Poetry نظم

کنوارے لفظ


شاعر: محمد جاوید انور
مجھے کچھ بے وزن سے
شعر کہنے ہیں
مجھے تم اذن دو
کہہ دوں
کہ جو کچھ دل میں ہے
ہر قید سے آزاد ہو کر
بول دوں
جو کچھ
کہ میری روح کی پاتال میں
قیدی پڑا ہے
ہاں سنو!
کچھ بے وزن سے
شعر کہنے دو
مجھے تم داد مت دینا
مرے الفاظ سن لینا
سمجھ لینا
نہ ان کو چیرنا
تقطیع کرنا
اور نہ اپنی سان پر چڑھا کے
ان کو دھار دینا
بس مرے لفظوں
کو سن لینا
سمجھ لینا
مجھے تم داد مت دینا
کنوارے لفظ سن لینا
 (محمد جاوید انور)

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی