لکھا تھا شہ نے وقت کا فرمان ریت پر

شاعر: یوسف خالد
دوڑی رگِ حیات    میں تابندگی کی رو
لکھا تھا شہ نے وقت کا فرمان ریت پر
پہنچی  صبا    مدینہ     میں    سر پیٹتی ہوئی
دیکھا    جو    اہل بیت کا سامان ریت پر
نسبت کا فیض تھا کہ اسیران کے لیے
مشکل سفر بھی ہو گیا آسان ریت پر
ذرے بھی اس کا نقش قدم چومتے رہے
کیسا سبک خرام    تھا    ذیشان    ریت پر
پلنے لگی دلوں    میں شہادت    کی آرزو
جب کربلا میں لگ گیا میدان ریت پر
You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post