے میں گئے۔۔۔۔۔
سعادت اللہ خان ایس پی ھیڈ کوارٹز تھے۔۔۔ڈی ایس پی لائنز سرور چیمہ تھے۔۔۔۔انسپکٹر نغمانہ زاھد بھی موجود تھیں۔۔۔۔ وہ لاھور کی لیڈیز فورس کی انچارچ تھیں۔۔۔ایک ادھیڑ عمر کی خوش شکل مضبوط قدوقامت کی خاتون بھی موجود تھیں جن کا نام زینب بٹ تھا۔۔۔وہ اے ایس آئی تھیں۔۔۔۔اور خواتین کی لائنز آفیسر تعینات تھیں۔۔۔۔
زینب بٹ پاکستان بننے کے فورا بعد پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ھوئی تھیں۔۔۔۔ان کا سارا خاندان فسادات کی نزر ھوگیا تھا۔۔۔وہ اپنی بچی کے ساتھ پاکستان پہنچنے میں کامیاب ھوئی تھیں۔۔۔جن دنوں وہ رفیوجی کیمپ میں تھیں۔۔ایک پولیس آفیسر نے ان کو پولیس میں بھرتی کروایا تھا۔۔۔اس وقت پنجاب پولیس میں انگریز دور حکومت کی چند خواتین کانسٹیبلز موجود تھیں۔۔۔۔پھر ایک نوجوان پڑھی لکھی لڑکی اے ایس آئی بھرتی ھوئی ، جو ان کی انچارچ بنی۔۔۔اس بہادر لڑکی نے اس وقت سہالہ جا کر مرد پولیس افسران کے ساتھ ٹریننگ کی تھی۔۔۔جس زمانے میں خواتین کا گھر سے نکلنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔۔۔ان کا نام۔۔۔نصرت افزا شاہ تھا۔۔۔وہ این۔اے۔شاہ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔۔۔ان کو یہ بھی اعزاز حاصل ھے کہ وہ پاکستان پولیس کی پہلی خاتون اے ایس آئی، پہلی خاتون انسپکٹر، اور پہلی خاتون ڈی ایس پی بنی تھیں۔
جب ھم نے پولیس جوائن کی ان دنوں وہ انسپکٹر تھیں اور ایس پی ایڈمن لاھور بی آئی ٹرنر کے ساتھ تعینات تھیں۔
اس روز ھمارا سب سے تعارف ھوا۔۔۔۔میرے علاوہ زاھدہ پروین سب انسپکٹر بھی شادی شدہ تھی۔۔۔اس کی بھی ایک بیٹی تھی ، جس کی عمر دو سال تھی۔۔۔
مقدس عاصمی خان۔۔۔۔لاھور کالج برائے خواتین میں میری کلاس فیلو رھی تھی۔۔۔۔
ھمیں بتایا گیا کہ تین روز بعد ھم نے چار مہینہ کے لیے ٹریننگ پر سہالہ جانا ھے۔۔۔

( جاری ھے)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post