Poetry غزل

غزل

شاعر: علیم حیدر

محبتوں میں مرا بخت نارسا بھی تھا

وہ چارہ ساز مرا زخم دیکھتا بھی تھا

ستم شناس مرے دکھ سے باخبر ہی نہیں

وہ مہرباں جو کبھی مجھ سے آشنا بھی تھا

مری مثال مجھے دے رہے تھے شہر کے لوگ

پتا چلا میں کسی دور میں بھلا بھی تھا

یہ ضبطِ رنج و الم کا صِلہ ہے ورنہ میں

جھپکتا آنکھ بھی تھا اور بولتا بھی تھا

ہمارا ڈوبنا طے تھا سو ہم تو ڈوب گئے

تمھارے پاس تو کشتی بھی ناخدا بھی تھا

یہ راہِ پاسِ وفا پاؤں چھوڑتی ہی نہیں

وگرنہ اور بھی منزل تھی راستہ بھی تھا

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں