ہجرت (۱۴اگست ۱۹۴۷ء)

شاعر:علیم ناصری

میں نے تسبیح کے شیشے میں مدینہ دیکھا
خاتمِ خالقِ عالم کا نگینہ دیکھا

سبز گنبد کے ضیابار منارے دیکھے
اپنی پلکوں پہ چمکتے ہوئے تارے دیکھے

دوسری سمت ادھر بیت ِحرم کا منظر
ارضِ بطحا پہ دکھائی دیا اللہ کا گھر

ان مناظر نے مری رُوح کو بے تاب کیا
دل کو بے چین کیا، آنکھ کو بے خواب کیا

میرے کانوں میں صدا آئی کہ بطحا کو چلیں
کارواں جاتا ہے، آئو چلو طیبہ کو چلیں

آئو فردوس درآغوش گلستاں کو چلیں
آئو آفاق بداماں چمنستاں کو چلیں

میں نے جمنا کے سحر بیز کنارے چھوڑے
بندرابن کے سحر خیز نظارے چھوڑے

نہ دھرے کان کنھیا کی مُدھر تانوں پر
ڈالی نفرت کی نظر رام کے استھانوں پر

میں نے بے فیض برہمن کی گدائی چھوڑی
میں نے پتھر کے خدائوں کی خدائی چھوڑی

میں نے جھٹلا دیا ہر وید کو رامائن کو
میں نے ٹھکرا دیا ہر کاٹھ کے نارائن کو

مہابھارت کے اساطیر کا بطلان کیا
ہر مہابیر سے تفریق کا اعلان کیا

میں نے جانا کہ مسلماں کا تہوُر جاگا
یعنی پھر ملت بیضا کا تصوُر جاگا

جب چلا میں تو تعاقب میں شکاری لپکے
برچھیاں لے کے اہنسا کے بچاری لپکے

وار پر وارکیے اور مجھے صد لخت کیا
ریزہ ریزہ کیا، صد پارہ مرا رخت کیا

تن پہ ملبوس، جگر میں نہ لہو باقی ہے
میرے ہونٹوں پہ فقط نعرہ ٔہُو باقی ہے

ٹکڑے گرتے گئے کشمیر سے کیماڑی تک
پھیلے خیبر سے چٹاگانگ و بروباڑی تک

رہیں بیدار مگر رنج و محن میں آنکھیں
منتقل ہو گئیں ہر مُوے بدن میں آنکھیں

میں نے دیکھا کہ وہ ماحول ہی تبدیل ہوا
میری منزل کا نشاں کہر میں تحلیل ہوا

قافلہ ٹوٹ گیا اور مسافر بھٹکے
دشت ِپرُخار ملا، راہِ ہدیٰ سے ہٹ کے

دانہ دانہ ہوا تسبیح کا شیرازہ بھی
رہبروں کے رُخِ انور سے ہٹا غازہ بھی

ہر قدم پر یہاں قزاق نمودار ہوئے
وارث ِتاج بنے، سیّد و سردار ہوئے

ایک سے ایک نئے ہرزہ سرا آنے لگے
مجھ کو وعدوں کے مُدھر گیت سے بہلانے لگے

اک نے دکھلائی مجھے رنگ ِبہاراں کی جھلک
جام و مینا کی جھلک، رقصِ نگاراں کی جھلک

اک نے دکھلائی جو تہذیب کے خوابوں کی جھلک
اک نے دکھلائی تمدن کے سرابوں کی جھلک

اک نے دکھلائے مجھے نانِ جویں کے ٹکڑے
ہو گئے جن کے عوض میری زمیں کے ٹکڑے

میری آنکھوں نے یہ منحوس نظارا دیکھا
اپنی مسجد کا زمیں بوس منارا دیکھا

میں یہاں پیٹ کی خاطر تو نہیں آیا تھا
میرا ایماں، مرا قرآن مجھے لایا تھا

میرا ایماں نہیں بِک سکتا شکم کی خاطر
جو مرے پاس ہے، حاضر ہے حرم کی خاطر

میری ہجرت کا سفر اب بھی یونہی جاری ہے
مجھ پہ طیبہ کی محبت کا نشہ طاری ہے

منتظر ہوں کہ کوئی راہ نما آئے گا
سُوے منزل جو مجھے کھینچ کے لے جائے گا

دوستوں نے مجھے یثرب میں بٹھا رکھا ہے
اور مدینے کا سفر کل پہ اٹھا رکھا ہے

اب یہ حالت ہے کہ مصروفِ دعا رہتا ہوں
اپنے اللہ سے دن رات یہی کہتا ہوں

یا الٰہی مرے یثرب کو مدینہ کر دے
میرے اس کانچ کے ٹکڑے کو نگینہ کر دے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post