کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۴۰)


نیلما ناہید درانی
دلدار پرویز بھٹی کا آخری پروگرام ۔۔۔ نیویارک میں۔
     دلدار پرویز بھٹی کی شادی کو کئی برس ھو گئے تھےمگر ان کی کوئی اولاد نہیں ھوئی تھی۔۔۔۔ وہ میرے چھوٹے بیٹے کو جب بھی دیکھتے تو حسرت سے کہتے ۔۔۔۔۔اوئے میرے والا کتھے ای ۔۔۔ (میرے والا کہاں ہے؟ )
عقیدہ اور دلدار وحدت کالونی کے سرکاری گھر میں رہ رھے تھے۔۔۔۔اللہ کو کچھ اور ھی منظور تھا۔۔۔۔دلدار بھٹی کی ایک بہن اور بہنوئی ایک حادثے میں چل بسے اور ان کے بچوں کی کفالت دلدار بھٹی کے ذمہ ھو گئی۔۔۔یہ بچے لاھور ان کے گھر میں رھنے لگے۔
     دلدار بھٹی کو اپنی ایک بہن سے بہت محبت تھی۔۔۔ وہ بہن شادی کے بعد آسٹریلیا میں رھتی تھی۔۔۔۔ دلدار اکثر کہتے ۔۔۔ میری وہ بہن بہت خوبصورت ھے۔۔۔۔ جب پاکستان آئی تو آپ سے ملواوں گا۔۔۔
دلدار بھٹی کو چلڈرن کمپلیکس کا ڈائرکٹر بنا دیا گیا۔۔۔ ھم ان سے ملنے گئے۔۔۔۔کہنے لگے۔۔۔”افسری کا اپنا ھی مزا ھے۔۔۔ نجانے کتنے بیوروکریٹ میری پوسٹنگ سے ناخوش ھوں گے۔
میرا خیال ھے نوکری کے پچیس سال پورے کر کے ریٹائرمنٹ لے لوں۔۔۔۔۔انیسواں سکیل تو مل ھی گیا ھے۔۔”۔
میں نے کہا۔۔۔”نہیں آپ کو نوکری پوری کرنی چاھئے نجانے اور کتنی ترقیاں آپ کی منتظر ھوں”
میں ان دنوں ٹریفک ٹریننگ سکول میں ڈپٹی کمانڈنٹ تھی۔۔۔۔ایس پی شمیم خان کمانڈنٹ تھے۔۔۔۔ نہ ان کو مجھ سے کوئی شکایت تھی۔۔۔ نہ ھی مجھے ان سے کوئی شکوہ تھا۔۔
وہ بہت اچھے اور نصیحت آموز واقعات سناتے رہتے تھے۔
میں نے اپنی تیسری کتاب بھی شائع کروا لی تھی۔۔۔” تمہارا شہر کیسا ھے۔”
ان دنوں ھرسال پہاڑوں کی سیر کو بھی جانے کے مواقع ملے۔۔۔۔ سوات ، بدین، مدائن، کالام،میاں دم،گلگت، ھنزہ ، کاغان، ناران، شوگران، کیلاش، چترال، دیر، لواری ٹاپ۔
لیکن اس کتاب کی پہلی نظم کراچی کے بارے میں تھی۔۔۔۔۔ وہ روشنیوں کا شہر جو مجھے ھمیشہ محبوب رھا ھے۔۔۔ لیکن مجھے وھاں جانے کا موقعہ بہت کم ملا۔۔۔۔۔۔
ایک دن آئی جی پنجاب عباس خان سکول کے وزٹ پر آئے۔۔۔۔ تو ایس پی شمیم خان نے ان سے میری بہت تعریف کی۔۔۔۔
آئی جی پنجاب عباس خان بہت پروقار اور پر شکوہ شخصیت کے مالک تھے۔۔۔ ان کے گرے بال اور بڑی بڑی گرین آنکھیں۔۔۔ سرخ وسفید رنگت ۔۔۔پولیس یونیفارم میں ایسی وجاھت اور دبنگ لہجہ۔ میں نے کبھی کسی اور افسر میں نہیں دیکھا ۔۔۔
ایک روز گلوکارہ ریشماں مجھے اس آفس میں بھی ملنے آگئیں۔۔۔۔ انھوں نے اپنے بیٹے سانول کا ڈرائیونگ لائسنس بنوانا تھا۔
وہ مجھے ڈھونڈتی ھوئی قربان لائن پہنچی تھیں۔۔۔۔ایس پی شمیم خان نے ان کو اپنے آفس میں بٹھایا۔۔۔۔اور حسب عادت ان کو بھی ریشماں باجی کہہ کر ان کے گیتوں کی تعریف کی۔۔۔۔جس پر ریشماں نے ھمیں کئی گیت سنائے۔۔۔۔۔ ریشماں کی آواز ایسا خداداد عطیہ تھی کہ ان کو کسی موسیقی کے سہارے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی خوبصورت گلے۔۔۔۔۔ کو آخر کار کینسر ھوگیا۔۔۔۔ جو 2013 میں ان کی رحلت کا سبب بنا۔
دلدار بھٹی اور نصرت فتح علی خان۔۔۔ شوکت خانم کینسر ھسپتال کے فنڈ ریزنگ پروگرام میں دوسرے ملکوں میں جانے لگے۔۔۔۔۔ 1994 میں نیویارک میں شوکت خانم کینسر ھسپتال کے لیے ایک فنڈ ریزنگ پروگرام ھوا۔۔۔۔جس کی کمپیرنگ دلدار پرویز بھٹی نے کی۔۔۔نصرت فتح علی خان کی آواز کے شیدائیوں نے بھرپور حصہ لیا۔۔۔۔ اگلے دن دلدار بھٹی کی پاکستان کے لیے واپسی تھی۔۔۔۔
سفر سے ایک رات قبل دلدار بھٹی دماغ کی شریان پھٹنے سے قومے میں چلے گئے اور اگلے روز انتقال کر گئے۔۔۔۔
ان کا تابوت پاکستان وحدت روڈ لاھور ان کے گھر پہنچا۔۔۔۔ ان کے چاھنے والے نجانے کہاں کہاں سے ان کے سفر آخرت میں کندھا دینے کے لیے جمع ھو گئے تھے۔۔۔۔
جس گھر میں ھر وقت ان کے لطیفوں سے مسکراھٹیں بکھرتی تھیں۔۔۔۔ان کے بیڈ روم میں بیڈ پر ایک لکڑی کا تابوت پڑا تھا۔۔۔۔ جس کے شیشے میں ان کا چہرہ آنکھیں بند کیے مسکرا رھا تھا۔۔۔۔۔ لگتا تھا۔۔۔۔۔ وہ ابھی اٹھ کر کہیں گے
” میں تو تم سب سے مذاق کر رھا تھا۔۔۔۔۔ کیسا لگا “
لیکن ایسا کچھ نہیں ھوا۔۔۔ان کو وحدت کالونی کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔۔۔۔
چند روز بعد۔۔۔۔وزیر اعلی پنجاب منظور وٹو ان کے گھر تعزیت کے لیے آئے۔۔۔دلدار بھٹی کی آسٹریلیا والی بہن بھی آچکی تھی۔۔۔۔۔جو ھو بہو اپنے بھائی کی ھم شکل تھی۔۔۔۔
دلدار پرویز بھٹی کی وفات 30 اکتوبر 1994 کو ھوئی تھی۔۔۔۔
کچھ دن بعد امجد اسلام امجد کو چلڈرن کمپلیکس کا ڈائرکٹر بنا دیا گیا۔۔۔۔۔
(جاری ہے)
نیلما ناہید درانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post