کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۴۲)


نیلما ناہید درانی
محسن نقوی کی شہادت ۔۔۔ 15 جنوری 1996
یہ دل یہ پاگل دل میرا۔۔۔ کیوں بجھ گیا آوارگی۔۔۔۔غلام علی کی آواز میں جس نے بھی یہ غزل سنی اس کا دیوانہ ھو گیا۔۔۔۔پتہ چلا ڈیرہ غازی خان کا کوئئ شاعر ہے۔۔۔ اسد نزیر نے مجھے محسن نقوی کی کتاب” برگ صحرا” لا کر دی۔۔۔۔شاعری ایسی تھی کہ ایک نشست میں ہی ساری کتاب پڑھ ڈالی۔۔ ۔
ماورا والے خالد شریف نے خوبصورت کتابیں چھاپنے کی طرح ڈالی تو سب سے پہلے محسن نقوی کی کتابیں نہایت دلکش سرورق اور چمکتے کاغذ پر چھاپیں۔۔۔۔یہ کتابیں اپنے ظاھری اور باطنی حسن کی بدولت نہایت مقبول ہوئیں۔۔۔
محسن نقوی لاھور آچکے تھے ۔۔ اور ان کی شہرت شاعر ، سیاست دان اور ذاکر اہلبیت کی حیثیت سے ملک کے طول و ارض میں پھیل چکی تھی۔۔۔
پاکستان ٹیلی وژن کے ایک مشاعرے میں ان سے ملاقات ھوئی ۔۔گھنگھریالے بالوں، شرارتی آنکھوں اور خوبصورت لب ولہجے میں اردو بولتے ھوئے۔۔۔ وہ ھمارے محسن بھائی بن گئے۔۔۔۔ میں نے ان کو ھنستے دیکھا۔۔۔شعر سناتے دیکھا۔۔۔ مجلس پڑھتے دیکھا۔۔۔۔چوک نواب صاحب میں۔۔۔جعفر علی میر کے گھر کے باھر۔۔۔۔مجلس کے اختتام پر۔۔۔ تابوت امام حسن کو دیکھ کر علامہ عرفان حیدر عابدی کے ساتھ لپٹ کر زاروقطار روتے دیکھا۔۔۔۔
بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں انھوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے ایک ادبی پروگرام کی میزبانی بھی کی۔۔۔جب بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی تو انھوں نے ایک نعرہ لکھا۔۔۔۔” یا اللہ یا رسول، بے نظیر بے قصور،، جو پاکستان کے ھر درودیوار پر لکھا نظر آتا تھا۔۔۔
محسن نقوی نے اپنی کچھ کتابیں اپنے دستخط کے ساتھ بھی دیں۔۔ ان کی لکھائی اتنی خوبصورت تھی جیسے لفظوں کے موتی پروئے ہوں۔۔۔
مختلف کالجوں میں مشاعروں کا دور جاری ھوا۔۔۔۔ اکثر مشاعرہ ان کی صدارت میں ھوتا میں مہمان خصوصی ھوتی۔۔۔۔اپوا گرلز کالج جیل روڈ لاھور کا مشاعرہ تھا۔۔۔ مشاعرہ ختم ھوا وہ دیر تک مجھ سے باتیں کرتے رھے۔۔۔میرے ساتھ میری گاڑی تک آئے۔۔۔۔میں نے کہا اب اسلامیہ کالج کوپر روڈ پر ملاقات ھوگی۔۔۔۔اس دن وہ رکنا چاھتے تھے۔۔۔ کچھ کہنا چاھتے تھے۔۔۔ میں نے خدا حافظ کہا ۔۔۔گاڑی میں بیٹھ کر۔۔پلٹ کر دیکھا وہ وہیں کھڑے تھے۔۔ ان کے چہرے پر عجیب سی اداسی تھی۔۔۔۔
17 جنوری کو کوپر روڈ اسلامیہ کالج برائے خواتین میں مشاعرہ تھا جس کی صدارت محسن نقوی نے کرنی تھی۔۔۔ میں مہمان خصوصی تھی۔۔
15 جنوری کی شام علامہ اقبال ٹاون کی مارکیٹ میں اپنے دفتر کے قریب جب وہ پان فروش سے پان خرید رہے تھے۔۔۔۔ نامعلوم دہشت گردوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کرکے خوبصورت لفظوں سے محبت پرونے والے شاعر محسن نقوی کو شہید کردیا۔۔۔
17 جنوری اسلامیہ کالج کوپر روڈ پر سب لوگ مشاعرے میں موجود تھے۔۔ سسکیوں ،آھوں کے ساتھ محسن نقوی کو یاد کر رھے تھے۔۔۔۔میری صدارت تھی آنکھوں میں آنسو تھےآواز ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔ میں نے اپنا کلام سنانے کی بجائے محسن نقوی کا یہ شعر سنا کر اجازت چاہی۔۔
۔
ملاقاتیں ادھوری رہ گئی ھیں
کئی باتیں ضروری رہ گئی ھیں
جاری ہے
نیلما ناہید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post