Poetry غزل

غزل


شاعر: محمدمختارعلی
جسم میں رسمِ تنفس کا عمل جاری ہو
تم جو چھو لو تو نئے خواب کی تیاری ہو !
رات میں صبح اُمڈتی ہو کہ تم آن مِلو
نیند کی نیند ہو بیداری کی بیداری ہو
تم جو سوئے رہو ، سورج بھی نمودار نہ ہو
عکس کے شوق میں آئینے کی تیاری ہو
کتنے دلچسپ خیالوں کو جنم دیتی ہے !
وہ مری چُپ ہو کہ منظر کی سُخن کاری ہو !
نہ سہی شاعری ، پیغمبری ، مختارؔ مگر ! !
کون ہے جو مرے اِلہام سے انکاری ہو ؟
………٭………

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں