غزل

شاعر: توقیرعباس

کیا آخرت کا رنج کہ بھوکے ہیں پیٹ کے
ہم لوگ خوش ہیں آج بھی دنیا سمیٹ کے

کتنی تھی احتیاج ہمیں آفتاب کی
بیٹھے تھے کچھ پہاڑ بھی برفوں پہ لیٹ کے

مہکا ہوا تھا روحوں میں باردشبوں کا غم
ہم لوگ کاٹتے رہے دن ہاڑ جیٹھ کے

ہم سامنے تھے میز پہ اک دکھ کے ساتھ تھے
بس نقش دیکھتے رہے خالی پلیٹ کے

ٹھوکر لگی تو صف کی طرح جسم کھل گئے
اک سمت رکھ دیے تھے کسی نے لپیٹ کے

رکھا تھا رات بھر ہمیں بے چین ہجر نے
آرام ہم کو بیٹھ کے آیا نہ لیٹ کے

برسوں کا ایک زخم کہاں مندمل ہوا
بیٹھا رہا پرندہ پروں کو سمیٹ کے

کوشش تو تھی خلوص کا رشتہ نہ ختم ہو
ہم ٹکڑے جوڑتے رہے ٹوٹی پلیٹ کے

درویش لوگ ہیں، ہمیں دنیا سے کیا غرض
اک سمت رکھ چکے ہیں یہ چادر لپیٹ کے

توقیر کرچیوں میں اسے ڈھونڈتے رہو
اک آئنے میں عکس رکھے تھے سمیٹ کے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post