فتنہ


شاعر: ناصر ملک
 قیامت کو قیامت جو نہیں کہتا
وہ فتنہ ہے
خُدا کا نام لیوا بھی اگر ڈرتا ہے،
مجرم ہے
فغاں باغی،
یہ مائوں کی سسکتی گودیاں مجرم
یہ بچوں کے جلے کپڑے، کٹے اعضاء
سبھی مجرم
یہ اُجڑے گھر کے ملبے پر کھڑے
سب لوگ مجرم ہیں
یہ چلتی گولیوں کو ہاتھ سے روکیں
تو مجرم ہیں
لہو آلود کپڑوں کو کلیجے سے
لگاتی عورتیں باغی
گھروں سے موت کے ڈر سے
نکل کر چیختے لوگوں کے چہروں پر
جو دہشت ہے
یہی در اصل خطرہ امن کو لاحق ہے، فتنہ ہے
پدرکہ ڈھال بن کر اپنے بچوں کو بچاتا ہے
یہ باغی ہے
یہ ماں بے پردگی اوڑھے ہوئے جو بین کرتی ہے،
یہ کافر ہے
یہ ایمبولینس کا ہوٹر، رضاکاروں کا جتھہ،
باہمی امداد کا جذبہ بھی مجرم ہے
نہتے خوبرو مردوں کا بے بس ہو کے رو پڑنا
قیامت ہے
زُلیخائوں کا ننگے سر کسی غیبی مدد کو ڈھونڈنا
پھر چیخ کر بے ہوش ہو جانا
قیامت ہے
قیامت کفر کے انجام پر عائد ہوا کرتی ہے دنیا میں
مگر دنیا نظر انداز کرکے کھیل میں مشغول ہو تو ہو
کھلاڑی جب قیامت میں بھی
ہنستے کھیلتے ہیں تو
وہ مجرم ہیں
خدا کو ماننے منوانے کی جنگوں میں لڑتے لوگ
بھی ایسی قیامت سے
چُرا لیتے ہیں گر آنکھیں
تو وہ آنکھیں بھی فتنہ ہیں
یہ انسانی رویے جو کسی معصوم کے لاشے
پہ روتے ہیں، یہ باغی ہیں
یہ تہذیبی نمائندے اگر عورت کی پامالی
پہ روتے ہیں، تو جُرمی ہیں
نموئے زندگی پہ بحث کرتے لوگ جھوٹے ہیں
یہ مجرم ہیں
یہی ظالم درندوں کے ہی احساسِ تفاخرکی
لہو سے آبیاری کر رہے ہیں اور
فتنہ ہیں
(ناصر ملک)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post