منیرنیازی کی غزلیں (۱)


منیرنیازی
اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو             
 اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور  رفتگاں کی  یاد                 
تنہائیوں  کا  زہر ہے  اور  ہم  ہیں  دوستو
لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس           
برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
پھرتے  ہیں  مثل  موجِ ہوا  شہر شہر میں                 
آوارگی کی  لہر  ہے  اور ہم  ہیں  دوستو
شامِ الم   ڈھلی  تو   چلی   درد  کی  ہوا                         
راتوں کا پچھلا پہرہے اورہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اڑرہی ہے لٹی محفلوں کی دھول         
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم  ہیں دوستو
۲۔غزل 
اپنے گھر کو واپس جاؤ رو رو کر سمجھاتا ہے
جہاں بھی جاؤں میرا سایہ پیچھے پیچھے آتا ہے
اس کوبھی توجا کردیکھواس کاحال بھی مجھ سا ہے
چپ چپ رہ کردکھ سہنے سے تو انساں مر جاتا ہے
مجھ سے محبت بھی ہے اس کولیکن یہ دستورہے اس کا
غیر سے ملتا ہے ہنس ہنس کر مجھ سے ہی شرماتا ہے
کتنے یار ہیں  پھر بھی منیرؔ اس آبادی  میں  اکیلا  ہے
اپنے  ہی  غم  کے  نشے  سے  اپنا  جی  بہلاتا  ہے
۳۔غزل 
اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
غم جدائی میں یوں کیا نہ کرو
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو
کچھ نہ ہوگا گلہ بھی کرنے سے
ظالموں سے گلہ کیا نہ کرو
ان سے نکلیں حکایتیں شاید
حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو
اپنے رتبے کا کچھ لحاظ منیرؔ
یار سب  کو  بنا لیا  نہ کرو
۴۔غزل 
ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں
جیسے رسم ادا کرتے ہوں شہروں کی آبادی میں
صبح کو گھر سے دور نکل کر شام کو واپس آنے میں
نیلے رنگ میں ڈوبی آنکھیں کھلی پڑی تھیں سبزے پر
عکس پڑا  تھا  آسمان  کا  شاید  اس  پیمانے میں
دبی ہوئی ہے زیر زمیں اک دہشت گنگ صداؤں کی
بجلی سی کہیں لرز رہی ہے کسی چھپے تہہ خانے میں
دل کچھ اور بھی سرد ہوا ہے شام شہر کی رونق سے
کتنی ضیا بے سود گئی شیشے کے لفظ جلانے میں
میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں
۵۔غزل 
دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ گر رہا
جب تک رہا میں ساتھ مرے یہ ہنر رہا
صبح سفرکی رات تھی تارے تھے اورہوا
سایا  سا  ایک  دیر تلک بام  پر رہا
میری صدا ہوا میں بہت دور تک گئی
پر میں بُلا رہا تھا جسے ، بے خبر رہا
گزری ہے کیا مزے سے خیالوں میں زندگی
دوری  کا  یہ طلسم  بڑا  کارگر رہا
خوف آسماں کے ساتھ تھا سر پر جھکا ہوا
کوئی ہے بھی یا نہیں ہے یہی دل میں ڈر رہا
اس آخری نظر میں عجب درد تھا منیرؔ
جانے کا اس کے رنج مجھے عمر بھر رہا
منیر نیازی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post