کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(۴)


از: نیلماناھیددرانی
عابدعلی اورحمیرا چوھدری کی شادی۔۔۔اور حناکے لیے بہاولپورکاتحفہ
ان دنوں پی ٹی وی لاھور سنٹر کا ماحول بڑا دوستانہ تھا۔ جنرل مینجر زمان خان اورپروگرام مینجر اختر وقار عظیم تھے۔ ہروڈیوسروں میں یاور حیات، نصرت ٹھاکر، فرخ بشیر اور رفیق وڑائچ تھے۔ میک اپ روم میں صدیقی صاحب کے ساتھ محمد خان، شاھجہان، پرویز ، ظہیر اور دو خواتین ثریا اور گوھر تھیں ۔
ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ میں شہناز پروین ، سحرنصرت اور ریحانہ تھیں ۔
ان دنوں مقبول ترین ڈرامہ جھوک سیال کی ریکارڈنگز ھوتیں ، جس کے ھیرو عابد علی اور ھیروئن حمیرا چوھدری تھیں۔ حمیرا اچھی اداکارہ ھونے کے ساتھ بہت اچھی گلوکارہ بھی تھیں۔
جس دن اس ڈرامہ کی آخری قسط ریکارڈ ھوئی، اسی دن عابد علی ، حمیرا چوھدری کے ساتھ کوئٹہ بھاگ گیا جہاں انھوں نے شادی کر لی۔ حمیرا چوھدری کا تعلق لاھور ھیرا منڈی کے علاقے سے تھا۔ ھیرا منڈی میں ھلچل مچ گئی ان کی لڑکی اغوا ھوئی تھی۔ انھوں نے بہت شور مچایا۔ ان دونوں کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی لیکن ان کی کوئٹہ تک رسائی  نہ ھو سکی اورکچھ دن کے بعد یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔
میری پولیس ٹریننگ اور ٹی وی اناونسمنٹ جاری تھی ،ھفتہ میں ایک یا دو بار ھی حنا سے ملنے کا موقع ملتا۔جب میں اناونسمنٹ کر رھی ھوتی تو میری قمیض دودھ کے بہاو سے گیلی ھو جاتی ، جس سے مجھے اندازہ ھوتا کہ حنا کو بھوک لگی ھو گی۔ ان دنوں اناونسرز کو دوہٹہ پھیلا کر اوڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ تو خیر تھی کہ ٹیلی ویژن ٹرانسمیشن بلیک اینڈ وائٹ ھوتی تھی اورپتہ نہیں چلتا تھا۔ میں نے ساڑھیاں پہننی شروع کر دیں۔ ساڑھی ویسے بھی میرا پسندیدہ ترین لباس ھے۔۔
حنا غیر معمولی طور پر خوبصورت تھی۔ جب پہلی بار اس کو میں نے اپنی ساس کی گود میں دیا تھا تو انھوں نے کہا تھا۔۔۔” مر جانی کنی سوھنی اے ”
دلدار پرویز بھٹی نے دیکھ کر کہا تھا ” اس کے لیے تو کسی انگریز کا رشتہ ڈھونڈنا پڑے گا ”
میں ان دنوں پنجاب یونیورسٹی جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں ایم اے فائنل کی طالبہ بھی تھی۔ میرا ایک کلاس فیلو جس کا تعلق بہاولپور سے ھے اور اب سینئر صحافی ھیں اسلم ملک ، حنا کے لیے بہاولپور کی کڑھائی والے دو فراک سلوا کرھمارے گھر آیا لیکن ھم گھر پر موجود نہیں تھے۔ مجھے گھر جانے پر میری ساس نے وہ پیکٹ پکٹرایا جس ہر لکھا تھا۔۔۔۔اپنی بھانجی کے لیے۔ وہ اتنا قیمتی اور خوبصورت تحفہ تھا۔ جس نے مجھے آبدیدہ کر دیا۔
شکریہ اسلم ملک۔ یہ وہ شکریہ ھے جو میں اس وقت ادا نہیں کر سکی تھی۔۔۔۔
(جاری ھے)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post